اس میں کیا شک ہے کہ آوارہ ہوں میں
اس میں کیا شک ہے کہ آوارہ ہوں میں کوچے کوچے میں پھرا کرتا ہوں میں مجھ سے سرزد ہوتے رہتے ہیں گناہ آدمی ہوں کیوں کہوں اچھا ہوں میں صاف و شفاف آسماں کو دیکھ کر گندی گندی گالیاں بکتا ہوں میں قہوہ خانوں میں بسر کرتا ہوں دن قحبہ خانوں میں سحر کرتا ہوں میں دن گزرتا ہے مرا احباب ...