شاعری

اس میں کیا شک ہے کہ آوارہ ہوں میں

اس میں کیا شک ہے کہ آوارہ ہوں میں کوچے کوچے میں پھرا کرتا ہوں میں مجھ سے سرزد ہوتے رہتے ہیں گناہ آدمی ہوں کیوں کہوں اچھا ہوں میں صاف و شفاف آسماں کو دیکھ کر گندی گندی گالیاں بکتا ہوں میں قہوہ خانوں میں بسر کرتا ہوں دن قحبہ خانوں میں سحر کرتا ہوں میں دن گزرتا ہے مرا احباب ...

مزید پڑھیے

ہو گئے دن جنہیں بھلائے ہوئے

ہو گئے دن جنہیں بھلائے ہوئے آج کل ہیں وہ یاد آئے ہوئے میں نے راتیں بہت گزاری ہیں صرف دل کا دیا جلائے ہوئے ایک اسی شخص کا نہیں مذکور ہم زمانے کے ہیں ستائے ہوئے سونے آتے ہیں لوگ بستی میں سارے دن کے تھکے تھکائے ہوئے مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے گو فلک پہ ...

مزید پڑھیے

ان کی صورت ہمیں آئی تھی پسند آنکھوں سے

ان کی صورت ہمیں آئی تھی پسند آنکھوں سے اور پھر ہو گئی بالا و بلند آنکھوں سے کوئی زنجیر نہیں تار نظر سے مضبوط ہم نے اس چاند پہ ڈالی ہے کمند آنکھوں سے ٹھہر سکتی ہے کہاں اس رخ تاباں پہ نظر دیکھ سکتا ہے اسے آدمی بند آنکھوں سے ہم اٹھاتے ہیں مزہ تلخی و شیرینی کا مے پیالے سے پلاتا ہے ...

مزید پڑھیے

فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھا

فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھا وہ مجھ سے انتہائی خوش خفا ہونے سے پہلے تھا کیا کرتے تھے باتیں زندگی بھر ساتھ دینے کی مگر یہ حوصلہ ہم میں جدا ہونے سے پہلے تھا حقیقت سے خیال اچھا ہے بیداری سے خواب اچھا تصور میں وہ کیسا سامنا ہونے سے پہلے تھا اگر معدوم کو موجود کہنے ...

مزید پڑھیے

خواہ دل سے مجھے نہ چاہے وہ

خواہ دل سے مجھے نہ چاہے وہ ظاہری وضع تو نباہے وہ گرچہ میں کیا مری وفائیں کیا اس کا احسان اگر سراہے وہ تاکہ بالکل نہ بھول پائے کوئی ملتے رہتے ہیں گاہے گاہے وہ ایک ہی بات ہے محبت میں چاہے میں جیت جاؤں چاہے وہ چن سکو گے نہ کوئی سمت شعورؔ راہ میں آئیں گے دوراہے وہ

مزید پڑھیے

زخم نظارہ خون نظر دیکھتے رہو

زخم نظارہ خون نظر دیکھتے رہو جو کچھ دکھائے دیدۂ تر دیکھتے رہو چشم صدف کے درد سے صرف نظر کرو کس طرح ٹوٹتے ہیں گہر دیکھتے رہو شاید کسی کا نقش کف پا چمک اٹھے اے رہنماؤ راہ گزر دیکھتے رہو گیسوئے شب سنوارنے والو کبھی کبھی آئینۂ نگار سحر دیکھتے رہو آنکھوں میں گھل نہ جائیں کہیں ...

مزید پڑھیے

ہمیں بھولا نہیں افسانہ دل کا

ہمیں بھولا نہیں افسانہ دل کا ابھی ہاتھوں میں ہے پیمانہ دل کا دھواں اٹھتا نظر آتا ہے ہر سو ابھی آباد ہے ویرانہ دل کا جہاں بکھری ہے اب خاکستر دل اسی جا تھا کبھی کاشانہ دل کا ابھی تک یاد ہیں وہ دن کہ جب تھا ہر اک آوارہ غم دیوانہ دل کا وہ امیدوں کا اک ہلکا تبسم دھڑک اٹھنا وہ ...

مزید پڑھیے

یہ غزل کی انجمن ہے ذرا اہتمام کر لو

یہ غزل کی انجمن ہے ذرا اہتمام کر لو کسی غم کو مے بنا لو کسی دل کو جام کر لو کہاں صبح غم کا سورج کہاں شام کا ستارہ اسی رخ پہ زلف بکھرے یہی صبح و شام کر لو وہ حبیب ہو کہ رہبر وہ رقیب ہو کہ رہزن جو دیار دل سے گزرے اسے ہم کلام کر لو یہ کہاں کے محتسب ہیں یہ کہاں کی مصلحت ہے جو انہیں نہیں ...

مزید پڑھیے

گلہ ترے فراق کا جو آج کل نہیں رہا

گلہ ترے فراق کا جو آج کل نہیں رہا تو کیوں بھلا یہ مستقل عذاب ٹل نہیں رہا میں کس سے التجا کروں کہاں سے ابتدا کروں دعا اہل رہی نہیں گلہ بدل نہیں رہا میں راستوں کی بھیڑ میں کہاں یہ آ گیا کہ اب کوئی بھی راستہ تری گلی نکل نہیں رہا وہ نقش پا کو دیکھ کر چلا ہو مجھ کو ڈھونڈنے اسی گمان ...

مزید پڑھیے

عمر بھر کا ہوا زیاں جاناں

عمر بھر کا ہوا زیاں جاناں ہم یہاں اور تم وہاں جاناں نیند آئی نہیں کئی دن سے خواب ہونے لگے گراں جاناں کون جانے تری مری الجھن کون سمجھے گا یہ زباں جاناں بعد تیرے یہی رہا عالم دھول ہی دھول اور دھواں جاناں تو بھی ظاہر نہیں زمانے پہ میں بھی ہوتا نہیں عیاں جاناں

مزید پڑھیے
صفحہ 4056 سے 4657