شاعری

تیری صحبت میں بیٹھا ہوں

تیری صحبت میں بیٹھا ہوں گویا جنت میں بیٹھا ہوں دیوار زنداں کے پیچھے جرم محبت میں بیٹھا ہوں ایک آواز پہ آ جاؤں گا جیسی حالت میں بیٹھا ہوں آ جاؤ دو باتیں کر لیں قدرے فرصت میں بیٹھا ہوں بیٹھا ہوں تصویر کے آگے اور حقیقت میں بیٹھا ہوں ایک جھلک دیکھی تھی اس کی اب تک حیرت میں بیٹھا ...

مزید پڑھیے

میں خاک ہوں آب ہوں ہوا ہوں

میں خاک ہوں آب ہوں ہوا ہوں اور آگ کی طرح جل رہا ہوں تہہ خانۂ ذہن میں نہ جانے کیا شے ہے جسے ٹٹولتا ہوں بہروپ نہیں بھرا ہے میں نے جیسا بھی ہوں سامنے کھڑا ہوں سنتا تو سبھی کی ہوں مگر میں کرتا ہوں وہی جو چاہتا ہوں اچھوں کو تو سب ہی چاہتے ہیں ہے کوئی کہ میں بہت برا ہوں پاتا ہوں اسے ...

مزید پڑھیے

ایسے دیکھا ہے کہ دیکھا ہی نہ ہو

ایسے دیکھا ہے کہ دیکھا ہی نہ ہو جیسے مجھ کو تری پروا ہی نہ ہو بعض گھر شہر میں ایسے دیکھے جیسے ان میں کوئی رہتا ہی نہ ہو مجھ سے کترا کے بھلا کیوں جاتا شاید اس نے مجھے دیکھا ہی نہ ہو یہ سمجھتا ہے ہر آنے والا میں نہ آؤں تو تماشا ہی نہ ہو یوں بھٹکنے پہ ہوں قانع جیسے راستوں میں کوئی ...

مزید پڑھیے

برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے

برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے ہر آدمی میں کوئی دوسرا بھی ہوتا ہے تم اپنے دیس کی سوغات ہو ہمارے لیے کہ حسن تحفۂ آب و ہوا بھی ہوتا ہے مقابلے پہ کمر بستہ ہم نہیں ہوتے اگر شکست کا خطرہ ذرا بھی ہوتا ہے تمہارے شہر میں ہے جی لگا ہوا ورنہ مسافروں کے لیے راستہ بھی ہوتا ہے وہ چہرہ ...

مزید پڑھیے

ٹوٹا طلسم وقت تو کیا دیکھتا ہوں میں

ٹوٹا طلسم وقت تو کیا دیکھتا ہوں میں اب تک اسی جگہ پہ اکیلا کھڑا ہوں میں یہ کشمکش الگ ہے کہ کس کشمکش میں ہوں آتا نہیں سمجھ میں بہت سوچتا ہوں میں میں اہل تو نہیں ہوں کہ دیکھے کوئی مگر دنیا مجھے بھی دیکھ ترا آئنا ہوں میں اکثر غرور فکر جب اترا دماغ سے میں دنگ رہ گیا کہ یہ کیا لکھ گیا ...

مزید پڑھیے

گو کٹھن ہے طے کرنا عمر کا سفر تنہا

گو کٹھن ہے طے کرنا عمر کا سفر تنہا لوٹ کر نہ دیکھوں گا چل پڑا اگر تنہا سچ ہے عمر بھر کس کا کون ساتھ دیتا ہے غم بھی ہو گیا رخصت دل کو چھوڑ کر تنہا آدمی کو گمراہی لے گئی ستاروں تک رہ گئے بیاباں میں حضرت خضر تنہا ہے تو وجہ رسوائی میری ہم رہی لیکن راستوں میں خطرہ ہے جاؤ گے کدھر ...

مزید پڑھیے

نہیں خستہ حالی پہ نا مطمئن ہم

نہیں خستہ حالی پہ نا مطمئن ہم یہی ٹاٹ مخمل یہی ٹاٹ ریشم ہم اچھی طرح جانتے ہیں یہ ناصح کہ سچائی کا اجر ہے ساغر سم کسی حال میں بھی رکھے رکھنے والا بھلا دہر میں کیا خوشی اور کیا غم نہیں اپنی غائب دماغی پہ حیرت محبت میں ہوتا ہے اکثر یہ عالم کوئی شور سا دل میں رہتا ہے برپا دما دم ...

مزید پڑھیے

مری حیات ہے بس رات کے اندھیرے تک

مری حیات ہے بس رات کے اندھیرے تک مجھے ہوا سے بچائے رکھو سویرے تک دکان دل میں نوادر سجے ہوئے ہیں مگر یہ وہ جگہ ہے کہ آتے نہیں لٹیرے تک مجھے قبول ہیں یہ گردشیں تہ دل سے رہیں جو صرف ترے بازوؤں کے گھیرے تک سڑک پہ سوئے ہوئے آدمی کو سونے دو وہ خواب میں تو پہنچ جائے گا بسیرے تک چمک دمک ...

مزید پڑھیے

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے تشریف لائیے گا ملاقات کے لئے دنیا میں کیا کسی سے کسی کو غرض نہیں ہر کوئی جی رہا ہے فقط ذات کے لئے ہم بارگاہ ناز میں اس بے نیاز کی پیدا کئے گئے ہیں شکایات کے لئے ہیں پتھروں کی زد پہ تمہاری گلی میں ہم کیا آئے تھے یہاں اسی برسات کے لئے اپنی طرف سے کچھ ...

مزید پڑھیے

چمن میں آپ کی طرح گلاب ایک بھی نہیں

چمن میں آپ کی طرح گلاب ایک بھی نہیں حضور ایک بھی نہیں جناب ایک بھی نہیں مباحثوں کا ماحصل فقط خلش فقط خلل سوال ہی سوال ہیں جواب ایک بھی نہیں ادھر کسی سے کچھ لیا ادھر کسی کو دے دیا چنانچہ واجب الادا حساب ایک بھی نہیں کتب کے ڈھیر میں نہ ہو صحیفہ ذکر یار کا تو قابل مطالعہ کتاب ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4054 سے 4657