شاعری

عذاب ہم سفری سے گریز تھا مجھ کو

عذاب ہم سفری سے گریز تھا مجھ کو پکارتا رہا اک ایک قافلا مجھ کو میں اپنی لوٹتی آواز کے حصار میں تھا وہ لمحہ جب تری آواز نے چھوا مجھ کو یہ کس نے چھین لیے مجھ سے خوشبوؤں کے مکاں یہ کون دشت کی دیوار کر گیا مجھ کو اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکی سنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ ...

مزید پڑھیے

کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا

کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا سب اجنبی ہیں ایک دل زار کے سوا اس دشت بے خودی میں کہ دنیا کہیں جسے غافل سبھی ہیں اک نگۂ یار کے سوا چہروں کے چاند راکھ ہوئے بام بجھ گئے کچھ بھی بچا نہ حسرت دیدار کے سوا عالم تمام تیرگئ درد مضمحل ہاں اک فروغ شعلۂ رخسار کے سوا ساری شفق سمیٹ کے سورج ...

مزید پڑھیے

ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے

ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے میں ڈھلتا نشہ ہوں موج طرب ابھار مجھے اے روح عصر میں تیرا ہوں تیرا حصہ ہوں خود اپنا خواب سمجھ کر ذرا سنوار مجھے بکھر کے سب میں عبث انتظار ہے اپنا جلا کے خاک کر اے شمع انتظار مجھے صدائے رفتہ سہی لوٹ کر میں آؤں گا فراز خواب سے اے زندگی پکار ...

مزید پڑھیے

ہجوم شعلہ میں تھا حلقۂ شرر میں تھا

ہجوم شعلہ میں تھا حلقۂ شرر میں تھا کب اپنا خواب میں کوئی سایۂ شجر میں تھا میں آج پھر تجھے کیا دیکھ پاؤں گا دنیا وہ شخص دیر تلک آج پھر نظر میں تھا سیہ فضاؤں میں اونچی اڑان سے پہلے کرن کرن کا اجالا سا بال و پر میں تھا خنک فضاؤں میں اس دشت غم کے آنے تک ہمارے ساتھ کوئی اور بھی سفر ...

مزید پڑھیے

جب فصل بہاراں آتی ہے شاداب گلستاں ہوتے ہیں

جب فصل بہاراں آتی ہے شاداب گلستاں ہوتے ہیں تکمیل جنوں بھی ہوتی ہے اور چاک گریباں ہوتے ہیں پر کیف فضائیں چلتی ہیں مخمور گھٹائیں چھاتی ہیں جب صحن چمن میں جلوہ نما وہ جان بہاراں ہوتے ہیں ہوتا ہے سکون قلب و جگر ہر زخم میں لذت آتی ہے او ناوک افگن تیر ترے تسکین رگ جاں ہوتے ہیں کیوں ...

مزید پڑھیے

کیوں خفا ہم سے ہو خطا کیا ہے

کیوں خفا ہم سے ہو خطا کیا ہے یہ تو فرمائیے ہوا کیا ہے حسن کیا حسن کی ادا کیا ہے اس کے جلووں کا دیکھنا کیا ہے ایک عالم ہے صرف مے نوشی نگہ مست ماجرا کیا ہے نیچی نظروں سے کر دیا گھائل اب یہ سمجھے کہ یہ حیا کیا ہے جان دینا ہے عین مقصد عشق ان کو اندازۂ وفا کیا ہے ہم سے برہم رقیب سے ...

مزید پڑھیے

جلوے دکھائے یار نے اپنی حریم ناز میں

جلوے دکھائے یار نے اپنی حریم ناز میں سجدے چمک چمک اٹھے میرے سر نیاز میں جلوۂ دید میں تری شعلۂ طور تھا نہاں آگ سی اور لگ گئی میرے دل گداز میں شوق نے کھیچ لی مرے یار کی جب نقاب رخ حسن کی روشنی ہوئی جلوہ گہہ مجاز میں عشق کی بے حجابیاں حسن کی پردہ داریاں ہونے لگی تلاشیاں ناز میں اور ...

مزید پڑھیے

ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی

ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی غائبانہ ملاقات ہوتی رہی ہم بلاتے وہ تشریف لاتے رہے خواب میں یہ کرامات ہوتی رہی کاسۂ چشم لبریز ہوتی رہی اس دریچے سے خیرات ہوتی رہی دل بھی زور آزمائی سے ہارا نہیں گرچہ ہر مرتبہ مات ہوتی رہی سر بچائے رہا صبر کا سائباں آسماں سے تو برسات ہوتی رہی گو ...

مزید پڑھیے

رہی رات ان سے ملاقات کم

رہی رات ان سے ملاقات کم مدارات خاصی ہوئی بات کم تری یاد اتنا بڑا کام ہے کہ معلوم ہوتے ہیں دن رات کم کہیں دل بہلتا نہیں شہر میں نہ بازار کم ہیں نہ باغات کم محبت میں ہوتی ہیں انسان کو شکستیں زیادہ فتوحات کم سنبھالے ہوئے ہے یہ شعبہ بھی دل اب آنکھوں سے ہوتی ہے برسات کم دماغوں کی ...

مزید پڑھیے

میں بزم تصور میں اسے لائے ہوئے تھا

میں بزم تصور میں اسے لائے ہوئے تھا جو ساتھ نہ آنے کی قسم کھائے ہوئے تھا دل جرم محبت سے کبھی رہ نہ سکا باز حالانکہ بہت بار سزا پائے ہوئے تھا ہم چاہتے تھے کوئی سنے بات ہماری یہ شوق ہمیں گھر سے نکلوائے ہوئے تھا ہونے نہ دیا خود پہ مسلط اسے میں نے جس شخص کو جی جان سے اپنائے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4051 سے 4657