عذاب ہم سفری سے گریز تھا مجھ کو
عذاب ہم سفری سے گریز تھا مجھ کو پکارتا رہا اک ایک قافلا مجھ کو میں اپنی لوٹتی آواز کے حصار میں تھا وہ لمحہ جب تری آواز نے چھوا مجھ کو یہ کس نے چھین لیے مجھ سے خوشبوؤں کے مکاں یہ کون دشت کی دیوار کر گیا مجھ کو اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکی سنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ ...