شاعری

ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن

ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن میں صحرا سے بچ کر چمن میں تو آؤں پہ صحرا سے کچھ کم نہیں یہ چمن مری زیست کی راہ تاریک تھی چاند بن کر تم آئے تو روشن ہوئی یہ رہ آج پھر تیرہ و تار ہے غالباً چاند کو لگ گیا ہے گہن ہر اک سمت ناگن کی صورت لپکتی ہوئی تیرگی سے ...

مزید پڑھیے

بجا کہ کشتی ہے پارہ پارہ تھپیڑے طوفاں کے کھا رہا ہوں

بجا کہ کشتی ہے پارہ پارہ تھپیڑے طوفاں کے کھا رہا ہوں مگر یہ اعزاز کم نہیں ہے کہ آپ ہی اپنا ناخدا ہوں کبھی تو میں نے دھنک دیے ہیں پہاڑ بھی اپنے راستے کے کبھی میں خود اپنے راستے کی مہیب دیواریں ہو گیا ہوں مجھے ہے شب خوں کی فکر لیکن انہیں ہلاکت کا ڈر نہیں ہے مرے قبیلے کے لوگ سوتے ...

مزید پڑھیے

تتلیاں رنگوں کا محشر ہیں کبھی سوچا نہ تھا

تتلیاں رنگوں کا محشر ہیں کبھی سوچا نہ تھا ان کو چھونے پر کھلا وہ راز جو کھلتا نہ تھا! تو وہ آئینہ ہے جس کو دیکھ کر روشن ہوا میں نے اپنے آپ کو سمجھا کہاں دیکھا نہ تھا! چاند بن کر تو مرے آنگن میں اترا ہے ضرور نور اتنا بام و در پر آج تک بکھرا نہ تھا! کون سے عالم میں میں نے آج دیکھا ہے ...

مزید پڑھیے

وہ کاروان بہاراں کہ بے درا ہوگا

وہ کاروان بہاراں کہ بے درا ہوگا سکوت غنچہ کی منزل پہ رک گیا ہوگا بجا کہ دل نہیں زندان بے خودی کا اسیر مگر یہ قید انا سے کہاں رہا ہوگا شعاع مہر کی نظارگی کے شوق میں چاند فلک کے دیدۂ بے خواب میں ڈھلا ہوگا کچھ ایسی سہل نہیں فن کی منفرد تخلیق خدا بھی میری طرح پہروں سوچتا ہوگا میں ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا بوجھ اٹھاؤں کب تک آخر آخر کب تک

تنہائی کا بوجھ اٹھاؤں کب تک آخر آخر کب تک یاد میں ان کی اشک بہاؤں کب تک آخر آخر کب تک کوئی نہیں ہے دنیا میں جو میرے دل کی بات کو سمجھے غیروں کو افسانہ سناؤں کب تک آخر آخر کب تک رات کی کھیتی کو سورج کی تیز شعاعیں کھا جاتی ہیں خوابوں کی میں فصل اگاؤں کب تک آخر آخر کب تک کالی رات میں ...

مزید پڑھیے

آج قسمت کا بلندی پہ ستارا کر دے

آج قسمت کا بلندی پہ ستارا کر دے جس کو ہم چاہیں اسی کو تو ہمارا کر دے جو گوارا بھی نہ ہو اس کو گوارا کر دے اس کا ہر ظلم و ستم جان سے پیارا کر دے چشم رحمت سے اگر تو جو اشارا کر دے خاک کے ذرے کو پر نور ستارا کر دے مسکرا کر اے مری جاں تو اٹھا لے پتوار موج دریا کو مرے حق میں کنارا کر ...

مزید پڑھیے

نظر اداس ہے دل موج اضطراب میں ہے

نظر اداس ہے دل موج اضطراب میں ہے ترے بغیر مری زندگی عذاب میں ہے جو اس کے دیدۂ بدمست میں ہے اے ساقی کہاں وہ نشہ و مستی تری شراب میں ہے تڑپ رہی ہے نظر جس کو دیکھنے کے لئے وہ اپنا چہرہ چھپائے ہوئے نقاب میں ہے بسا کے پیار کی خوشبو میں جس کو بھیجا تھا ابھی تک آپ کا وہ خط مری کتاب میں ...

مزید پڑھیے

کتنے سوال سب کی نگاہوں میں رکھ دیئے

کتنے سوال سب کی نگاہوں میں رکھ دیئے گھر کے سبھی چراغ ہواؤں میں رکھ دیئے یہ انقلاب گردش دوراں تو دیکھیے اجسام کیسے کیسی قباؤں میں رکھ دیئے محفل میں شعر ہی نہیں کچھ روشنی بہ دوش انوار ہم نے دل کی فضاؤں میں رکھ دیئے ہر شخص چاہتا ہے کہ ہوں اس پہ آشکار اسرار تو نے کیسے گناہوں میں ...

مزید پڑھیے

اس مریض غم غربت کو سنبھالا دے دو

اس مریض غم غربت کو سنبھالا دے دو ذہن تاریک کو یادوں کا اجالا دے دو ہم ہیں وہ لوگ کہ بے قوم وطن کہلائے ہم کو جینے کے لئے کوئی حوالہ دے دو میں بھی سچ کہتا ہوں اس جرم میں دنیا والو میرے ہاتھوں میں بھی اک زہر کا پیالہ دے دو اب بھی کچھ لوگ محبت پہ یقیں رکھتے ہیں ہو جو ممکن تو انہیں دیس ...

مزید پڑھیے

نئی غزلیں لکھوں کس کے لئے اور گیت سجاؤں کس کے لئے

نئی غزلیں لکھوں کس کے لئے اور گیت سجاؤں کس کے لئے مرا ہم دم مجھ سے روٹھ گیا اب نغمے گاؤں کس کے لئے وہ پاس جو تھا تو اس کے لئے اوروں سے بھی لڑنا پڑتا تھا اب کس کے لئے میں کس سے لڑوں اور خود کو جلاؤں کس کے لئے اک اس کے تبسم کی خاطر دکھ درد ہزاروں سہتا تھا اب کس کے لئے دکھ درد سہوں اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4028 سے 4657