ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن
ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن میں صحرا سے بچ کر چمن میں تو آؤں پہ صحرا سے کچھ کم نہیں یہ چمن مری زیست کی راہ تاریک تھی چاند بن کر تم آئے تو روشن ہوئی یہ رہ آج پھر تیرہ و تار ہے غالباً چاند کو لگ گیا ہے گہن ہر اک سمت ناگن کی صورت لپکتی ہوئی تیرگی سے ...