شاعری

نارسائی کی ہنسی خود ہی اڑاتے کیوں ہو

نارسائی کی ہنسی خود ہی اڑاتے کیوں ہو ہاتھ خالی ہے تو بازار میں آتے کیوں ہو اب بھی چاہو تو جمی برف پگھل سکتی ہے اختلافات کو بنیاد بناتے کیوں ہو وہ سمجھنے پہ ہی آمادہ نہیں ہے تو اسے اپنے احساس کا آئینہ دکھاتے کیوں ہو کل ترس جاؤ گے آنکھوں کی شناسائی کو خود کو لفظوں کے لبادے میں ...

مزید پڑھیے

میں جس کو راہ دکھاؤں وہی ہٹائے مجھے

میں جس کو راہ دکھاؤں وہی ہٹائے مجھے میں نقش پا ہوں کوئی خاک سے اٹھائے مجھے مہک اٹھے گی فضا میرے تن کی خوشبو سے میں عود ہوں کبھی آ کر کوئی جلائے مجھے چراغ ہوں تو فقط طاق کیوں مقدر ہو کوئی زمانے کے دریا میں بھی بہائے مجھے میں مشت خاک ہوں صحرا مری تمنا ہے ہوائے تیز کسی طور سے اڑائے ...

مزید پڑھیے

کتنی حسرت سے تری آنکھ کا بادل برسا

کتنی حسرت سے تری آنکھ کا بادل برسا یہ الگ بات مرا شعلۂ غم بجھ نہ سکا تیرا پیکر ہے وہ آئینہ کہ جس کے دم سے میں نے سو روپ میں خود اپنا سراپا دیکھا ایک لمحے کے لیے چاند کی خواہش کی تھی عمر بھر سر پہ مرے قہر کا سورج چمکا جب بھی احساس اماں باعث تسکیں ٹھہرا ان گنت خطروں کی آہٹ سے دل ...

مزید پڑھیے

جو ابھرے وقت کے سانچے میں ڈھل کے

جو ابھرے وقت کے سانچے میں ڈھل کے وہ ڈوبے ایک عالم کو بدل کے غم منزل تجھے شاید خبر ہو یہاں پہنچے ہیں کتنے کوس چل کے اب ان کے پاس آنسو ہیں نہ آہیں جو غم کی آگ سے نکلے ہیں جل کے زمیں کی ایک ہی جنبش بہت ہے زمیں سے آ ملیں گے یہ محل کے ہمیں نے راستوں کی خاک چھانی ہمیں آئے ہیں تیرے پاس ...

مزید پڑھیے

ہم بھی ناداں ہیں سمجھتے ہیں کہ چھٹ جائے گی

ہم بھی ناداں ہیں سمجھتے ہیں کہ چھٹ جائے گی تیرگی نور کے پیکر میں سمٹ جائے گی لوگ کہتے ہیں محبت سے تمنا جس کو میری شہ رگ اسی تلوار سے کٹ جائے گی تم جسے بانٹ رہے ہو وہ ستم دیدہ زمیں زلزلہ آئے گا کچھ ایسا کہ پھٹ جائے گی قید ہوں گنبد بے در میں مری اپنی صدا مجھ تک آئے گی مگر آ کے پلٹ ...

مزید پڑھیے

چھپائے دل میں ہم اکثر تری طلب بھی چلے

چھپائے دل میں ہم اکثر تری طلب بھی چلے کبھی کبھی ترے ہم راہ بے سبب بھی چلے نمود گل کے کرشمے سدا جلو میں رہے نسیم بن کے چلے ہم چمن میں جب بھی چلے جلاؤ خون شہیداں سے ارتقا کے چراغ یہ رسم چلتی رہی ہے یہ رسم اب بھی چلے سنا ہے جادہ نوردان صبح کے ہم راہ بہ فیض وقت کئی رہروان شب بھی ...

مزید پڑھیے

میری سوچ لرز اٹھی ہے دیکھ کے پیار کا یہ عالم

میری سوچ لرز اٹھی ہے دیکھ کے پیار کا یہ عالم تیری آنکھوں سے ٹپکا ہے آنسو بن کر میرا غم دل کو ناز ہے سلجھاؤ پر لیکن میں نے دیکھا ہے سلجھانے سے اور الجھا ہے تیری زلف کا اک اک خم دن کے بولتے ہنگامے میں اکثر سویا رہتا ہے کروٹ لے کر جاگ اٹھتا ہے رات کی چپ میں تیرا غم ہجر کے سنولائے ...

مزید پڑھیے

زمیں سے تا بہ فلک کوئی فاصلہ بھی نہیں

زمیں سے تا بہ فلک کوئی فاصلہ بھی نہیں مگر افق کی طرف کوئی دیکھتا بھی نہیں سنا ہے سبز روا اوڑھ لی چمن نے مگر ہوا کے زور سے برگ خزاں گرا بھی نہیں بہت بسیط ہے دشت جفا کی تنہائی قریب و دور کوئی آہوئے وفا بھی نہیں مجھے تو عہد کا آشوب کر گیا پتھر میں درد مند کہاں درد آشنا بھی ...

مزید پڑھیے

ہر چند مرا غم غم نادیدہ رہا ہے

ہر چند مرا غم غم نادیدہ رہا ہے سایہ سا مگر روح پہ لرزیدہ رہا ہے چبھتے ہی رہے خار الم دست طلب میں راحت وہ گل جاں ہے کہ ناچیدہ رہا ہے ڈوبے ہیں یہاں کتنی امنگوں کے سفینے طوفان کا مسکن دل شوریدہ رہا ہے بازیچۂ فردوس سے کیا بہلے گا وہ دل معراج‌‌ طرب پر بھی جو رنجیدہ رہا ہے اے منزل ...

مزید پڑھیے

ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن

ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن میں صحرا سے بچ کر چمن میں تو آؤں پہ صحرا سے کچھ کم نہیں یہ چمن مری زیست کی راہ تاریک تھی چاند بن کر تم آئے تو روشن ہوئی یہ راہ آج پھر تیرہ و تار ہے غالباً چاند کو لگ گیا ہے گہن ہر اک سمت ناگن کی صورت لپکتی ہوئی تیرگی سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4027 سے 4657