شاعری

ہم وہ پنچھی جن کے گھر سے دور بسیرے ہوتے ہیں

ہم وہ پنچھی جن کے گھر سے دور بسیرے ہوتے ہیں رات کو خواب خیال کے لشکر دل کو گھیرے ہوتے ہیں سوچ سوچ کر مر جاتی ہیں خوابوں کی تعبیریں بھی خواب جو تیرے ہوتے ہیں اور خواب جو میرے ہوتے ہیں عشق کا حاصل کچھ بھی ہو اک نسبت بھی کیا کم شے ہے کچھ ناں کچھ تو ہوتے ہیں جو بال بکھیرے ہوتے ہیں دل ...

مزید پڑھیے

جب میں اس آدمی سے دور ہوا

جب میں اس آدمی سے دور ہوا غم مری زندگی سے دور ہوا میں بھی اس کے مکان سے نکلا وہ بھی میری گلی سے دور ہوا دل سے کانٹا نکالنے کے بعد درد اپنی کمی سے دور ہوا وہ سمجھتا رہا کہ روئے گا میں بڑی خامشی سے دور ہوا راستے میں جو اک سمندر تھا میری تشنہ لبی سے دور ہوا وہ جسے مجھ سے دور ہونا ...

مزید پڑھیے

محبت صرف اک جذبہ نہیں ہے

محبت صرف اک جذبہ نہیں ہے نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہے سبھی تعبیر اس کی لکھ رہے ہیں کسی نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے کسی کھائی میں وہ بھی جا گرا ہے جو تیری راہ سے گزرا نہیں ہے نہ کر سینے کے آتش دان ٹھنڈے بجھا دل پھر کبھی جلتا نہیں ہے چلو باہر سے ہو کر لوٹ آئیں کئی دن سے کوئی آیا نہیں ...

مزید پڑھیے

کسی صورت اگر اظہار کی صورت نکل آئے

کسی صورت اگر اظہار کی صورت نکل آئے تو ممکن ہے کسی سے پیار کی صورت نکل آئے مسیحائی پہ وہ کافر اگر ایمان لے آئے شفا کی شکل میں بیمار کی صورت نکل آئے اگر وہ بے وفا ضد چھوڑ دے اور ٹھیک ہو جائے تو شاید پھر مرے گھر بار کی صورت نکل آئے کوئی تو معجزہ ایسا بھی ہو اپنی محبت میں ترے انکار ...

مزید پڑھیے

سرور عشق نے الفت سے باندھ رکھا ہے

سرور عشق نے الفت سے باندھ رکھا ہے تری غرض نے محبت سے باندھ رکھا ہے عجب کشش ہے ترے ہونے یا نہ ہونے میں گماں نے مجھ کو حقیقت سے باندھ رکھا ہے کبھی کبھی تو مجھے ٹوٹتا دکھائی دے جو ایک عہد قیامت سے باندھ رکھا ہے شہ جمال ترے شہر کے فقیروں کو کمال ہجر نے وحشت سے باندھ رکھا ہے بھٹک ...

مزید پڑھیے

کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے

کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے شاعری محرومیوں کا خوب صورت نام ہے بے غرض ملنے کی ساری منطقیں جھوٹی ہیں یار تو جو آیا ہے تو اب بتلا بھی دے کیا کام ہے اب کے میخانے کی مٹی پر کوئی دھبہ نہیں رند ہیں ٹوٹے ہوئے ہاتھوں میں ثابت جام ہے نے شکوۂ سروری ہے نے جمال دلبری دل کسی ...

مزید پڑھیے

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے

دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے کہ اب اس سے ملاقاتوں میں کچھ تاخیر کرنا ہے مرے پچھلے بہانے اس پہ روشن ہوتے جاتے ہیں سو اب مجھ کو نیا حیلہ نئی تدبیر کرنا ہے کماں داروں کو اس سے کیا غرض پہنچے کہ رہ جائے انہیں تو بس اشارے پر روانہ تیر کرنا ہے ابھی امکان کے صفحے بہت خالی ہیں ...

مزید پڑھیے

وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گا

وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گا ہم مگر تنکے ہیں ہم تنکوں سے کیا لے جائے گا اک عجب آشوب ہے کیوں بستیوں میں جلوہ گر کیا یہ ہر انسان سے خوف خدا لے جائے گا ہے تو خورشید حقیقت پر بڑا بے مہر ہے دل سے جذبے آنکھ سے آنسو چرا لے جائے گا بوریے پر بیٹھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے شہریار عصر ...

مزید پڑھیے

دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں

دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں خوشی ملے نہ ملے مسکرا تو سکتے ہیں ہمیشہ وصل میسر ہو یہ ضروری نہیں دو ایک دن کو ترے پاس آ تو سکتے ہیں جو راز عشق ہے ان کو چھپائیں گے لیکن جو داغ عشق ہیں سب کو دکھا تو سکتے ہیں ہم امتحان میں ناکام ہوں یہ رنج نہیں اسی میں خوش ہیں کہ وہ آزما تو سکتے ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے

کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے منظر یہاں تمام مگر کربلا کا ہے آتے ہیں برگ و بار درختوں کے جسم پر تم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے غیروں کو کیا پڑی ہے کہ رسوا کریں مجھے ان سازشوں میں ہاتھ کسی آشنا کا ہے اب ہم وصال یار سے بے زار ہیں بہت دل کا جھکاؤ ہجر کی جانب بلا کا ہے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3983 سے 4657