ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا
ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا بس اک نگاہ پہ ٹھیرا ہے فیصلہ دل کا وہ ظلم کرتے ہیں مجھ پر تو لوگ کہتے ہیں خدا برے سے نہ ڈالے معاملہ دل کا پھرا جو کوچۂ کاکل سے کوئی پوچھیں گے سنا ہے لٹ گیا رستے میں قافلہ دل کا ہزار فصل گل آئے جنوں وہ جوش کہاں گیا شباب کے ہم راہ ولولہ دل کا بہار ...