شاعری

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا بس اک نگاہ پہ ٹھیرا ہے فیصلہ دل کا وہ ظلم کرتے ہیں مجھ پر تو لوگ کہتے ہیں خدا برے سے نہ ڈالے معاملہ دل کا پھرا جو کوچۂ کاکل سے کوئی پوچھیں گے سنا ہے لٹ گیا رستے میں قافلہ دل کا ہزار فصل گل آئے جنوں وہ جوش کہاں گیا شباب کے ہم راہ ولولہ دل کا بہار ...

مزید پڑھیے

گلوں پر صاف دھوکا ہو گیا رنگیں کٹوری کا

گلوں پر صاف دھوکا ہو گیا رنگیں کٹوری کا رگ گل میں جو عالم تھا تری انگیا کی ڈوری کا برابر ایک سے مصرع نظر آتے ہیں ابرو کے توارد کہئے یا ہے ایک میں مضمون چوری کا بہت غم کھاتے کھاتے اک نہ اک دن جان جائے گی ضرر رکھتا ہے اے دلبر نتیجہ سیر خوری کا ہوا ہے ہم کو اک مطرب پسر کی زلف کا ...

مزید پڑھیے

آشنا ہوتے ہی اس عشق نے مارا مجھ کو

آشنا ہوتے ہی اس عشق نے مارا مجھ کو نہ ملا بحر محبت کا کنارا مجھ کو کیوں مرے قتل کو تلوار برہنہ کی ہے تیغ ابرو کا تو کافی ہے اشارا مجھ کو خود ترے دام میں آیا کوئی افسوں نہ چلا اے پری تو نے تو شیشے میں اتارا مجھ کو میرے عیسیٰ کا ذرا دیکھنا اعجاز خرام ایک ٹھوکر سے ملی عمر دوبارا مجھ ...

مزید پڑھیے

ہم تو ہوں دل سے دور رہیں پاس اور لوگ

ہم تو ہوں دل سے دور رہیں پاس اور لوگ سونگھیں گل عذار کی بو باس اور لوگ واعظ ہمیں ڈرا نہ وفور گناہ سے اس کے کرم سے ہوتے ہیں بے آس اور لوگ سودائے عشق یاں تو ہے سر میں بھرا ہوا نام جنوں سے کرتے ہیں وسواس اور لوگ آزاد گان عشق ہر اک حال میں ہیں شاد ہوں گے اسیر رنج و غم و یاس اور ...

مزید پڑھیے

ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیں

ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیں کچھ گلے شکوے یقیناً سب مناجاتوں میں ہیں دھوپ کے موسم میں تھے پایاب دریا سب مگر کیسے کیسے خشک منظر اب کے برساتوں میں ہیں ہیں معطر اب بھی شامیں تیری خوشبو کے طفیل ضو فشاں جگنو ترے اب بھی مری راتوں میں ہیں تشنگی صدیوں کی قربت سے نہ بجھ ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھی

کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھی سناٹے گونجتے ہیں صدا کے بغیر بھی مٹی کی مملکت میں نمو کی زکوٰۃ پر زندہ ہیں پیڑ آب و ہوا کے بغیر بھی یہ نفرتوں کے زرد الاؤ نہ ہوں گے سرد پھیلے گی آگ تیز ہوا کے بغیر بھی ربط و تعلقات کا موسم نہیں کوئی بارش ہوئی ہے کالی گھٹا کے بغیر بھی دنیا کے ...

مزید پڑھیے

شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیں

شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیں وہی چراغوں کا ماتم زیادہ کرتے ہیں دلوں کا درد کہاں جام میں اترتا ہے حریف وقت کو ہم غرق بادہ کرتے ہیں پرانی تلخیاں دامن بہت پکڑتی ہیں کبھی نیا جو کوئی ہم ارادہ کرتے ہیں پڑی تھی دل کی زمیں جانے کب سے بے مصرف اب اس میں یادوں کے بت ایستادہ کرتے ...

مزید پڑھیے

ہر اک فسانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے

ہر اک فسانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے غم زمانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے کسی کو علم نہیں کون کتنا پاگل ہے جنوں دوانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے ذرا سی بات پہ وہ ہم سے روٹھ جاتا ہے اسے منانا ضرورت سے کچھ زیادہ ہے جو ہم نے سیکھا جو مانا وہ کتنا کم نکلا جو ہم نے جانا ضرورت سے کچھ زیادہ ہے ہم ...

مزید پڑھیے

کوئی نہیں ہے انتظار صبح وصال کے سوا

کوئی نہیں ہے انتظار صبح وصال کے سوا کوئی طلب نہیں مجھے تیرے جمال کے سوا کس کے سوال پر یہ دل روتا ہے ساری ساری رات کون حبیب ہے مرا تیرے خیال کے سوا کوئی نہیں جو روح پر ایسا بھلا اثر کرے نشے تمام ہیں وجود تیری مثال کے سوا چشمۂ خواب سے مجھے دونوں جہاں عطا ہوئے کچھ بھی نہیں ہے میرے ...

مزید پڑھیے

ترے خیال سے پھر آنکھ میری پر نم ہے

ترے خیال سے پھر آنکھ میری پر نم ہے کہ غم زیادہ ہے اور حوصلہ مرا کم ہے بقا کے واسطے صدیوں سے جنگ جاری ہے فنا کے شور شرابے سے ناک میں دم ہے نہیں تو کب کا مکمل میں ہو چکا ہوتا جسے میں اپنا سمجھتا ہوں اس میں کچھ کم ہے عجیب دور ہے یہ دور میری مشکل کا سوال میں ہے نہ کوئی جواب میں دم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3982 سے 4657