شاعری

روشنی میں کس قدر دیوار و در اچھے لگے

روشنی میں کس قدر دیوار و در اچھے لگے شہر کے سارے مکاں سارے کھنڈر اچھے لگے پہلے پہلے میں بھی تھا امن و اماں کا معترف اور پھر ایسا ہوا نیزوں پہ سر اچھے لگے جب تلک آزاد تھے ہر اک مسافت تھی وبال جب پڑی زنجیر پیروں میں سفر اچھے لگے دائرہ در دائرہ پانی کا رقص جاوداں آنکھ کی پتلی کو ...

مزید پڑھیے

نہ احتجاج نہ آوارگی میں دیکھ مجھے

نہ احتجاج نہ آوارگی میں دیکھ مجھے جو ہو سکے تو مری روشنی میں دیکھ مجھے گل ہوس بھی ہے شاخ وصال کا حصہ چراغ لالہ کی تازہ کلی میں دیکھ مجھے وضاحتوں سے تو کچھ بھی سمجھ نہ پائے گا کبھی غبار کبھی تیرگی میں دیکھ مجھے فضائے یاد میں تبدیلیاں نہیں ہوتیں جدید شخص پرانی گلی میں دیکھ ...

مزید پڑھیے

خوشی بھی اب سراپا غم لگے ہے

خوشی بھی اب سراپا غم لگے ہے توجہ آپ کی کچھ کم لگے ہے کوئی ہم دم نہیں دنیا میں لیکن جسے دیکھو وہی ہم دم لگے ہے میں ہوں مجبور اپنے دل سے مجھ کو پرایا غم بھی اپنا غم لگے ہے بہاریں ہیں چمن میں گل بداماں خزاں کا سا مگر موسم لگے ہے جدھر دیکھو ادھر شبنم کے آنسو چمن کیا ہے صف ماتم لگے ...

مزید پڑھیے

خاک تو ہم بھی ہر اک دشت کی چھانے ہوئے ہیں

خاک تو ہم بھی ہر اک دشت کی چھانے ہوئے ہیں کچھ نیا کرنے کی کوشش میں پرانے ہوئے ہیں سبز موسم کا پتہ جن سے ملا کرتا تھا تیرہ بختوں کے وہی شہر ٹھکانے ہوئے ہیں خانۂ دل میں ابھی تک ہیں وہی لوگ آباد جن کو اوجھل ہوئے آنکھوں سے زمانے ہوئے ہیں تیر شاخوں میں ہیں پیوست پرندوں میں نہیں کس ...

مزید پڑھیے

ترا وصال ہے بہتر کہ تیرا کھو جانا

ترا وصال ہے بہتر کہ تیرا کھو جانا نہ جاگنا ہی میسر مجھے نہ سو جانا یہ سب فریب ہے میں کیا ہوں میری چاہت کیا جو ہو سکے تو مری طرح تو بھی ہو جانا ہنسی میں زخم چھپانے کا فن بھی زندہ ہے اسی خیال سے سیکھا نہ میں نے رو جانا اداس شہر میں زندہ دلی کی قیمت کیا بجا ہے میری ہنسی کا غبار ہو ...

مزید پڑھیے

وہ لوگ بھی کیسے لوگ ہیں جو کوئی بات فضول نہیں کرتے

وہ لوگ بھی کیسے لوگ ہیں جو کوئی بات فضول نہیں کرتے یہ سارے قصے جھوٹے ہیں ہم ان کو قبول نہیں کرتے تمہیں علم نہیں ہے یقین کرو میں قریب سے جانتا ہوں ان کو کچھ سوداگر ایسے بھی ہیں جو قرض وصول نہیں کرتے میں پتھر لے کر بیٹھا ہوں اور اس بستی کے دانا اب کیوں کار شیشہ گری کر کے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

سیل گریہ کا سینے سے رشتہ بہت

سیل گریہ کا سینے سے رشتہ بہت یعنی ہیں اس خرابے میں دریا بہت میں نے اس نام سے شام رنگین کی میں نے اس کے حوالے سے سوچا بہت دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کم چاہنے کے لیے ایک چہرا بہت اس سے آگے تو بس خواب ہی خواب تھے میں نے اس کو مجھے اس نے دیکھا بہت میں بھی الجھا ہوں منظر کے نیرنگ ...

مزید پڑھیے

حریف کوئی نہیں دوسرا بڑا میرا

حریف کوئی نہیں دوسرا بڑا میرا سدا مجھی سے رہا ہے مقابلہ میرا مرے بدن پہ زمانوں کی زنگ ہے لیکن میں کیسے دیکھوں شکستہ ہے آئنہ میرا مرے خلاف زمانہ بھی ہے زمین بھی ہے منافقت کے محاذوں پہ مورچہ میرا میں کشتیوں کو جلانے سے خوف کھاتا نہیں زمانہ دیکھ چکا ہے یہ حوصلہ میرا مرے سوال سے ...

مزید پڑھیے

ابھی ہوس کے ہزاروں بہانے زندہ ہیں

ابھی ہوس کے ہزاروں بہانے زندہ ہیں نئی رتوں میں شجر سب پرانے زندہ ہیں فضائے مہر و محبت کی داغداری کو دھواں اگلتے ہوئے کارخانے زندہ ہیں مجاوران تمنا تو مر گئے کب کے درون جسم کئی آستانے زندہ ہیں جواز کوئی نہیں ہجرتوں سے بچنے کا ہم اس دیار میں کس کے بہانے زندہ ہیں عجب طلسم ہے ...

مزید پڑھیے

دل و نظر کو لہو میں ڈبونا آتا ہے

دل و نظر کو لہو میں ڈبونا آتا ہے نہ اب ہنسی ہمیں آئے نہ رونا آتا ہے ہوا کے ہاتھ چراغوں سے کھیلتے ہیں یوں ہی کہ ہاتھ بچوں کے جیسے کھلونا آتا ہے ہم اہل زر کے دروں پر قدم نہیں رکھتے گدائے خاک ہیں مٹی پہ سونا آتا ہے خمار در بدری چین سے نہ رہنے دے جو خواب آتا ہے اکثر سلونا آتا ہے غزل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3984 سے 4657