شاعری

صاف باتوں سے ہو گیا معلوم

صاف باتوں سے ہو گیا معلوم ہوتے ہو مطلب آشنا معلوم کشتہ تیغ نگہ سے کیجئے گا چشم و ابرو سے ہو گیا معلوم ابتدا نے محبت دل کی یہ نہ تھی ہم کو انتہا معلوم کچھ دہن ہی نہیں ہے وہ ناپید کمر یار بھی ہے نا معلوم در تک اس کے مری رسائی ہو تجھ سے اے بخت نارسا معلوم جب کہا روکے تجھ پہ مرتے ...

مزید پڑھیے

چشمک زنی میں کرتی نہیں یار کا لحاظ

چشمک زنی میں کرتی نہیں یار کا لحاظ نرگس کی آنکھ میں بھی نہیں ہے ذرا لحاظ بے گالی اب تو بات بھی کرتے نہیں کبھی وہ ابتدا میں کرتے تھے بے انتہا لحاظ تنہا میں اور اتنے وہاں ہیں مرے رقیب ناز و ادا غمزہ و شرم و حیا لحاظ ساقی کی بے رخی کی کہاں تاب تھی مگر پیر مغاں کی روح کا کرنا پڑا ...

مزید پڑھیے

سوتے ہیں پھیل پھیل کے سارے پلنگ پر

سوتے ہیں پھیل پھیل کے سارے پلنگ پر ہم چپ الگ پڑے ہیں کنارے پلنگ پر افشاں کے ذرے دیکھ کے سارے پلنگ پر سمجھا میں لوٹتے ہیں ستارے پلنگ پر پوچھو نہ مجھ سے شدت درد شب فراق تڑپا کیا میں رات کو سارے پلنگ پر لپٹے ہوئے پڑے رہے پٹی سے ہم الگ سویا کیے وہ چین سے سارے پلنگ پر بے چین ہو کے ...

مزید پڑھیے

نہ کل تک تھے وہ منہ لگانے کے قابل

نہ کل تک تھے وہ منہ لگانے کے قابل ہوئے آج باتیں بنانے کے قابل تری بندگی اور سیہ کار مجھ سا یہ سر اور ترے آستانے کے قابل لب زخم دل پر یہ ہے شور قاتل تری تیغ کا پھل ہے کھانے کے قابل نکالے صنم پیٹ سے پاؤں تم نے ہوئے جب کہیں آنے جانے کے قابل دل بوالہوس لائق داغ الفت یہ درہم نہ تھے اس ...

مزید پڑھیے

لٹ رہی ہے دولت دیدار قیصر باغ میں

لٹ رہی ہے دولت دیدار قیصر باغ میں مثل گل سب ہو گئے زردار قیصر‌ باغ میں دیکھتے ہیں یار کا پڑھتا ہے کلمہ کون کون جمع ہیں سب کافر و دیندار قیصر باغ میں ہم سے آنکھ اس نے لڑائی تیوری بدلی غیر نے چلتے چلتے رہ گئی تلوار قیصر باغ میں اس کمان ابرو نے کیں دل پر نظر اندازیاں ہم پہ تیروں کی ...

مزید پڑھیے

ہم نے احسان اسیری کا نہ برباد کیا

ہم نے احسان اسیری کا نہ برباد کیا مرتے دم منہ طرف خانۂ صیاد کیا اب کی صیاد نے طرفہ ستم ایجاد کیا بے پر و بال سمجھ کر ہمیں آزاد کیا کیا تری یاد کریں گے فلک ناانصاف دل ناشاد ہمارا نہ کبھی شاد کیا دل پہ صدمے لیے جور و ستم خوباں کے ضبط دیکھو نہ کبھی وا لب فریاد کیا آسماں کی نہ ...

مزید پڑھیے

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا ستم وہ تم نے کیے بھولے ہم گلہ دل کا ہوا تمہارے بگڑنے سے فیصلہ دل کا بہار آتے ہی کنج قفس نصیب ہوا ہزار حیف کہ نکلا نہ جو صلہ دل کا جو یہ نشانہ اڑا دو تو سمجھیں تیر فگن بہت ہے ناوک مژگاں سے فاصلہ دل کا الٰہی خیر ہو ...

مزید پڑھیے

یہ باریک ان کی کمر ہو گئی

یہ باریک ان کی کمر ہو گئی کہ نظروں میں تار نظر ہو گئی پڑا دونوں زلفوں کا ان کی جو عکس نزاکت سے دوہری کمر ہو گئی گلے چڑھنے مستی میں مستوں کے منہ بڑی دختر رز یہ نڈر ہو گئی وہ اب کاٹ تیغ نگہ کا نہیں کچھ آنکھوں پر ان کی نظر ہو گئی مرا نقد دل مار بیٹھے حسیں یہ دولت ادھر سے ادھر ہو ...

مزید پڑھیے

یگانہ ان کا بیگانہ ہے بیگانہ یگانہ ہے

یگانہ ان کا بیگانہ ہے بیگانہ یگانہ ہے خدائی سے نرالا ان بتوں کا کارخانہ ہے نگاہ ناز سے صید اپنا مرغ دل نہیں ہوتا کبھی اڑتا نہیں ناوک سے جو وہ یہ نشانہ ہے ادھر کلیاں چٹکتی ہیں ادھر شور عنادل ہے چمن میں کس کی آمد ہے یہ کیسا شادیانہ ہے جنوں نے کی ہے قبر قیس کی اس طرح آرائش چراغ غول ...

مزید پڑھیے

لوٹے مزے جو ہم نے تمہارے اگال کے

لوٹے مزے جو ہم نے تمہارے اگال کے مر مر گئے رقیب لہو ڈال ڈال کے بے یار دود و لکا مرے آسماں بنا ساقی بنا دے ماہ پیالہ اچھال کے بگڑے ہوئے ہو آج بناوٹ نہ کیجیے اے جان چھپتے ہیں کہیں تیور ملال کے پہنچا دیا ہے دم میں لب بام یار تک قائل ہیں ہم تو اپنی کمند خیال کے دنیائے دوں کو آنکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3979 سے 4657