صاف باتوں سے ہو گیا معلوم
صاف باتوں سے ہو گیا معلوم ہوتے ہو مطلب آشنا معلوم کشتہ تیغ نگہ سے کیجئے گا چشم و ابرو سے ہو گیا معلوم ابتدا نے محبت دل کی یہ نہ تھی ہم کو انتہا معلوم کچھ دہن ہی نہیں ہے وہ ناپید کمر یار بھی ہے نا معلوم در تک اس کے مری رسائی ہو تجھ سے اے بخت نارسا معلوم جب کہا روکے تجھ پہ مرتے ...