شاعری

اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا

اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا تو معشوقوں کا یہ چرچا نہ ہوتا گریباں چاک کر روتے کہاں ہم اگر یہ دامن صحرا نہ ہوتا سدا رہتی توقع بلبلوں کو اگر یہ غنچۂ گل وا نہ ہوتا جدائی میں اگر آنکھیں نہ روتیں تو ہرگز راز دل افشا نہ ہوتا فغاںؔ کون اب خریدار سخن تھا اگر یہ حضرت سوداؔ نہ ہوتا

مزید پڑھیے

حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئی

حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئی کیوں تری چشم میں حیا نہ ہوئی یار نے نامہ بر سے خط نہ لیا میری خاطر عزیز کیا نہ ہوئی رہ گیا دور تیرے کوچہ سے خاک بھی میری پیش پا نہ ہوئی کٹ گئی عمر میری غفلت میں کچھ تری بندگی ادا نہ ہوئی دود دل تیری زلف تک پہنچے آہ یاں تک مری رسا نہ ہوئی چشم خوں خوار ...

مزید پڑھیے

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا کاروان اشک چلتا ہی رہا اس کف پا پر ترے رنگ حنا جن نے دیکھا ہاتھ ملتا ہی رہا صبح ہوتے بجھ گئے سارے چراغ داغ دل تا شام جلتا ہی رہا کب ہوا بیکار پتلا خاک کا یہ تو سو قالب میں ڈھلتا ہی رہا بہ ہوئے کب داغ میرے جسم کے یہ شجر ہر وقت پھلتا ہی رہا کب تھما ...

مزید پڑھیے

ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے

ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے دنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووے شمشیر کوئی تیز سی لینا مرے قاتل ایسی نہ لگانا کہ مرا کام نہ ہووے گر صبح کو میں چاک گریبان دکھاؤں اے زندہ دلاں حشر تلک شام نہ ہووے آتا ہے مری خاک پہ ہم راہ رقیباں یعنی مجھے تربت میں بھی آرام نہ ہووے جی دیتا ہے ...

مزید پڑھیے

اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹے

اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹے یہ دل تو کسی طرح سے اے یار نہ ٹوٹے غیروں کو نہ کر مجھ دل بسمل کے مقابل چو رنگ لگاتے تری تلوار نہ ٹوٹے وہ شیشۂ دل ہے کہ اسی سنگ جفا پر سو بار اگر پھینکیے یک بار نہ ٹوٹے رکھ قیس قدم وادئ لیلیٰ میں سمجھ کر اس دشت محبت کا کوئی خار نہ ٹوٹے جنبش میں نہ ...

مزید پڑھیے

بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دینا

بہار آئی ہے سوتے کو ٹک جگا دینا جنوں ذرا مری زنجیر کو ہلا دینا ترے لبوں سے اگر ہو سکے مسیحائی تو ایک بات میں جیتا ہوں میں جلا دینا اب آگے دیکھیو جیتوں نہ جیتوں یا قسمت مری بساط میں دل ہے اسے لگا دینا رہوں نہ گرمیٔ مجلس سے میں تری محروم سپندوار مجھے بھی ذرا تو جا دینا خدا کرے ...

مزید پڑھیے

بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے

بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے دامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہے ہے کہاں بوئے وفا اس دہن شیریں میں غنچہ لب تیری زباں ہم نے بہت چوسی ہے یار گو خون مرا مثل حنا ہو پامال لیکن اپنے تئیں منظور قدم بوسی ہے دل مرا خاک شگفتہ ہو چمن میں جا کر گل میں یہ رنگ کہاں ایک تری بو سی ہے ایک دن زلف کے ...

مزید پڑھیے

دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا

دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا تیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کا برگ گل سے بھی کم اب کوہ غم اس نے جانا یہ بھروسا تو نہ تھا دل کی توانائی کا کیجیے چاک گریباں کو بہار آئی ہے ذکر بے لطف ہے یاں صبر و شکیبائی کا سرو ثابت قدم اس واسطے گلشن میں رہا نہیں دیکھا کبھی جلوہ تری رعنائی ...

مزید پڑھیے

سوچوں کی گہری جھیل میں اترا ہوا ہوں میں

سوچوں کی گہری جھیل میں اترا ہوا ہوں میں پوچھو نہ کس خیال میں ڈوبا ہوا ہوں میں کب تک مرے وجود کی ڈھونڈو گے کرچیاں شیشے کی طرح ٹوٹ کے بکھرا ہوا ہوں میں پرسش ضرور ہوگی یہ میدان حشر میں ماضی کو سوچ سوچ کے سہما ہوا ہوں میں کیا پوچھتے ہو مجھ سے دل مضمحل کا حال رنگ خیال یار سے بہلا ہوا ...

مزید پڑھیے

ذرا سی روشنی کے واسطے اے مہرباں میں نے

ذرا سی روشنی کے واسطے اے مہرباں میں نے جلا ڈالا ہے دیکھو خود ہی اپنا آشیاں میں نے ستم دیکھو اسی نے زہر گھولا زندگانی میں جسے سمجھا کیا اب تک رفیق و راز داں میں نے نہ پوچھو کتنے ارمانوں کی لاشیں دفن کیں میں نے سجائی ہیں تمناؤں کی کتنی ارتھیاں میں نے قدم راہ محبت میں سنبھل کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3933 سے 4657