شاعری

مسلسل دھوپ سے پالا پڑا ہے

مسلسل دھوپ سے پالا پڑا ہے ہمارا جسم تب کالا پڑا ہے ہمارے جسم پہ کپڑے نئے ہیں ہماری روح پہ جالا پڑا ہے وو چابی لے گیا ہے ساتھ جس کی ہمارے دل پہ وہ تالا پڑا ہے

مزید پڑھیے

سوکھ جاتا ہے ہر شجر مجھ میں

سوکھ جاتا ہے ہر شجر مجھ میں کچھ دعائیں ہیں بے اثر مجھ میں جانتا ہی نہیں ہوں میں اس کو وہ جو آنے لگا نظر مجھ میں دھوپ میں دیکھ کر پرندوں کو اگنے لگتا ہے اک شجر مجھ میں پاؤں اب پوچھنے لگے مجھ سے میں سفر میں ہوں یا سفر مجھ میں آئنہ دیکھ کر لگا مجھ کو میں نظر میں ہوں یا نظر مجھ ...

مزید پڑھیے

دل ہے کہ ہمیں پھر سے ادھر لے کے چلا ہے

دل ہے کہ ہمیں پھر سے ادھر لے کے چلا ہے امید سے پھر رشتۂ جاں باندھ لیا ہے آہٹ پہ نہ چونکو کہ نہ آئے گی یہاں موت دستک پہ نہ جاؤ کہ یہ آوارہ ہوا ہے اب سنگ مداوا نہیں آشفتہ سری کا یاں سنگ سے بھی پھوڑ کے سر دیکھ لیا ہے کیا کیجیے ہر کاوش درماں ہوئی محدود ہر جادۂ امکاں ہے کہ مسدود ہوا ...

مزید پڑھیے

صحرا سے بھی ویراں مرا گھر ہے کہ نہیں ہے

صحرا سے بھی ویراں مرا گھر ہے کہ نہیں ہے اس طرح سے جینا بھی ہنر ہے کہ نہیں ہے یہ دنیا بسائی ہے جو اک بے خبری کی اس میں کہیں یادوں کا گزر ہے کہ نہیں ہے ہے جسم کے زنداں میں وہی روح کی فریاد اس کرب مسلسل سے مفر ہے کہ نہیں ہے دیوار کے سائے نے تمہیں روک لیا تھا اب ہمت ایمائے سفر ہے کہ ...

مزید پڑھیے

ہم بھی تھے گوشہ گیر کہ گمنام تھے بہت

ہم بھی تھے گوشہ گیر کہ گمنام تھے بہت اس طرز زیست میں مگر آرام تھے بہت دنیا ہے کار خانۂ وہم و گماں تمام سچے وہی فسانے تھے جو عام تھے بہت خود اپنے اضطرار طبیعت سے تنگ تھے ہم جو شکار گردش ایام تھے بہت لپٹی رہی تو سربسر اسرار تھی وہ زلف کھلتی کبھی تو اس کے بھی پیغام تھے بہت اک عمر ...

مزید پڑھیے

وہ بے ہنر ہوں کہ ہے زندگی وبال مجھے

وہ بے ہنر ہوں کہ ہے زندگی وبال مجھے کمال گر نہیں دیتا تو دے زوال مجھے وہ بد گمان ہوا ہوں کہ اعتبار اٹھا صداقتوں پہ بھی کیا کیا ہیں احتمال مجھے میں اپنے آپ کو پہچاننے سے ڈرتا ہوں تباہ کر گئی یہ گرد ماہ و سال مجھے غضب ہوا تری یادوں نے ساتھ چھوڑ دیا ہنوز میری محبت ہے اک سوال ...

مزید پڑھیے

مگر نہیں تھا فقط میرؔ خوار میں بھی تھا

مگر نہیں تھا فقط میرؔ خوار میں بھی تھا کہ اہل درد میں آشفتہ کار میں بھی تھا صبا کی طرح اسے بھی نہ تھا ثبات کہیں نہ جانے کیا تھا بہت بے قرار میں بھی تھا پناہ لینی پڑی تھی مجھے بھی سائے میں رہین منت دیوار یار میں بھی تھا ہزار اپنی طبیعت پہ جبر کرتا تھا میں صبر کرتا تھا بے اختیار ...

مزید پڑھیے

کیسی آشفتگیٔ سر ہے یہاں

کیسی آشفتگیٔ سر ہے یہاں راس صحرا یہاں نہ گھر ہے یہاں ایک غم ہے کہ بے مداوا ہے ایک رونا کہ عمر بھر ہے یہاں جو بھی کاوش ہے بے صلہ بے سود جو شجر ہے وہ بے ثمر ہے یہاں اک مسافت کہ طے نہیں ہوتی منزلوں منزلوں سفر ہے یہاں یوں روایت سے کٹ گئے لیکن تجربہ جو ہے تلخ تر ہے یہاں

مزید پڑھیے

ایک سرد جنگ ہے اب محبتیں کہاں

ایک سرد جنگ ہے اب محبتیں کہاں ٹوٹتے ہوئے طلسم پھیلتا ہوا دھواں وہ بھی اپنے حسن سے بے خیال ہو چلا اور خواب بن گئیں میری سر گرانیاں قیس کی محبتیں کوہ کن کی چاہتیں اور یہ روایتیں بھولتی کہانیاں ہم سے پہلے اور بھی کر گئے وفا بہت خاک میں ملا چلے ہم بھی زندگانیاں اپنے سلسلے سے بھی ...

مزید پڑھیے

بھولے ہوئے ہیں سب کہ ہے کار جہاں بہت

بھولے ہوئے ہیں سب کہ ہے کار جہاں بہت لیکن وہ ایک یاد ہے دل پر گراں بہت کچھ رفتگاں کے غم نے بھی رکھا ہمیں نڈھال کچھ صدمہ ہائے نو سے رہے نیم جاں بہت ہم کو نہ زلف یار نہ دیوار سے غرض ہم کو تو یاد یار کی پرچھائیاں بہت وہ سرد مہریاں کہ ہمیں راکھ کر گئیں سنتے ہیں پہلے ہم بھی تھے آتش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3925 سے 4657