شاعری

مصر فرعون کی تحویل میں آیا ہوا ہے

مصر فرعون کی تحویل میں آیا ہوا ہے خون پانی کی جگہ نیل میں آیا ہوا ہے وقت بے وقت جھلکتا ہے مری صورت سے کون چہرہ مری تشکیل میں آیا ہوا ہے پیش بینی ہے یہ الہام کے آئینے کی عکس قرآن کا انجیل میں آیا ہوا ہے کوئی لمحہ مجھے تبدیل کئے جاتا ہے کیا تغیر مری تکمیل میں آیا ہوا ہے سرگزشت دل ...

مزید پڑھیے

وقت بے وقت یہ پوشاک مری تاک میں ہے

وقت بے وقت یہ پوشاک مری تاک میں ہے جانتا ہوں کہ مری خاک مری تاک میں ہے مجھ کو دنیا کے عذابوں سے ڈرانے والو ایک عالم پس افلاک مری تاک میں ہے سانپ ہر دشت میں کرتا ہے تعاقب میرا بحر بے آب کا تیراک مری تاک میں ہے جمع کرتا ہے شواہد مرے ہونے کے خلاف در حقیقت مرا ادراک مری تاک میں ...

مزید پڑھیے

اپنا گھر بازار میں کیوں رکھ دیا

اپنا گھر بازار میں کیوں رکھ دیا واقعہ اخبار میں کیوں رکھ دیا خواب کی اپنی بھی اک توقیر ہے دیدۂ بے دار میں کیوں رکھ دیا کھیل میں خانہ بدلنے کے لئے اپنا مہرہ ہار میں کیوں رکھ دیا سر بچانے تک تو شاید ٹھیک ہو خوف یہ دستار میں کیوں رکھ دیا نیند نہ آنا یہ راتوں کو نشاطؔ دل کو اس آزار ...

مزید پڑھیے

ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا

ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا پھر اس کے بعد یہ سوچا گیا کہ کیا ہوا تھا نہ صرف تلخ بہت تھا وہ نیلگوں بھی تھا مجھے تو شک ہے سمندر میں کچھ ملا ہوا تھا وہ خط جو پڑھنے سے پہلے ہی میں نے پھاڑ دیا اگرچہ نام تھا میرے مگر کھلا ہوا تھا مجھے کہانی میں کردار کچھ ملا ایسا تھے جس کے ہاتھ تو ...

مزید پڑھیے

دریافت کر لیا ہے بسایا نہیں مجھے

دریافت کر لیا ہے بسایا نہیں مجھے سامان رکھ دیا ہے سجایا نہیں مجھے کیسا عجیب شخص ہے اٹھ کر چلا گیا برباد ہو گیا تو بتایا نہیں مجھے وہ میرے خواب لے کے سرہانے کھڑا رہا میں سو رہی تھی اس نے جگایا نہیں مجھے بازی تو اس کے ہاتھ تھی پھر بھی نہ جانے کیوں مہرہ سمجھ کے اس نے بڑھایا نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا ضروری ہے شاعری کی جائے

کیا ضروری ہے شاعری کی جائے دل جلا کر ہی روشنی کی جائے بعض چہرے بہت حسین سہی پھر بھی کتنوں سے دوستی کی جائے اک مسلسل شکست کا احساس ایسی خواہش نہ پھر کبھی کی جائے یہ محبت کے جو تقاضے ہیں ان تقاضوں میں کچھ کمی کی جائے اب بھی کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں زہر پی کر ہی خود کشی کی جائے میں ...

مزید پڑھیے

کیا بتاؤں کہ کس گمان میں ہوں

کیا بتاؤں کہ کس گمان میں ہوں مستقل ایک امتحان میں ہوں آبلہ پا ہوں اور سفر میں ہوں پر بریدہ ہوں اور اڑان میں ہوں خود سری رکھ کے شاہزادی سی کچھ کنیزوں کے درمیان میں ہوں تو کہ طوفاں مجھے سمجھ بیٹھا غور سے دیکھ بادبان میں ہوں آپ نے خط نہیں لکھا ورنہ میں تو اب بھی اسی مکان میں ...

مزید پڑھیے

ہمیں تعبیر پہلے دی گئی پھر خواب اترے

ہمیں تعبیر پہلے دی گئی پھر خواب اترے کتاب زندگی کے اس طرح کچھ باب اترے مری آنکھوں سے لے لے روشنی اور نور کر دے کسی قیمت پہ مالک منظر شب تاب اترے کھلے برتن اٹھا کر رکھ دئے جو بارشوں میں یہاں وہ رہ گئے خالی وہاں سیلاب اترے تحائف کی جنہیں امید تھی وہ منتظر ہیں مسافر آ چکا ہے اب ذرا ...

مزید پڑھیے

نمو کی خاک سے اٹھے گا پھر لہو میرا

نمو کی خاک سے اٹھے گا پھر لہو میرا عقب سے وار کرے چاہے جنگ جو میرا لکیر کھینچ کے مجھ پہ وہ پھر مجھے دیکھے نگار و نقش میں چہرہ ہے ہو بہ ہو میرا رقیب تشنہ تو جی بھر کے خاک چاٹے گا چٹخ کے ٹوٹ گیا ہاتھ میں سبو میرا میں اپنی روح کی تاریکیوں میں جھانک چکا نکل سکا نہ کمیں گاہ سے عدو ...

مزید پڑھیے

بارش کیسی جادوگر ہے

بارش کیسی جادوگر ہے قطرہ قطرہ نور نظر ہے آس کا پنچھی ڈھونڈ کے لاؤ جس کی نشانی ٹوٹا پر ہے اس میں آنکھیں جڑ جاؤں گا جس دیوار میں اندھا در ہے ٹوٹی کھاٹ پہ سو جاتا ہوں اپنا گھر پھر اپنا گھر ہے رستے کی انجان خوشی ہے منزل کا انجانا ڈر ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 3908 سے 4657