شاعری

سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے

سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے وہی کانوں میں اب تک گونجتا ہے غنیمت ہے کہ اپنے غمزدوں کو وہ حسن خود نگر پہچانتا ہے جسے کھو کر بہت مغموم ہوں میں سنا ہے اس کا غم مجھ سے سوا ہے کچھ ایسے غم بھی ہیں جن سے ابھی تک دل غم آشنا نا آشنا ہے بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ...

مزید پڑھیے

رونق بیش و کم کس کے ہونے سے ہے

رونق بیش و کم کس کے ہونے سے ہے موسم خشک و نم کس کے ہونے سے ہے کس کا چہرا بناتی ہیں یہ ساعتیں وقت کا زیر و بم کس کے ہونے سے ہے کون گزرا کہ بنتے گئے راستے راہ کا پیچ و خم کس کے ہونے سے ہے کس کی خاطر دریچوں سے آئی ہوا یہ فضا یوں بہم کس کے ہونے سے ہے شاخ در شاخ پتوں کی یہ زندگی آج بھی ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو

پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو اب دل میں سر شام چراغاں نہیں ہوتا شعلہ ترے غم کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو کب عشق کیا کس سے کیا جھوٹ ہے یارو بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ...

مزید پڑھیے

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا ٹوٹ جاتے ہیں کبھی میرے کنارے مجھ میں ڈوب جاتا ہے کبھی مجھ میں سمندر میرا کسی صحرا میں بچھڑ جائیں گے سب یار مرے کسی جنگل میں بھٹک جائے گا لشکر میرا باوفا تھا تو مجھے پوچھنے والے بھی نہ تھے بے وفا ہوں تو ہوا نام ...

مزید پڑھیے

مثل باد صبا تیرے کوچے میں اے جان جاں آئے ہیں

مثل باد صبا تیرے کوچے میں اے جان جاں آئے ہیں چند ساعت رہیں گے چلے جائیں گے سر گراں آئے ہیں شام آزردگی کے ستائے ہوئے چوٹ کھائے ہوئے مہرباں ہو کے مل ہم بہت آج نا شادماں آئے ہیں عشق کرنا جو سیکھا تو دنیا برتنے کا فن آ گیا کاروبار جنوں آ گیا ہے تو کار جہاں آئے ہیں زخم کھلنے لگے ...

مزید پڑھیے

نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں

نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں میں ایک عرصہء بے رنگ کے حصار میں ہوں سپاہ غیر نے کب مجھ کو زخم زخم کیا میں آپ اپنی ہی سانسوں کے کار زار میں ہوں کشاں کشاں جسے لے جائیں گے سر مقتل مجھے خبر ہے کہ میں بھی اسی قطار میں ہوں شرف ملا ہے کہاں تیری ہمرہی کا مجھے تو شہسوار ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

بے نیازانہ ہر اک راہ سے گزرا بھی کرو

بے نیازانہ ہر اک راہ سے گزرا بھی کرو شوق نظارہ جو ٹھہرائے تو ٹھہرا بھی کرو اتنے شائستۂ آداب محبت نہ بنو شکوہ آتا ہے اگر دل میں تو شکوہ بھی کرو سینۂ عشق تمناؤں کا مدفن تو نہیں شوق دیدار اگر ہے تقاضا بھی کرو وہ نظر آج بھی کم معنی و بیگانہ نہیں اس کو سمجھا بھی کرو اس پہ بھروسا بھی ...

مزید پڑھیے

اطہرؔ تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا

اطہرؔ تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا کوئی نیا احساس ملا یا سب جیسا احوال ہوا ایک سفر ہے وادئ جاں میں تیرے درد ہجر کے ساتھ تیرا درد ہجر جو بڑھ کر لذت کیف و صال ہوا راہ وفا میں جاں دینا ہی پیش رؤں کا شیوہ تھا ہم نے جب سے جینا سیکھا جینا کار مثال ہوا عشق فسانہ تھا جب تک ...

مزید پڑھیے

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں میں اپنے وجود کی سزا ہوں زخموں کے گلاب کھل رہے ہیں خوشبو کے ہجوم میں کھڑا ہوں اس دشت طلب میں ایک میں بھی صدیوں کی تھکی ہوئی صدا ہوں اس شہر طرب کے شور و غل میں تصویر سکوت بن گیا ہوں بے نام و نمود زندگی کا اک بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں شاید نہ ملے مجھے ...

مزید پڑھیے

تو ملا تھا اور میرے حال پر رویا بھی تھا

تو ملا تھا اور میرے حال پر رویا بھی تھا میرے سینے میں کبھی اک اضطراب ایسا بھی تھا جس طرح دل آشنا تھا شہر کے آداب سے کچھ اسی انداز سے شائستۂ صحرا بھی تھا زندگی تنہا نہ تھی اے عشق تیری راہ میں دھوپ تھی صحرا تھا اور اک مہرباں سایا بھی تھا عشق کے صحرا نشینوں سے ملاقاتیں بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3859 سے 4657