شاعری

بہت دنوں میں کہیں راستے بدلتے تھے

بہت دنوں میں کہیں راستے بدلتے تھے وہ لوگ کیسے تھے جو ساتھ ساتھ چلتے تھے وہ کارگہ نہ رہی اور نہ وہ سفال رہی خدا کے دور میں کیا آدمی نکلتے تھے ذرا سے رزق میں برکت بھی کتنی ہوتی تھی اور اک چراغ سے کتنے چراغ جلتے تھے گزارنے کی وہ صورت قیام خواب میں تھی جہاں سے اور کئی راستے نکلتے ...

مزید پڑھیے

دے کر پچھلی یادوں کا انبار مجھے

دے کر پچھلی یادوں کا انبار مجھے پھینک دیا ہے سات سمندر پار مجھے ہر منظر کے اندر بھی اک منظر ہے دیکھنے والا بھی تو ہو تیار مجھے تیری کمی گر مجھ سے پوری ہوتی ہے لے آئیں گے لوگ سر بازار مجھے ساری چیزیں غیر مناسب لگتی ہیں ہاتھ میں دے دی جائے اک تلوار مجھے اینٹیں جانے کب حرکت میں آ ...

مزید پڑھیے

وہ میرے نالے کا شور ہی تھا شب سیہ کی نہایتوں میں

وہ میرے نالے کا شور ہی تھا شب سیہ کی نہایتوں میں میں ایک ذرہ عنایتوں پر میں ایک گردش کثافتوں میں گرفت اور اس کی کر رہا ہوں جو آب ہے ان بصارتوں کی کمند اور اس پہ پھینکتا ہوں جو تہ نشیں ہے سماعتوں میں مرے لیے شہر کج میں رکھا ہی کیا ہے جو اپنے غم گنواؤں وہ ایک داماں بہت ہے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

چراغ ہاتھوں کے بجھ رہے ہیں ستارہ ہر رہگزر میں رکھ دے

چراغ ہاتھوں کے بجھ رہے ہیں ستارہ ہر رہگزر میں رکھ دے اتار دے چاند اس کے در پر سیاہ دن میرے گھر میں رکھ دے کہیں کہیں کوئی ربط مخفی عبارت منتشر میں رکھ دے گریز پر ہیں نشان سارے طرف بھی کوئی سفر میں رکھ دے طلب طلب آئنہ صفت ہے خراب و خستہ ہیں عکس سارے یہ نیکیاں بھی ہیں سر برہنہ لطافت ...

مزید پڑھیے

اندھیرا میرے باطن میں پڑا تھا

اندھیرا میرے باطن میں پڑا تھا کوئی مجھ کو پکارے جا رہا تھا ہم اپنے آسمانوں میں کہیں تھے ہمارے پیچھے کوئی آ رہا تھا افق سنسان ہوتے جا رہے تھے سکوت وصل کا منظر بھی کیا تھا چمک کیسی بدن سے پھوٹ نکلی ہمارے ہاتھ میں کس کا سرا تھا سر لمس بدن جو لذتیں تھیں خطا کے بطن میں جو کیف سا ...

مزید پڑھیے

وہ جو صرف نگاہ کرتا ہے

وہ جو صرف نگاہ کرتا ہے اس تماشے کا ایک حصہ ہے اک اندھیرا ہوں سر سے پاؤں تک پھر یہ پہلو میں کیا چمکتا ہے ایک دن ان کو زندہ دیکھا تھا جن بزرگوں کا یہ اثاثہ ہے شہر ماتم کی اس بلا سے نہ ڈر آئینہ بھی طلسم رکھتا ہے کس کے پیروں کے نقش ہیں مجھ میں میرے اندر یہ کون چلتا ہے نقش ہے کون ...

مزید پڑھیے

کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا

کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا یہاں چراغ وہاں پر ستارہ دھرنا تھا وہ رات نیند کی دہلیز پر تمام ہوئی ابھی تو خواب پہ اک اور خواب دھرنا تھا اگر رسا میں نہ تھا وہ بھرا بھرا سا بدن رگ خیال سے اس کو طلوع کرنا تھا نگاہ اور چراغ اور یہ اثاثۂ جاں تمام ہوتی ہوئی شب کے نام کرنا ...

مزید پڑھیے

میں خود سے دور تھا اور مجھ سے دور تھا وہ بھی

میں خود سے دور تھا اور مجھ سے دور تھا وہ بھی بہاؤ تیز تھا اور زد میں آ گیا وہ بھی چھوا ہی تھا کہ فضا میں بکھر کے پھیل گیا مری ہی طرح دھوئیں کی لکیر تھا وہ بھی یہ دیکھنے کے لیے پھر پلٹ نہ جاؤں کہیں میں گم نہ ہو گیا جب تک کھڑا رہا وہ بھی ابھی تو کانٹوں بھری جھاڑیوں میں اٹکا ہے کبھی ...

مزید پڑھیے

چلو سرنگ سے پہلے گزر کے دیکھا جائے

چلو سرنگ سے پہلے گزر کے دیکھا جائے پھر اس پہاڑ کو کاندھوں پہ دھر کے دیکھا جائے ادھر کے سارے تماشوں کے رنگ دیکھ چکے اب اس طرف بھی کسی روز مر کے دیکھا جائے وہ چاہتا ہے کیا جائے اعتبار اس پر تو اعتبار بھی کچھ روز کر کے دیکھا جائے کہاں پہنچ کے حدیں سب تمام ہوتی ہیں اس آسمان سے نیچے ...

مزید پڑھیے

آنے والا تو ہر اک لمحہ گزر جاتا ہے

آنے والا تو ہر اک لمحہ گزر جاتا ہے وہ غبار اڑتا ہے انبار سا دھر جاتا ہے کون سے غار میں گر جاتا ہے منظر سارا کن خلیجوں میں بھرا شہر اتر جاتا ہے پتیاں سوکھ کے جھڑ جاتی ہیں چھٹ جاتے ہیں پھل جس کو موسم کہا کرتے ہیں وہ مر جاتا ہے لمس کی شدتیں محفوظ کہاں رہتی ہیں جب وہ آتا ہے کئی فاصلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3854 سے 4657