شاعری

اس دشت نوردی میں جینا بہت آساں تھا

اس دشت نوردی میں جینا بہت آساں تھا ہم چاک گریباں تھے سر پر کوئی داماں تھا ہم سے بھی بہت پہلے آیا تھا یہاں کوئی جب ہم نے قدم رکھا یہ خاک داں ویراں تھا اڑتے ہوئے پھرتے تھے آوارہ غباروں سے وہ وقت تھا جب اس کے لوٹ آنے کا امکاں تھا یہ راہ طلب یارو گمراہ بھی کرتی ہے سامان اسی کا تھا جو ...

مزید پڑھیے

کون گزرا تھا محراب جاں سے ابھی خامشی شور بھرتا ہوا

کون گزرا تھا محراب جاں سے ابھی خامشی شور بھرتا ہوا دھند میں کوئی شے جوں دمکتی ہوئی اک بدن سا بدن سے ابھرتا ہوا صرف کرتی ہوئی جیسے ساعت کوئی لمحہ کوئی فراموش کرتا ہوا پھر نہ جانے کہاں ٹوٹ کر جا گرا ایک سایہ سروں سے گزرتا ہوا ایک عمر گریزاں کی مہلت بہت پھیلتا ہی گیا میں افق تا ...

مزید پڑھیے

کاکروچوں مکڑیوں کی فصل آ کر تو بھی دیکھ

کاکروچوں مکڑیوں کی فصل آ کر تو بھی دیکھ عمر بھر دیکھا جو میں نے وہ گھڑی بھر تو بھی دیکھ اک مسلسل بے وقوفی کا عمل ہے زندگی میرے حصے میں جو آیا وہ مقدر تو بھی دیکھ دوسرے کے تجربے پر ٹیڑھی بنیادیں نہ رکھ بلب کو اپنی ہتھیلی سے پچک کر تو بھی دیکھ خواہشیں کیڑے مکوڑوں کی طرح مرنے ...

مزید پڑھیے

گرچہ میں سر سے پیر تلک نوک سنگ تھا

گرچہ میں سر سے پیر تلک نوک سنگ تھا پھر بھی وہ مجھ سے بر‌ سر پیکار و جنگ تھا لب سل گئے تھے اپنے انا کے سوال پر گو دل ہی دل میں مجھ سے وہ میں اس سے تنگ تھا میں آ گیا الانگ کے ہر دشت ہر پہاڑ تیری صدا پہ مجھ پہ ٹھہر جانا ننگ تھا دنیا تمام آتشیں دھاروں کی زد میں تھی لیکن میں بے خطر تھا ...

مزید پڑھیے

فرار کے لیے جب راستہ نہیں ہوگا

فرار کے لیے جب راستہ نہیں ہوگا تو باب خواب بھی کیا کوئی وا نہیں ہوگا اک ایسے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھا جائے جہاں کسی کو کوئی جانتا نہیں ہوگا وہ بات تھی تو کئی دوسرے سبب بھی تھے یہ بات ہے تو سبب دوسرا نہیں ہوگا یوں اس نگاہ کو اپنی کشادہ رکھتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی دیکھنا نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھ سے بے زارو نہ یوں سنگ سے مارو مجھ کو

مجھ سے بے زارو نہ یوں سنگ سے مارو مجھ کو اس سے بہتر ہے کہ پتھر ہی بنا دو مجھ کو کیا وہی ہوں میں ابھی جس کی طلب تھی تم کو مجھ کو ڈھونڈو مرے پہچاننے والو مجھ کو وقت تیزاب کی مانند جھلس دے نہ کہیں اپنے خاکستر ماضی میں دبا دو مجھ کو مجھ سے شامل ہیں کئی خواب گزیں سناٹے اور نزدیک ذرا آ ...

مزید پڑھیے

مرے سپرد کہاں وہ خزانہ کرتا تھا

مرے سپرد کہاں وہ خزانہ کرتا تھا سلوک کرتا تھا اور غائبانہ کرتا تھا عجیب اس کی طلب تھی عجب تھا اسپ سوار کہ ملک و مال کی پروا ذرا نہ کرتا تھا شعار زیست ہنر تھا سو ہم نہ جان سکے جو کام ہم نے کیا دوسرا نہ کرتا تھا سفر گرفتہ رہے کشتگان نان و نمک ہمارے حق میں کوئی فیصلہ نہ کرتا ...

مزید پڑھیے

دل کے نزدیک تو سایا بھی نہیں ہے کوئی

دل کے نزدیک تو سایا بھی نہیں ہے کوئی اس خرابے میں تو آیا بھی نہیں ہے کوئی ہر سراغ اپنی جگہ ریت میں معدوم ہوا دور تک نقش کف پا بھی نہیں ہے کوئی اپنے سوکھے ہوئے گلدان کا غم ہے مجھ کو آنکھ میں اشک کا قطرہ بھی نہیں ہے کوئی دور سے ایک ہیولیٰ سا نظر آتا ہے پاس سے دیکھو تو ملتا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا تم نے کبھی زندگی کرتے ہوئے دیکھا

کیا تم نے کبھی زندگی کرتے ہوئے دیکھا میں نے تو اسے بارہا مرتے ہوئے دیکھا پانی تھا مگر اپنے ہی دریا سے جدا تھا چڑھتے ہوئے دیکھا نہ اترتے ہوئے دیکھا تم نے تو فقط اس کی روایت ہی سنی ہے ہم نے وہ زمانہ بھی گزرتے ہوئے دیکھا یاد اس کے وہ گلنار سراپے نہیں آتے اس زخم سے اس زخم کو بھرتے ...

مزید پڑھیے

جب بھی تنہائی کے احساس سے گھبراتا ہوں

جب بھی تنہائی کے احساس سے گھبراتا ہوں میں ہر اک چیز میں تحلیل سا ہو جاتا ہوں میں کسی جسم پہ پھینکا ہوا پتھر تو نہ تھا بارہا اپنا لہو دیکھ کے شرماتا ہوں رات جو کچھ مجھے دیتی ہے سحر سے پہلے وقت کے گہرے سمندر میں اتار آتا ہوں دن کے ہنگامے جلا دیتے ہیں مجھ کو ورنہ صبح سے پہلے کئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3853 سے 4657