شاعری

غم کے ماروں کا ہے سہارا چاند

غم کے ماروں کا ہے سہارا چاند کتنا اچھا ہے کتنا پیارا چاند زرد چہرہ ہے چاندنی پھیکی کہیں فرقت کا ہو نہ مارا چاند تو ہر اک کا ہے اور کسی کا نہیں لوگ کہتے رہیں ہمارا چاند ہم جہاں جائیں جس طرف جائیں ساتھ رہتا ہے یہ دل آرا چاند بڑھ گئی اور دل کی بیتابی جانے کیا کر گیا اشارا چاند ہم ...

مزید پڑھیے

کرتا میں اب کسی سے کوئی التماس کیا

کرتا میں اب کسی سے کوئی التماس کیا مرنے کا غم نہیں ہے تو جینے کی آس کیا جب تجھ کو مجھ سے دور ہی رہنا پسند ہے سائے کی طرح رہتا ہے پھر آس پاس کیا تجھ سے بچھڑ کے ہم تو یہی سوچتے رہے یہ گردش حیات نہ آئے گی راس کیا اب ترک دوستی ہی تقاضا ہے وقت کا تیرا قیاس گر ہے یہی تو قیاس کیا مانا کہ ...

مزید پڑھیے

وہ نہیں جانتا ہے جب کچھ بھی

وہ نہیں جانتا ہے جب کچھ بھی اس سے کہنا ہے بے سبب کچھ بھی کون اپنا ہے کون بیگانہ ہم کو معلوم ہے یہ سب کچھ بھی بے غرض ہو کے سب سے ملتے ہیں ہم کہ رکھتے ہیں بے طلب کچھ بھی جب بھی ملتا ہے مسکراتا ہے خواہ اس کا ہو اب سبب کچھ بھی ہم بھی مل کر بچھڑ گئے اس سے بات ایسی نہیں عجب کچھ بھی آدمی ...

مزید پڑھیے

تو خوش نصیب ہے ہر شخص ہے اسیروں میں

تو خوش نصیب ہے ہر شخص ہے اسیروں میں لکھا ہوا ہے ترے ہاتھ کی لکیروں میں جو ہو سکے تو مجھے بھی کہیں تلاش کرو میں کھو گیا ہوں خیالات کے جزیروں میں یہ انقلاب زمانہ نہیں تو پھر کیا ہے امیر شہر جو کل تھا وہ ہے فقیروں میں ہمیں یہ چاہیے ہشیار رہبروں سے رہیں کہ زہر بھی ہیں لگے مصلحت کے ...

مزید پڑھیے

کس درجہ مرے شہر کی دل کش ہے فضا بھی

کس درجہ مرے شہر کی دل کش ہے فضا بھی مانوس ہر اک چیز ہے مٹی بھی ہوا بھی دیکھو تو ہر اک رنگ سے ملتا ہے مرا رنگ سوچو تو ہر اک بات ہے اوروں سے جدا بھی یوں تو مرے حالات سے واقف ہے زمانہ لیکن مجھے ملتا نہیں کچھ اپنا پتا بھی سائے کی طرح ساتھ رہا کرتا ہے اک شخص سایہ کہ ہوا کرتا ہے اپنوں سے ...

مزید پڑھیے

کچھ اس ادا سے وہ میرے دل و نظر میں رہا

کچھ اس ادا سے وہ میرے دل و نظر میں رہا بہ قید ہوش بھی میں عالم دگر میں رہا خود اپنی ذات پہ مجھ کو بھی اختیار نہ تھا تمام عمر میں اک حلقۂ اثر میں رہا وہ عشق جس کی زمانے کو بھی خبر نہ رہی ترے بچھڑنے سے رسوا نگر نگر میں رہا رہ حیات میں تیری رفاقتیں نہ سہی ترا خیال تو ہر دم مجھے سفر ...

مزید پڑھیے

کسی سے رابطہ کوئی نہیں ہے

کسی سے رابطہ کوئی نہیں ہے مجھے کیا جانتا کوئی نہیں ہے کسے آواز دوں کس کو پکاروں یہاں تو دوسرا کوئی نہیں ہے مری باتیں ہی لا یعنی ہیں گویا کہ میری مانتا کوئی نہیں ہے بظاہر دور ہیں اک دوسرے سے دلوں میں فاصلہ کوئی نہیں ہے میں اپنے حال میں جیسا ہوں خوش ہوں کسی کا آسرا کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ توانائی کہاں جو کل تلک اعضا میں تھی

وہ توانائی کہاں جو کل تلک اعضا میں تھی قحط سالی کے دنوں میں تیری یاد آتی رہی ایک بے معنی سی ساعت ایک لا یعنی گھڑی جسم کے اجڑے کھنڈر میں ایک عرصہ بن گئی ایک جھٹکا سا لگا میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کی آنکھوں سے نشے کی تیغ مجھ پر گر پڑی جس پہ میرے خون کی واضح شہادت نقش تھی میرے قاتل کی ...

مزید پڑھیے

خوابوں کی کرچیاں مری مٹھی میں بھر نہ جائے

خوابوں کی کرچیاں مری مٹھی میں بھر نہ جائے آئندہ لمحہ اب کے بھی یوں ہی گزر نہ جائے رسی لٹک رہی ہے گلے کو نہ بھینچ لے خنجر چمک رہا ہے بدن میں اتر نہ جائے منہ پھاڑتی ہیں گھر کی دراڑیں ادھر ادھر اک قہقہہ کہ جیسے فضا میں بکھر نہ جائے کیوں اس کے ساتھ ہی نہ رہا جائے چند روز جو آدمی کہ ...

مزید پڑھیے

ایک سوکھی ہڈیوں کا اس طرف انبار تھا

ایک سوکھی ہڈیوں کا اس طرف انبار تھا اور ادھر اس کا لچیلا گوشت اک دیوار تھا ریل کی پٹری نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے آپ اپنی ذات سے اس کو بہت انکار تھا لوگ ننگا کرنے کے درپئے تھے مجھ کو اور میں بے سر و سامانیوں کے نشے میں سرشار تھا مجھ میں خود میری عدم موجودگی شامل رہی ورنہ اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3852 سے 4657