شاعری

رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھا

رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھا خدمت ناصح میں جانا ہی نہ تھا بڑھ گئے کچھ اور ان کے حوصلے رونے والوں کو ہنسانا ہی نہ تھا دل کا بھی رکھنا تھا ہم کو کچھ خیال اس طرح آنسو بہانا ہی نہ تھا کل زمانہ خود مٹا دیتا جنہیں ایسے نقشوں کو مٹانا ہی نہ تھا بے پیے واعظ کو میری رائے میں مسجد جامع ...

مزید پڑھیے

دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں

دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں الجھ کر جیسے رہ جائے کوئی خواب پریشاں میں یہ مانا ذرے ذرے پر تمہاری مہر ازل سے ہے مگر کیا میری گنجائش نہیں شہر خموشاں میں پتہ اس کی نگاہ وحشت افزا کا لگانا ہے نگاہیں وحشیوں کی دیکھتا پھرتا ہوں زنداں میں یہی ہے روح کا جوہر تم آؤ گے تو نکلے ...

مزید پڑھیے

حسن عالم سوز نامحدود ہونا چاہئے

حسن عالم سوز نامحدود ہونا چاہئے ہر تجلی آفتاب آلود ہونا چاہئے حسن نیت ہے دلیل حسن انجام‌ عمل سعی میں بھی جلوۂ مقصود ہونا چاہئے ایک ہی جلوہ ہے جب ہنگامہ آرائے شہود پھر وہی شاہد وہی مشہود ہونا چاہئے حسن عالم سوز کا فیض تجلی عام ہے ایک اک ذرہ یہاں مسجود ہونا چاہئے شانہ و آئینہ ...

مزید پڑھیے

جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے

جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے پردہ اٹھا کے چاہنے والوں کو دیکھیے کیا دل جگر ہے چاہنے والوں کو دیکھیے میرے سکوت اپنے سوالوں کو دیکھیے اب بھی ہیں ایسے لوگ کہ جن سے سبق ملے دل مردہ ہے تو زندہ مثالوں کو دیکھیے کیا دیکھتے ہیں آپ بہار نمو ابھی جب ایڑیاں تک آئیں تو بالوں کو ...

مزید پڑھیے

چارہ گر چپ ہیں کیوں علاج کریں

چارہ گر چپ ہیں کیوں علاج کریں کچھ تو اپنے کئے کی لاج کر ان سے کس نے کہا تھا وہ مجھ کو فرد ہستی میں اندراج کریں روز کھٹکا سا دل میں رہتا ہے دیکھیے کیا وہ حکم آج کریں فرصت زیست کم ہی کام بہت کل جو کرنا ہے ہم کو آج کریں چارہ گر بھی نہ کیا کریں گے یاد کر سکیں جس قدر علاج کریں سب اسی ...

مزید پڑھیے

جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے

جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے پردہ اٹھا کے چاہنے والوں کو دیکھیے کیا دل جگر ہے چاہنے والوں کو دیکھیے میرے سکوت اپنے سوالوں کو دیکھیے اب بھی ہیں ایسے لوگ کہ جن سے سبق ملے دل مردہ ہے تو زندہ مثالوں کو دیکھیے کیا دیکھتے ہیں آپ بہار نمو ابھی جب ایڑیوں تک آئیں تو بالوں کو ...

مزید پڑھیے

کاش سنتے وہ پر اثر باتیں

کاش سنتے وہ پر اثر باتیں دل سے جو کی تھیں عمر بھر باتیں بے سبب تیرے لب نہیں خاموش کر رہی ہے تری نظر باتیں کوئی سمجھائے آ کے ناصح کو سن سکے کون اس قدر باتیں اس کے افسانے بن گئے لاکھوں میں نے جو کی تھیں عمر بھر باتیں دم الٹ جائے گا عزیزؔ عزیزؔ رہ نہ خاموش کچھ تو کر باتیں

مزید پڑھیے

دل ہمارا ہے کہ ہم مائل فریاد نہیں

دل ہمارا ہے کہ ہم مائل فریاد نہیں ورنہ کیا ظلم نہیں کون سی بیداد نہیں حسن اک شان الٰہی ہے مگر اے بے مہر بے وفائی تو کوئی حسن خداداد نہیں سر تربت وہ خموشی پہ مری کہتے ہیں مرنے والے تجھے پیمان وفا یاد نہیں حسن آراستہ قدرت کا عطیہ ہے مگر کیا مرا عشق جگر سوز خدا داد نہیں لاکھ ...

مزید پڑھیے

دل کا چھالا پھوٹا ہوتا

دل کا چھالا پھوٹا ہوتا کاش یہ تارا ٹوٹا ہوتا شیشۂ دل کو یوں نہ اٹھاؤ دیکھو ہاتھ سے چھوٹا ہوتا چشم حقیقت بیں اک ہوتی باغ کا بوٹا بوٹا ہوتا خیر ہوئی اے جنبش مژگاں زخم کا ٹانکا ٹوٹا ہوتا آج عزیزؔ اس شوخ نظر نے خانۂ دل کو لوٹا ہوتا

مزید پڑھیے

انتہائے عشق ہو یوں عشق میں کامل بنو

انتہائے عشق ہو یوں عشق میں کامل بنو خاک ہو کر بھی نشان سرحد منزل بنو میرے شکوؤں پر یہ کہنا رحم کے قابل بنو مدعا یہ ہے کہ اپنے حال سے غافل بنو غرق ہو کر رول لو موتی خود اپنے واسطے ڈوب کر ابھرو تو اوروں کے لیے ساحل بنو انجمن کیسی تم اپنی ذات سے ہو انجمن گوشۂ خلوت میں بھی بیٹھو تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3813 سے 4657