شاعری

نہ جانے شام نے کیا کہہ دیا سویرے سے

نہ جانے شام نے کیا کہہ دیا سویرے سے اجالے ہاتھ ملانے لگے اندھیرے سے شجر کے حصے میں بس رہ گئی ہے تنہائی ہر اک پرندہ روانہ ہوا بسیرے سے جو اس کی بین کی دھن پر ہوا ہے رقص انداز ٹھنی رہی ہے اسی سانپ کی سپیرے سے ابھی یہ روشنی چبھتی ہوئی ہے آنکھوں میں ابھی ہم اٹھ کے چلے آئے ہیں ...

مزید پڑھیے

ادھر محسوس ہوتی ہے کمی اس کی

ادھر محسوس ہوتی ہے کمی اس کی ادھر میں بھول جاتا ہوں گلی اس کی میں دریا ہو بھی جاؤں گا تو کیا ہوگا مجھے معلوم ہے جب تشنگی اس کی وہ جس کی رات دن تسبیح کرتے ہیں کبھی دیکھی نہیں تصویر بھی اس کی جہاں جائے ہمیں بھی ساتھ لے جائے کہیں بے گھر نہ کر دے بے گھری اس کی وہ اکثر خالی گھر میں ...

مزید پڑھیے

پنچھیوں کی کسی قطار کے ساتھ

پنچھیوں کی کسی قطار کے ساتھ بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ کام آسان تو نہیں پھر بھی جی رہے ہیں دل فگار کے ساتھ آنسوؤں کی طرح وجود مرا بہتا جاتا ہے آبشار کے ساتھ اڑ رہا ہے جو تیری گلیوں میں میں بھی شامل ہوں اس غبار کے ساتھ شام وحشت کہاں پہ لے آئی تو مجھے اپنے انتظار کے ساتھ اور ...

مزید پڑھیے

محبت کا مجھے دعویٰ ہی کیا ہے

محبت کا مجھے دعویٰ ہی کیا ہے چلو جانے بھی دو جھگڑا ہی کیا ہے بہت کچھ دیکھنا ہے آگے آگے ابھی دل نے مرے دیکھا ہی کیا ہے الٰہی کس کے لئے گرتی ہے بجلی نشیمن میں مرے رکھا ہی کیا ہے محبت میں جئے یا کوئی مر جائے کسی کی آپ کو پروا ہی کیا ہے نہ مانے گا نہ مانے گا مرا دل ''نہیں'' سے آپ کی ...

مزید پڑھیے

اٹھائیں ہجر کی شب دل نے آفتیں کیا کیا

اٹھائیں ہجر کی شب دل نے آفتیں کیا کیا امید وصل میں جھیلیں مصیبتیں کیا کیا وہی ہے جام وہی مے وہی سبو لیکن بدل گئی ہیں زمانے کی نیتیں کیا کیا دبی زبان سے کرتے ہیں غیر در پردہ تمہارے منہ پہ تمہاری شکایتیں کیا کیا ستم میں لطف، جفا میں ادا نگاہ میں ناز عتاب میں بھی ہیں پنہاں ...

مزید پڑھیے

کوئی رسوا کوئی سودائی ہے

کوئی رسوا کوئی سودائی ہے اک جہاں آپ کا شیدائی ہے صحبت غیر سے بچئے بچئے دیکھیے دیکھیے رسوائی ہے ہر ادا میں ہے حیات جاوید ہر اشارہ میں مسیحائی ہے

مزید پڑھیے

نہ بدلنا تھا نہ بدلا دل شیدا اپنا

نہ بدلنا تھا نہ بدلا دل شیدا اپنا رنگ ہر وقت بدلتی رہی دنیا اپنا صورت آتش خاموش جلا کرتا ہوں دیکھتا ہوں شب غم آپ تماشا اپنا زخم نے داد نہ دی درد نے فریاد نہ کی رہ گیا تھام کے قاتل بھی کلیجہ اپنا حسن ہے داد خدا عشق ہے امداد خدا غیر کا دخل نہیں بخت ہے اپنا اپنا وہ سنیں یا نہ سنیں ...

مزید پڑھیے

وحشت دل کا عجب رنگ نظر آتا ہے

وحشت دل کا عجب رنگ نظر آتا ہے عرصۂ حشر مجھے تنگ نظر آتا ہے دونوں جانب ہے برابر تری تصویر کا رخ آئینہ میری طرح دنگ نظر آتا ہے کچھ تو صیاد نے کچھ باد صبا نے لوٹا آشیانے کا عجب رنگ نظر آتا ہے صلح جوئی کی تمنا میں شب و روز عزیزؔ یک جہاں مضطرب جنگ نظر آتا ہے

مزید پڑھیے

بڑھ گئیں گستاخیاں میری سزا کے ساتھ ساتھ

بڑھ گئیں گستاخیاں میری سزا کے ساتھ ساتھ پیار آتا ہے تری جور و جفا کے ساتھ ساتھ ضعف سے راہ محبت میں قدم اٹھتے نہیں پاؤں جمتے ہیں زمیں پر نقش پا کے ساتھ ساتھ چھوٹ کر کنج قفس سے نکہت گل کی طرح ہم بھی اڑ کر جائیں گے باد صبا کے ساتھ ساتھ سرد آہوں سے پھنکا جاتا ہے سینے میں جگر آتش غم ...

مزید پڑھیے

کیوں خفا ہو کیوں ادھر آتے نہیں

کیوں خفا ہو کیوں ادھر آتے نہیں دیکھتا ہوں تم نظر آتے نہیں وہ یہ کہہ کر داغ دیتے ہیں مجھے پھول سے پہلے ثمر آتے نہیں ہم ہیں وہ مے نوش پی کر بھی کبھی میکدے سے بے خبر آتے نہیں دیکھتا ہوں ان کی صورت دیکھ کر دھوپ میں تارے نظر آتے نہیں نیند تو کیا نیند کے جھونکے عزیزؔ ہجر میں وقت سحر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3794 سے 4657