شاعری

ایسے پامال کہ پہچان میں آتے ہی نہیں

ایسے پامال کہ پہچان میں آتے ہی نہیں پھول سے چہرے مرے دھیان میں آتے ہی نہیں روک لیتی ہے کہیں راہ میں نوحوں کی صدا خوش نوا گیت مرے کان میں آتے ہی نہیں یوں تو کیا کیا نہ لیا زاد سفر چلتے ہوئے چند سپنے ہیں جو سامان میں آتے ہی نہیں اس طرف لڑنے پہ آمادہ ہے لشکر اپنا اور سالار کہ میدان ...

مزید پڑھیے

دیکھیے چلتا ہے پیمانہ کدھر سے پہلے

دیکھیے چلتا ہے پیمانہ کدھر سے پہلے بزم میں شور ہے ہر سمت ادھر سے پہلے غم کی تاریک گھٹاؤں سے پریشان نہ ہو تیرگی ہوتی ہے آثار سحر سے پہلے آپ جس راہ گزر سے ہیں گزرنے والے ہم گزر آئے ہیں اس راہ گزر سے پہلے مجھ سے دیکھے نہیں جاتے ہیں کسی کے آنسو پونچھ لو اشک ذرا دیدۂ تر سے پہلے حسن ...

مزید پڑھیے

جلوے ہوا کے دوش یہ کوئی گھٹا کے دیکھ

جلوے ہوا کے دوش یہ کوئی گھٹا کے دیکھ میخانے اڑتے پھرتے ہیں منظر فضا کے دیکھ کیوں شان حسن آئنہ خانے میں جا کے دیکھ اظہرؔ کو اپنے حسن کا مظہر بنا کے دیکھ محصور ہو گئی ہے تجلی نگاہ میں اب تو مری نگاہ سے دامن بچا کے دیکھ کیا جانے کس مقام یہ قسمت چمک اٹھے مایوس کیوں ہے دست طلب تو ...

مزید پڑھیے

یہ محبت کا فسانہ بھی بدل جائے گا

یہ محبت کا فسانہ بھی بدل جائے گا وقت کے ساتھ زمانہ بھی بدل جائے گا آج کل میں کوئی طوفان ہے اٹھنے والا ہم غریبوں کا ٹھکانہ بھی بدل جائے گا مجھ سے للہ نہ سرکار چھڑائیں دامن آپ بدلے تو زمانہ بھی بدل جائے گا پھر بہار آئی ہے گلشن کا نظارہ کر لو ورنہ یہ وقت سہانہ بھی بدل جائے ...

مزید پڑھیے

ملتے جلتے ہیں یہاں لوگ ضرورت کے لئے

ملتے جلتے ہیں یہاں لوگ ضرورت کے لئے ہم ترے شہر میں آئے ہیں محبت کے لئے وہ بھی آخر تری تعریف میں ہی خرچ ہوا میں نے جو وقت نکالا تھا شکایت کے لئے میں ستارہ ہوں مگر تیز نہیں چمکوں گا دیکھنے والے کی آنکھوں کی سہولت کے لئے تم کو بتلاؤں کہ دن بھر وہ مرے ساتھ رہا ہاں وہی شخص جو مشہور ہے ...

مزید پڑھیے

پڑھیے سبق یہی ہے وفا کی کتاب کا

پڑھیے سبق یہی ہے وفا کی کتاب کا کانٹے کرا رہے ہیں تعارف گلاب کا کیسا یہ انتشار دیوں کی صفوں میں ہے کچھ تو اثر ہوا ہے ہوا کے خطاب کا یہ طے کیا جو میں نے جنوں تک میں جاؤں گا یہ مرحلہ اہم ہے مرے اضطراب کا مانا بہت حسین تھا وہ عمر کا پڑاؤ قصہ مگر نہ چھیڑئیے عہد شباب کا اظہرؔ کہیں سے ...

مزید پڑھیے

نیند پلکوں پہ یوں رکھی سی ہے

نیند پلکوں پہ یوں رکھی سی ہے آنکھ جیسے ابھی لگی سی ہے اپنے لوگوں کا ایک میلہ ہے اپنے پن کی یہاں کمی سی ہے خوب صورت ہے صرف باہر سے یہ عمارت بھی آدمی سی ہے میں ہوں خاموش اور مرے آگے تیری تصویر بولتی سی ہے چارہ سازو مرا علاج کرو آج کچھ درد میں کمی سی ہے

مزید پڑھیے

داغ چہرے کا یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے

داغ چہرے کا یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے آئنہ ضد میں مگر توڑ دیا جاتا ہے تیری شہرت کے پس پردہ مرا نام بھی ہے تیری لغزش سے مجھے جوڑ دیا جاتا ہے کوئی کردار ادا کرتا ہے قیمت اس کی جب کہانی کو نیا موڑ دیا جاتا ہے اک توازن جو بگڑتا ہے کبھی روح کے ساتھ شیشۂ جسم وہیں پھوڑ دیا جاتا ہے

مزید پڑھیے

زیست عنوان تیرے ہونے کا

زیست عنوان تیرے ہونے کا دل کو ایمان تیرے ہونے کا مجھ کو ہر سمت لے کے جاتا ہے ایک امکان تیرے ہونے کا آ گیا وقت میرے بعد آخر اب پریشان تیرے ہونے کا آنکھ منظر بناتی رہتی ہے یعنی سامان تیرے ہونے کا میرا ہونا بھی ایک پہلو ہے ہاں مری جان تیرے ہونے کا

مزید پڑھیے

سلسلہ یوں بھی روا رکھا شناسائی کا

سلسلہ یوں بھی روا رکھا شناسائی کا کوئی رشتہ تو رہے آنکھ سے بینائی کا تبصرہ خوب یہاں تیر کی رفتار پہ ہے تذکرہ کون کرے زخم کی گہرائی کا محترم کہہ کے مجھے اس نے پشیمان کیا کوئی پہلو نہ ملا جب مری رسوائی کا تنگ آ کر تری یادوں کو پرے جھٹکا ہے مرثیہ کون پڑھے روز کی تنہائی کا اپنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3793 سے 4657