شاعری

پھونک دیں گے مرے اندر کے اجالے مجھ کو

پھونک دیں گے مرے اندر کے اجالے مجھ کو کاش دشمن مرا قندیل بنا لے مجھ کو ایک سایہ ہوں میں حالات کی دیوار میں قید کوئی سورج کی کرن آ کے نکالے مجھ کو اپنی ہستی کا کچھ احساس تو ہو جائے مجھے اور نہیں کچھ تو کوئی مار ہی ڈالے مجھ کو میں سمندر ہوں کہیں ڈوب نہ جاؤں خود میں اب کوئی موج ...

مزید پڑھیے

ذرا سی دیر میں وہ جانے کیا سے کیا کر دے

ذرا سی دیر میں وہ جانے کیا سے کیا کر دے کسے چراغ بنا دے کسے ہوا کر دے مرے مزاج کے کوفے پہ جس کا قبضہ ہے خبر نہیں کہ وہ کب مجھ کو کربلا کر دے یہ کون شخص ہے اس لفظ جیسا لگتا ہے مرے وجود کے مطلب کو جو ادا کر دے

مزید پڑھیے

میں اس کی بات کے لہجے کا اعتبار کروں

میں اس کی بات کے لہجے کا اعتبار کروں کروں کہ اس کا نہ میں آج انتظار کروں میں صرف سایہ ہوں اپنا مگر یہ ضد ہے مجھے کہ اپنے آپ کو خود سے الگ شمار کروں عجب مزاج ہے اس کا بھی چاہتا ہے کہ میں بطور وضع فقط خود کو اختیار کروں میں اک اتھاہ سمندر ہوں اس خیال میں غرق کہ ڈوب جاؤں میں خود میں ...

مزید پڑھیے

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نے

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نے کہ اک تلوار رکھ دی زندگی کے درمیاں ہم نے ہمیں تو عمر بھر رہنا تھا خوابوں کے جزیروں میں کناروں پر پہنچ کر پھونک ڈالیں کشتیاں ہم نے ہمارے جسم ہی کیا سائے تک جسموں کے زخمی ہیں دلوں میں گھونپ لیں ہیں روشنی کی برچھیاں ہم نے ہمیں دی جائے گی ...

مزید پڑھیے

نکلنا خود سے ممکن ہے نہ ممکن واپسی میری

نکلنا خود سے ممکن ہے نہ ممکن واپسی میری مجھے گھیرے ہوئے ہے ہر طرف سے بے رخی میری بجھا کے رکھ گیا ہے کون مجھ کو طاق نسیاں پر مجھے اندر سے پھونکے دے رہی ہے روشنی میری میں خوابوں کے محل کی چھت سے گر کے خود کشی کر لوں حقیقت سے اگر ممکن نہیں ہے دوستی میری میں اپنے جسم کے مردہ عجائب ...

مزید پڑھیے

یہ حوصلہ بھی کسی روز کر کے دیکھوں گی

یہ حوصلہ بھی کسی روز کر کے دیکھوں گی اگر میں زخم ہوں اس کا تو بھر کے دیکھوں گی کسی طرف کوئی زینہ نظر نہیں آتا میں اس کے ذہن میں کیوں کر اتر کے دیکھوں گی میں روشنی ہوں تو میری پہنچ کہاں تک ہے کبھی چراغ کے نیچے بکھر کے دیکھوں گی سنا دوراہے پہ امید کے سرائے ہے ایک میں اپنی راہ اسی ...

مزید پڑھیے

ہٹا کے میز سے اک روز آئینہ میں نے

ہٹا کے میز سے اک روز آئینہ میں نے پھر اپنے آپ سے رکھا نہ واسطہ میں نے جب اپنے آپ سے پہچان اپنی کھو کے ملی تو خود ہی کاٹ دیا اپنا راستہ میں نے میں کم سنی میں بھی گڑیا کبھی نہیں کھیلی پلوں میں طے کیا برسوں کا فاصلہ میں نے چراغ ہوں مجھے جب دھوپ راس آ نہ سکی تو خود سکوڑ لیا اپنا دائرہ ...

مزید پڑھیے

میرے اندر ایک دستک سی کہیں ہوتی رہی

میرے اندر ایک دستک سی کہیں ہوتی رہی زندگی اوڑھے ہوئے میں بے خبر سوتی رہی کوئی موسم میری امیدوں کو راس آیا نہیں فصل اندھیاروں کی کاٹی اور دیے بوتی رہی کہنے والا خود تو سر تکیے پہ رکھ کر سو گیا میری بے چاری کہانی رات بھر روتی رہی راستے میں اس قدر یادوں کے دوراہے پڑے آج ماضی کی ...

مزید پڑھیے

پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپنا

پڑا ہے زندگی کے اس سفر سے سابقہ اپنا جہاں چلتا ہے اپنے ساتھ خالی راستہ اپنا کسی دریا کی صورت بہہ رہی ہوں اپنے اندر میں مرا ساحل بڑھاتا جا رہا ہے فاصلہ اپنا لٹا کے اپنا چہرہ تک رہی ہوں اپنا منہ جیسے کوئی پاگل الٹ کے دیکھتا ہو آئینہ اپنا یہ بستی لوگ کہتے ہیں مرے خوابوں کی بستی ...

مزید پڑھیے

تو آیا تو دوار بھڑے تھے دیپ بجھا تھا آنگن کا

تو آیا تو دوار بھڑے تھے دیپ بجھا تھا آنگن کا سدھ بسرانے والے مجھ کو ہوش کہاں تھا تن من کا جانے کن زلفوں کی گھٹائیں چھائی ہیں میری نظروں میں روتے روتے بھیگ چلا اس سال بھی آنچل ساون کا تھوڑی دیر میں تھک جائیں گے نیل کمل سی رین کے پاؤں تھوڑی دیر میں تھم جائے گا راگ ندی کے جھانجھن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3767 سے 4657