گرداب ریگ جان سے موج سراب تک
گرداب ریگ جان سے موج سراب تک زندہ ہے تو لہو میں بس اک اضطراب تک اک میں کہ ایک غم کا تقاضا نہ کر سکا اک وہ کہ اس نے مانگ لئے اپنے خواب تک تو لفظ لفظ لذت ہجراں میں ہے ابھی ہم آ گئے ہیں ہجرت غم کے نصاب تک جو زیر موج آب رواں ہے خروج آب آ جائے ایک روز اگر سطح آب تک ملتا کہیں سواد ...