شاعری

تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں

تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں نئی سحر کے چراغوں کا کارواں ہوں میں ہوائیں میرے ورق لوٹ لوٹ دیتی ہیں نہ جانے کتنے زمانوں کی داستاں ہوں میں ہر ایک شہر نگاراں سمجھ رہا ہے مجھے ذرا قریب سے دیکھو دھواں دھواں ہوں میں کسی سے بھیڑ میں چہرہ بدل گیا ہے مرا تو سارے آئنہ خانوں سے ...

مزید پڑھیے

وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو

وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو اور ڈھونڈے گا کہیں میرے علاوہ مجھ کو کس قدر اس کو سرابوں نے ستایا ہوگا دور ہی سے جو سمجھتا رہا چشمہ مجھ کو میری امید کے سورج کو ڈبو کے ہر شام وہ دکھاتا رہا دریا کا تماشہ مجھ کو جب کسی رات کبھی بیٹھ کے مے خانے میں خود کو بانٹے گا تو دے گا مرا ...

مزید پڑھیے

مرے مزاج کو سورج سے جوڑتا کیوں ہے

مرے مزاج کو سورج سے جوڑتا کیوں ہے میں دھوپ ہوں مجھے ناحق سکوڑتا کیوں ہے اگر یہ سچ ہے کہ تو میرا خواب ہے تو بتا کہ آنکھ لگتے ہی مجھ کو جھنجھوڑتا کیوں ہے ادھر بھی تو ہے ادھر بھی جو صرف تو ہی ہے تو پھر یہ بیچ کی دیوار توڑتا کیوں ہے میں تیرے وعدے کو جب آنسوؤں سے دھوتی ہوں ہر ایک لفظ ...

مزید پڑھیے

لہو سے اٹھ کے گھٹاؤں کے دل برستے ہیں

لہو سے اٹھ کے گھٹاؤں کے دل برستے ہیں بدن چھتوں کی طرح دھوپ میں جھلستے ہیں ہم ایسے پیڑ ہیں جو چھاؤں باندھ کر رکھ دیں شدید دھوپ میں خود سائے کو ترستے ہیں ہر ایک جسم کے چاروں طرف سمندر ہے یہاں عجیب جزیروں میں لوگ بستے ہیں سبھی کو دھن ہے کہ شیشے کے بام و در ہوں مگر یہ دیکھتے نہیں ...

مزید پڑھیے

کس قدر کم اساس ہیں کچھ لوگ

کس قدر کم اساس ہیں کچھ لوگ صرف اپنا قیاس ہیں کچھ لوگ جن کو دیوار و در بھی ڈھک نہ سکے اس قدر بے لباس ہیں کچھ لوگ مطمئن ہیں بہت ہی دنیا سے پھر بھی کتنے اداس ہیں کچھ لوگ وہ برے ہوں بھلے ہوں جیسے ہوں کچھ ہوں لوگوں کو راس ہیں کچھ لوگ موسموں کا کوئی اثر ہی نہیں ان پہ جنگل کی گھاس ہیں ...

مزید پڑھیے

تری باتوں میں چکنائی بہت ہے

تری باتوں میں چکنائی بہت ہے کہ کم ہے دودھ بالائی بہت ہے پولس کیوں آپ منگوانے لگے ہیں مجھے تو آپ کا بھائی بہت ہے محبت کیوں محلے بھر سے کر لیں ہمیں تو ایک ہمسائی بہت ہے وہ محبوبہ سے بیوی بن نہ جائے مری ماں کو پسند آئی بہت ہے نشہ ٹوٹا نہیں ہے مار کھا کر کہ ہم نے پی ہے کم کھائی بہت ...

مزید پڑھیے

کھول رہے ہیں موند رہے ہیں یادوں کے دروازے لوگ

کھول رہے ہیں موند رہے ہیں یادوں کے دروازے لوگ اک لمحے میں کھو بیٹھے ہیں صدیوں کے اندازے لوگ نیند اچٹ جانے سے سب پر جھنجھلاہٹ سی طاری ہے آنکھیں میچے باندھ رہے ہیں خوابوں کے شیرازے لوگ شہروں شہروں پھرتے ہیں دیوانوں کا بہروپ بھرے خود سے چھپ کر خود کو ڈھونڈ رہے ہیں بعضے بعضے ...

مزید پڑھیے

کبھی گوکل کبھی رادھا کبھی موہن بن کے

کبھی گوکل کبھی رادھا کبھی موہن بن کے میں خیالوں میں بھٹکتی رہی جوگن بن کے ہر جنم میں مجھے یادوں کے کھلونے دے کے وہ بچھڑتا رہا مجھ سے مرا بچپن بن کے میرے اندر کوئی تکتا رہا رستہ اس کا میں ہمیشہ کے لئے رہ گئی چلمن بن کے زندگی بھر میں کھلی چھت پہ کھڑی بھیگا کی صرف اک لمحہ برستا رہا ...

مزید پڑھیے

ایک دیے نے صدیوں کیا کیا دیکھا ہے بتلائے کون

ایک دیے نے صدیوں کیا کیا دیکھا ہے بتلائے کون چھوڑو اگلے وقتوں کے قصے پھر سے دہرائے کون اب بھی کھڑی ہے سوچ میں ڈوبی اجیالوں کا دان لئے آج بھی ریکھا پار ہے راون سیتا کو سمجھائے کون اپنا اپنا آسن چھوڑ کے ہر مورت اٹھ آئی ہے سونے کی دیواروں میں رہ کر پاتھر کہلائے کون جس نے دیے کی ...

مزید پڑھیے

روٹھ جائے گا تو مجھ سے اور کیا لے جائے گا

روٹھ جائے گا تو مجھ سے اور کیا لے جائے گا بس یہی ہوگا کہ جینے کا مزا لے جائے گا سردیوں کی دوپہر سے دھوپ لے جائے گا وہ گرمیوں کی شام سے ٹھنڈی ہوا لے جائے گا سبز موسم کی طنابیں کھینچ لے گا جسم سے اور بالوں سے مرے کالی گھٹا لے جائے گا اپنے اندر زرد پتوں کی طرح بکھروں گی میں میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3768 سے 4657