تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں
تھکن سے چور ہوں لیکن رواں دواں ہوں میں نئی سحر کے چراغوں کا کارواں ہوں میں ہوائیں میرے ورق لوٹ لوٹ دیتی ہیں نہ جانے کتنے زمانوں کی داستاں ہوں میں ہر ایک شہر نگاراں سمجھ رہا ہے مجھے ذرا قریب سے دیکھو دھواں دھواں ہوں میں کسی سے بھیڑ میں چہرہ بدل گیا ہے مرا تو سارے آئنہ خانوں سے ...