شاعری

کمال یہ ہے کہ دنیا کو کچھ پتہ نہ لگے

کمال یہ ہے کہ دنیا کو کچھ پتہ نہ لگے ہو التجا بھی کچھ ایسی کہ التجا نہ لگے پرانی باتیں ہیں اب ان کا ذکر بھی چھوڑو اگر کسی کو سناؤں تو اک فسانہ لگے وہ ایک لمحہ تھا جس نے کیا مجھے بسمل میں داستان بتاؤں تو اک زمانہ لگے بسے ہیں جلوے کچھ ایسے نگاہ عاشق میں جسے بھی دیکھے کوئی تجھ سے ...

مزید پڑھیے

عجیب کیفیت آخر تلک رہی دل کی

عجیب کیفیت آخر تلک رہی دل کی فراز دار میں بھی جستجو تھی منزل کی وہ حسن جس سے ملا ہے مجھے شعور وفا خدا نہیں تھا تو کیوں وحئ عشق نازل کی تراشے کتنے ہی بت آذری کے فن نے مگر ملی نہ ایک بھی صورت ترے مقابل کی اب آنکھیں بند ہیں تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے مری نگاہ میں تصویرہوگی قاتل کی دماغ ...

مزید پڑھیے

تیری یادیں ہیں جنہیں دل میں بسا رکھا ہے

تیری یادیں ہیں جنہیں دل میں بسا رکھا ہے ہم نے اس آگ کو سینے میں دبا رکھا ہے شہر ہو دشت تمنا ہو کہ دریا کا سفر تیری تصویر کو سینے سے لگا رکھا ہے یہ تو ممکن ہی نہیں حسن کا فیضان نہ ہو عشق نے حسن کو ارمان بنا رکھا ہے کیسا سورج ہے کہ دیتا نہیں ظلمت کو شکست کیوں اندھیروں نے اجالوں کو ...

مزید پڑھیے

یادوں کا جزیرہ شب تنہائی میں

یادوں کا جزیرہ شب تنہائی میں مصروف ہے یادوں کی پذیرائی میں اب بھی وہی اظہار تغافل کا مزاج اب بھی وہی اندیشہ شناسائی میں اثبات نفی ہو کہ نفی ہو اثبات کیوں جاؤں میں الفاظ کی گہرائی میں کچھ لوگ تو منزل کی خبر بھی لے آئے ہم مست رہے لذت خود رائی میں چھوڑوں بھی خیال ان کا تو کیا ...

مزید پڑھیے

وہ اک نظر سے مجھے بے اساس کر دے گا

وہ اک نظر سے مجھے بے اساس کر دے گا مرے یقین کو میرا قیاس کر دے گا میں جب بھی اس کی اداسی سے اوب جاؤں گی تو یوں ہنسے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا ملا کے مجھ سے نگاہیں وہ میری نظروں کے ذرا سی دیر میں خالی گلاس کر دے گا پھر اس طرح سے رہے گا مرے خیالوں میں کہ میری پیاس کو دریا کی پیاس کر ...

مزید پڑھیے

ٹٹولتا ہوا کچھ جسم و جان تک پہنچا

ٹٹولتا ہوا کچھ جسم و جان تک پہنچا وہ آدمی جو مری داستان تک پہنچا کسی جنم میں جو میرا نشاں ملا تھا اسے پتا نہیں کہ وہ کب اس نشان تک پہنچا میں صرف ایک خلا تھی، جہاں فضا نہ ہوا جب آرزو کا پرندہ اڑان تک پہنچا نہ جانے راہ میں کیا اس پہ حادثہ گزرا کہ عمر بھر نہ نظر سے زبان تک پہنچا یہ ...

مزید پڑھیے

نہیں ہے پر کوئی امکان ہو بھی سکتا ہے

نہیں ہے پر کوئی امکان ہو بھی سکتا ہے وہ ایک شب مرا مہمان ہو بھی سکتا ہے عجب نہیں کہ بچھڑنے کا فیصلہ کر لے اگر یہ دل ہے تو نادان ہو بھی سکتا ہے محبتوں میں تو سود و زیاں کو مت سوچو محبتوں میں تو نقصان ہو بھی سکتا ہے بہت گراں ہے جدائی مگر جو ہونا ہو تو پھر یہ فیصلہ آسان ہو بھی سکتا ...

مزید پڑھیے

در پیش نہیں نقل مکانی کئی دن سے

در پیش نہیں نقل مکانی کئی دن سے آئی نہ طبیعت میں روانی کئی دن سے پھر ریت کے دریا پہ کوئی پیاسا مسافر لکھتا ہے وہی ایک کہانی کئی دن سے دشمن کا کنارے پہ بڑا سخت ہے پہرا آیا نہ مرے شہر میں پانی کئی دن سے سونپے تھے کہاں دھوپ کے موسم کو گھنے پیڑ میں ڈھونڈ رہا ہوں وہ نشانی کئی دن ...

مزید پڑھیے

شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں

شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں کیا بلا اتری ہے کیوں دیوار و در خاموش ہیں وہ کھلیں تو ہم سے راز دشت وحشت کچھ کھلے لوٹ کر کچھ لوگ آئے ہیں مگر خاموش ہیں ہو گیا غرقاب سورج اور پھر اب اس کے بعد ساحلوں پر ریت اڑتی ہے بھنور خاموش ہیں منزلوں کے خواب دے کر ہم یہاں لائے گئے اب یہاں تک ...

مزید پڑھیے

چاک دامان قبا داغ جنوں ساز بہت

چاک دامان قبا داغ جنوں ساز بہت ہم نے پائے ہیں در یار سے اعزاز بہت ہم سے پوچھو کہ غم فرقت یاراں کیا ہے ہم نے دیکھے ہیں شب ہجر کے انداز بہت رات بھر چاند سے ہوتی رہیں تیری باتیں رات کھولے ہیں ستاروں نے ترے راز بہت آج کیوں پہلی سی کچھ وحشت دل کوئی نہیں آج مدھم ہے شب غم ترا آغاز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3765 سے 4657