کمال یہ ہے کہ دنیا کو کچھ پتہ نہ لگے
کمال یہ ہے کہ دنیا کو کچھ پتہ نہ لگے ہو التجا بھی کچھ ایسی کہ التجا نہ لگے پرانی باتیں ہیں اب ان کا ذکر بھی چھوڑو اگر کسی کو سناؤں تو اک فسانہ لگے وہ ایک لمحہ تھا جس نے کیا مجھے بسمل میں داستان بتاؤں تو اک زمانہ لگے بسے ہیں جلوے کچھ ایسے نگاہ عاشق میں جسے بھی دیکھے کوئی تجھ سے ...