شاعری

ہوا سے ربط ذرا سوچ کر بنانا تھا

ہوا سے ربط ذرا سوچ کر بنانا تھا ہمیں زمیں پہ اترنا تھا گھر بنانا تھا خوشی بنانی تھی پہلے کسی تعلق کی پھر اس خوشی کو بچانے کا ڈر بنانا تھا ہماری آنکھ کو اب تک سمجھ نہیں آئی کہ پہلے اشک یا پہلے کہر بنانا تھا ارے یہ عشق بھی تو منچلے کا سودا ہے ہمارے بس میں جو ہوتا کدھر بنانا ...

مزید پڑھیے

تری آواز پر رکے ہی نہیں

تری آواز پر رکے ہی نہیں سو کئی واقعے ہوئے ہی نہیں اس نے جتنے دئے میں لے آیا مفت کے سانس تھے گنے ہی نہیں معجزے وقت پر نہیں ہوتے سانحے وقت دیکھتے ہی نہیں جھوٹ ہے دل بدر کئے گئے ہیں سچ کہیں ہم وہاں پہ تھے ہی نہیں سب حقیقت پسند ہو گئے ہیں لوگ اب خواب دیکھتے ہی نہیں جو ترے نام میں ...

مزید پڑھیے

ایسے حیراں ہیں کہ حیرت کی کوئی حد ہی نہیں

ایسے حیراں ہیں کہ حیرت کی کوئی حد ہی نہیں عکس ٹوٹا ہے مگر آئنے پہ زد ہی نہیں ہم ترے ظرف کی قامت سے بہت چھوٹے ہیں تیرے رتبے کے برابر تو یہاں قد ہی نہیں اب یہی آخری حل ہے کہ مدینے پہنچوں اک وہی در ہے کہ جس در پہ کوئی رد ہی نہیں ہر بڑھاپے کو بزرگی بھی نہیں مل سکتی تنگ گلیوں کے نصیبوں ...

مزید پڑھیے

کیا ہوگا اندازہ تھوڑی ہوتا ہے

کیا ہوگا اندازہ تھوڑی ہوتا ہے ہم نے وقت بنایا تھوڑی ہوتا ہے میرے ساتھ کھڑی شہزادی لگتی تھی ہر کوئی شہزادہ تھوڑی ہوتا ہے ہم نے مال مفت سمجھ برباد کیا جینا کھیل تماشا تھوڑی ہوتا ہے وہ جس بات پہ جینا مشکل ہو جائے اب اس بات پہ مرنا تھوڑی ہوتا ہے مالک اپنی مرضی کا بھی مالک ہے مالک ...

مزید پڑھیے

آسماں پر کالے بادل چھا گئے

آسماں پر کالے بادل چھا گئے گھر کے اندر آئنے دھندلا گئے کیا غضب ہے ایک بھی کوئل نہیں سب بغیچے آم کے منجرا گئے گھٹتے بڑھتے فاصلوں کے درمیاں دفعتاً دو راستے بل کھا گئے ڈوبتا ہے آ کے سورج ان کے پاس وہ دریچے میرے دل کو بھا گئے شہر کیا دنیا بدل کر دیکھ لو پھر کہو گے ہم تو اب اکتا ...

مزید پڑھیے

کہیں صبح و شام کے درمیاں کہیں ماہ و سال کے درمیاں

کہیں صبح و شام کے درمیاں کہیں ماہ و سال کے درمیاں یہ مرے وجود کی سلطنت ہے عجب زوال کے درمیاں ابھی صحن جاں میں بچھی ہوئی جو بہار ہے اسے کیا کہوں میں کسی عتاب کی زد میں ہوں تو کسی ملال کے درمیاں ہیں کسی اشارے کے منتظر کئی شہسوار کھڑے ہوئے کہ ہو گرم پھر کوئی معرکہ مرے ضبط حال کے ...

مزید پڑھیے

ضرورتوں کی ہماہمی میں جو راہ چلتے بھی ٹوکتی ہے وہ شاعری ہے

ضرورتوں کی ہماہمی میں جو راہ چلتے بھی ٹوکتی ہے وہ شاعری ہے میں جس سے آنکھیں چرا رہا ہوں جو میری نیندیں چرا رہی ہے وہ شاعری ہے جو آگ سینے میں پل رہی ہے مچل رہی ہے بیاں بھی ہو تو عیاں نہ ہوگی مگر ان آنکھوں کے آبلوں میں جو جل رہی ہے پگھل رہی ہے وہ شاعری ہے تھا اک تلاطم مئے تخیل کے جام ...

مزید پڑھیے

چپ تھے جو بت سوال بہ لب بولنے لگے

چپ تھے جو بت سوال بہ لب بولنے لگے ٹھہرو کہ قوس برق و لہب بولنے لگے ویرانیوں میں ساز طرب بولنے لگے جیسے لہو میں آب عنب بولنے لگے اک رشتہ احتیاج کا سو روپ میں ملا سو ہم بھی اب بہ‌ طرز طلب بولنے لگے خاموش بے گناہی اکیلی کھڑی رہی کچھ بولنے سے پہلے ہی سب بولنے لگے پہلے تم اس موبائل ...

مزید پڑھیے

نشان‌ زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگی

نشان‌ زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگی لہو میں ظلمت شب انگلیاں بھگونے لگی ہوا وہ جشن کہ نیزے بلند ہونے لگے نیام تیغ کی خنجر کے ساتھ سونے لگی جہاں میں دوڑ کے پہنچا تھا وہ گھنیری چھاؤں ذرا سی دیر میں زار و قطار رونے لگی ندی ڈباؤ نہ تھی ڈوبنا پڑا لیکن کنارے پہنچا تو شرمندگی ڈبونے ...

مزید پڑھیے

گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کا

گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کا بیٹھے بیٹھے آ گئی نیند اصرار تھا یہ کسی خواہش کا چند کتابیں تھوڑے سپنے اک کمرے میں رہتے ہیں میں بھی یہاں گنجائش بھر ہوں کس کو خیال آرائش کا ٹھہر ٹھہر کر کوند رہی تھی بجلی باہر جنگل میں ٹرین رکی تو سرپٹ ہو گیا گھوڑا وقت کی تازش کا ٹیس پرانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3757 سے 4657