شاعری

تمام رات چھتوں پر برس گیا پانی

تمام رات چھتوں پر برس گیا پانی سویرا ہوتے ہی بستی میں بس گیا پانی پیا کی بانہوں میں دلہن کو کس گیا پانی اندھیری رات میں برہن کو ڈس گیا پانی بڑا ہی ناز تھا اپنی خنک مزاجی پر زمیں کے تپتے توے پر جھلس گیا پانی وہ ناپتا رہا دھرتی کے سب نشیب و فراز فریب راحت ماندن میں پھنس گیا ...

مزید پڑھیے

کیفیت دل حزیں ہم سے نہیں بیاں ہوئی

کیفیت دل حزیں ہم سے نہیں بیاں ہوئی لفظ نہ ساتھ دے سکے آنسوؤں سے عیاں ہوئی شورش واردات قلب شعروں میں ڈھال ڈھال کر لکھتے رہے تمام عمر ختم نہ داستاں ہوئی اب نہ وہ دل میں دھڑکنیں اب نہ وہ سوز و ساز ہے پوچھتے ہیں وفات دل کیسے ہوئی کہاں ہوئی میری ذرا سی بات پر جانے وہ کیوں خفا ...

مزید پڑھیے

پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گے

پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گے پھر مرے حق میں عدالت میں گواہی دیں گے ایک انسان بھی ڈھونڈے سے نہ مل پائے گا آدمی آدمی ہر سمت دکھائی دیں گے ماں کے جائے ہوئے پالے ہوئے کتنے بیٹے ماں کے ہاتھوں میں ہی لا لا کے کمائی دیں گے ایک ماں ہے جو ہمیشہ ہی دعائیں دے گی اس کے بیٹے جو اگر گھر سے ...

مزید پڑھیے

نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میں

نغمے تڑپ رہے ہیں دل بے قرار میں آنکھیں برس رہی ہیں غم انتظار میں فطرت اداس سی ہے گھٹائیں ہیں سوگوار اک غم نصیب حسن ہے ابر بہار میں ہے ذرہ ذرہ شوق سماعت سے بے قرار تم گنگنا رہے ہو کسی آبشار میں ساون کی رت بہار کا موسم اندھیری رات رم جھم کے گیت گونج رہے ہیں پھوار میں سپنوں میں ہو ...

مزید پڑھیے

اپنا بگڑا ہوا بناؤ لیے

اپنا بگڑا ہوا بناؤ لیے جی رہے ہیں وہی سبھاؤ لیے شام اتری ہے پھر احاطے میں جسم پر روشنی کے گھاؤ لیے سیدھی سادی سی راہ تھی مجھ تک تم نے ناحق کئی گھماؤ لیے درد کے قہر سے لڑیں کب تک اک ترے روپ کا الاؤ لیے لوگ دریا سمجھ رہے ہیں مجھے مجھ میں صحرا ہے اک بہاؤ لیے دل نے بے رنگ ہونے سے ...

مزید پڑھیے

بار دیگر یہ فلسفے دیکھوں

بار دیگر یہ فلسفے دیکھوں زخم پھر سے ہرے بھرے دیکھوں یہ بصیرت عجب بصیرت ہے آئنوں میں بھی آئنے دیکھوں زاویوں سے اگر نجات ملے سارے منظر گھلے ملے دیکھوں نظم کرنا ہے بے حسابی کو لفظ سارے نپے تلے دیکھوں آخر آخر جو داستاں نہ بنے اول اول وہ واقعے دیکھوں دوریاں دھند بن کے بکھری ...

مزید پڑھیے

ہمیں دیکھا نہ کر اڑتی نظر سے

ہمیں دیکھا نہ کر اڑتی نظر سے امیدوں کے نکل آتے ہیں پر سے اب ان کی راکھ پلکوں پر جمی ہے گھڑی بھر خواب چمکے تھے شرر سے بچانے میں لگی ہے خلق مجھ کو میں ضائع ہو رہا ہوں اس ہنر سے وہ لہجہ ہائے دریائے سخن میں مسلسل بنتے رہتے ہیں بھنور سے سمندر ہے کوئی آنکھوں میں شاید کناروں پر چمکتے ...

مزید پڑھیے

یہ کس کی یاد کا دل پر رفو تھا

یہ کس کی یاد کا دل پر رفو تھا کہ بہہ جانے پہ آمادہ لہو تھا چمکتے ہیں جو پتھر سے یہاں اب انہیں پلکوں میں سیل آب جو تھا کشش تجھ سی نہ تھی تیرے غموں میں لب و لہجہ مگر ہاں ہو بہ ہو تھا اجالے سی کوئی شے بچ گئی تھی اس اک لمحے میں جب میں تھا نہ تو تھا تھمی اک نبض تو عقدہ کھلا یہ خموشی کا ...

مزید پڑھیے

اداسیوں کا ہمیں آسرا شروع سے ہے

اداسیوں کا ہمیں آسرا شروع سے ہے یہ عارضہ ہے تو پھر عارضہ شروع سے ہے وہ پورا سچ ہے تو اس کی گواہی آدھی کیوں اسے خدا سے یہی تو گلا شروع سے ہے کسی کے رنگ کے مرہون ہیں نہ لہجے کے کہ ہم میں جو بھی ہے اچھا برا شروع سے ہے نہ تم نے پوچھا کبھی اور نہ ہم نے بتلایا وگرنہ گھر کا یہی راستہ شروع ...

مزید پڑھیے

ہم آخری ہیں ہمارے جیسے سو اب ہمارا خلا بنے گا

ہم آخری ہیں ہمارے جیسے سو اب ہمارا خلا بنے گا نہ میں ہی بار دگر ہوں ممکن نہ تجھ سا ہی دوسرا بنے گا یہ تنگ ذہنوں سے بات کر کے رکاوٹیں ہی نہ دور کر لیں کئی مزاجوں کی خیر ہوگی اگر یہ رستہ کھلا بنے گا قسم تری بے نیازیوں کی میں سب یہ پہلے ہی جانتا تھا مجھے کسی نے کہا ہوا تھا یہ تیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3756 سے 4657