ہاں میاں سچ ہے تمہاری تو بلا ہی جانے
ہاں میاں سچ ہے تمہاری تو بلا ہی جانے جو گزرتی ہے مرے دل پہ خدا ہی جانے دل سے نکلے کہیں پا بوسیٔ قاتل کی ہوس کاش وہ خوں کو مرے رنگ حنا ہی جانے دل کی واشد پہ عبث آہ نے کھینچی تکلیف کھولنے عقدے تو غنچوں کے صبا ہی جانے روز و شب نزع میں ہے عاشق چشم و لب یار نہ تو جینا ہی وہ سمجھے نہ فنا ...