شاعری

کون یہ روشنی کو سمجھائے

کون یہ روشنی کو سمجھائے ساتھ دیتے نہیں کبھی سائے راز کھل جائے پھر وہ راز کہاں بات ہی کیا جو لب پہ آ جائے گھر ہمیشہ ہی بے چراغ رہا داغ سینے کے لو نہ دے پائے چاندنی کھل رہی ہے ان کی طرح گزرے لمحات کتنے یاد آئے ترے کوچے میں صبح دم اکثر دیکھ کر پھول ہم کو شرمائے دھوپ میں میرے ساتھ ...

مزید پڑھیے

اپنا نفس نفس ہے کہ شعلہ کہیں جسے

اپنا نفس نفس ہے کہ شعلہ کہیں جسے وہ زندگی ہے آگ کا دریا کہیں جسے ہر چند شہر شہر ہے جشن سحر مگر وہ روشنی کہاں ہے سویرا کہیں جسے وہ رنگ فصل گل ہے کہ پت جھڑ بھی مات کھائے وہ صورت چمن ہے کہ صحرا کہیں جسے جو چارہ گر تھے وہ بھی ہوئے قاتل حیات اب کون ہے کہ اپنا مسیحا کہیں جسے دیوار و در ...

مزید پڑھیے

غم بھی ہے کیف بھی ہے سوز بھی ہے ساز بھی ہے

غم بھی ہے کیف بھی ہے سوز بھی ہے ساز بھی ہے عشق اک زندہ حقیقت بھی ہے اک راز بھی ہے طور کا واقعہ پھر از سر نو تازہ کریں جلوۂ حسن بھی ہے عشق کا اعجاز بھی ہے حسن اور عشق سے غافل رہے ممکن ہی نہیں نغمۂ دل میں کسی کے مری آواز بھی ہے لے اڑیں کیوں نہ قفس سوئے گلستاں واحدؔ جذبۂ شوق بھی ہے ...

مزید پڑھیے

شدت شوق اثر خیز ہے جادو کی طرح

شدت شوق اثر خیز ہے جادو کی طرح دل کی دھڑکن کی بھی آواز ہے گھنگھرو کی طرح میں وہ دیوانہ‌ٔ حالات ہوں صحرا صحرا جو پھرا کرتا ہے بھٹکے ہوئے آہو کی طرح جانے کس رنگ میں آئی ہے بہاراں اب کے پھول بھی زخم سا شبنم بھی ہے آنسو کی طرح وہ جو امواج حوادث میں ہیں پلنے والے ان کو طوفاں نظر آتا ...

مزید پڑھیے

اپنا نفس نفس ہے کہ شعلہ کہیں جسے

اپنا نفس نفس ہے کہ شعلہ کہیں جسے وہ زندگی ہے آگ کا دریا کہیں جسے ہر چند شہر شہر ہے جشن سحر مگر وہ روشنی کہاں ہے سویرا کہیں جسے جو چارہ گر تھے وہ بھی ہوئے قاتل حیات اب کون ہے کہ اپنا مسیحا کہیں جسے دیوار و در پہ ثبت ہیں نقش و نگار یار اپنا مکان ہے کہ اجنتا کہیں جسے اس طرح تابناک ...

مزید پڑھیے

دیکھنے میں یہ کانچ کا گھر ہے

دیکھنے میں یہ کانچ کا گھر ہے روشنی آدمی کے اندر ہے کیسا اجڑا ہوا یہ منظر ہے گھر کے ہوتے بھی کوئی بے گھر ہے مثل یونس ہوں بطن ماہی میں میرے چاروں طرف سمندر ہے اس کے کیا کیا سلوک دیکھے ہیں وقت ہی بخت کا سکندر ہے دیکھنے میں ہے وہ ورق سادہ پڑھنے بیٹھوں تو ایک دفتر ہے روشنی ہو تو ...

مزید پڑھیے

رات قاتل کی گلی ہو جیسے

رات قاتل کی گلی ہو جیسے چاند عیسیٰ سا بنی ہو جیسے رات اک شب کی بیاہی ہو دلہن مانگ تاروں سے بھری ہو جیسے ان ہی ذروں سے ہیں لمحے مہ و سال عمر اک ریت گھڑی ہو جیسے ایک تنکا بھی نہ چھوڑا گھر میں تیز آندھی سی چلی ہو جیسے یوں امنڈتا ہے ترا غم اب تک کوئی ساون کی ندی ہو جیسے جس نے پتھر ...

مزید پڑھیے

آہ یہ دور کہ جس میں لب و رخسار بکے

آہ یہ دور کہ جس میں لب و رخسار بکے دست فطرت کے بنائے ہوئے شہکار بکے دل کے جذبات بکے ذہن کے افکار بکے سچ تو یہ ہے کہ ہر اک عہد میں فن کار بکے عصر حاضر میں کوئی چیز بھی انمول نہیں عشق کی آن بکے حسن کا پندار بکے اک دہکتی ہوئی دوزخ کو بجھانے کے لیے کتنے ہی پھول سے پیکر سر بازار ...

مزید پڑھیے

غیر ممکن ہے کہ مٹ جائے صنم کی صورت

غیر ممکن ہے کہ مٹ جائے صنم کی صورت دل کا یہ نقش نہیں نقش قدم کی صورت رات بیمار پہ بھاری ہے کہیں تار نفس ٹوٹ جائے نہ ترے قول و قسم کی صورت مے کشو خوب پیو اتنا مگر ہوش رہے جام چھلکے نہ کبھی دیدۂ نم کی صورت ہم سا بد بخت زمانے میں کوئی کیا ہوگا ہم کو خوشیاں بھی ملیں درد و الم کی ...

مزید پڑھیے

راہرو چپ ہیں راہبر خاموش

راہرو چپ ہیں راہبر خاموش کیسے گزرے گا یہ سفر خاموش کوئی ہنگامۂ حیات نہیں رات خاموش ہے سحر خاموش زندگی کو کہاں تلاش کریں کوچہ کوچہ نگر نگر خاموش بزم میں وہ خموش کیا ہوں گے ہو سکے جو نہ دار پر خاموش

مزید پڑھیے
صفحہ 333 سے 4657