کون یہ روشنی کو سمجھائے
کون یہ روشنی کو سمجھائے ساتھ دیتے نہیں کبھی سائے راز کھل جائے پھر وہ راز کہاں بات ہی کیا جو لب پہ آ جائے گھر ہمیشہ ہی بے چراغ رہا داغ سینے کے لو نہ دے پائے چاندنی کھل رہی ہے ان کی طرح گزرے لمحات کتنے یاد آئے ترے کوچے میں صبح دم اکثر دیکھ کر پھول ہم کو شرمائے دھوپ میں میرے ساتھ ...