شاعری

جو دشت تمنا میں ہر وقت بھٹکتا ہے

جو دشت تمنا میں ہر وقت بھٹکتا ہے انسان کا دل ایسا معصوم پرندہ ہے اک خاک کا تودہ ہے پر عظمت دنیا ہے نقاش حقیقت نے کیا نقش تراشا ہے میں اوروں کو کیا پرکھوں آئنۂ عالم میں محتاج شناسائی جب اپنا ہی چہرا ہے ہم اپنی حقیقت کیا پہچان سکیں یارو پردہ ہے نگاہوں پہ ذہنوں میں دھندلکا ...

مزید پڑھیے

ہر چند حسن ساز ہوں پیکر تراش ہوں

ہر چند حسن ساز ہوں پیکر تراش ہوں لیکن خد آئنے کی طرح پاش پاش ہوں دل ہی کی دھڑکنوں سے تھی رفتار زندگی جب دل ہی مر چکا ہے تو پھر زندہ لاش ہوں آٹھوں پہر سکون میسر نہیں مجھے ہر لمحہ جو کسکتی رہے وہ خراش ہوں تصویر عہد نو ہے مجسم مرا وجود آلام روزگار ہوں فکر معاش ہوں میرے جنون شوق کی ...

مزید پڑھیے

آئیے جلوۂ دیدار کے دکھلانے کو

آئیے جلوۂ دیدار کے دکھلانے کو پھونک دے برق تجلی مرے کاشانے کو دیکھیے کون سی جا یار کا ملتا ہے پتہ کوئی کعبے کو چلا ہے کوئی بت خانے کو تیری فرقت میں تصور ہے یہ بے دردی کا خواب ہم جانتے ہیں نیند کے آ جانے کو بعد میرے جو ہوا دشت میں مجنوں کا گزر رو دیا دیکھ کے خالی مرے ویرانے ...

مزید پڑھیے

نخوت حسن پسند آئی ہے دیوانے کو

نخوت حسن پسند آئی ہے دیوانے کو سرکشی شمع کی منظور ہے پروانے کو دیکھیے کون سی جا یار کا ملتا ہے پتہ کوئی کعبے کو چلا ہے کوئی بت خانے کو تیری فرقت میں تصور ہے یہ بے دردی کا خواب ہم جانتے ہیں نیند کے آ جانے کو کام آ جاتی ہے ہم بزمی بھی روشن دل کی شمع ہم رنگ بنا لیتی ہے پروانے کو گل ...

مزید پڑھیے

تجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئی

تجھ میں تو ایک خوئے جفا اور ہو گئی میں اور ہو گیا نہ وفا اور ہو گئی گل کا کہیں نشاں ہے نہ بلبل کا ذکر ہے دو روز میں چمن کی ہوا اور ہو گئی آمد کی سن کے کھولی تھی بیمار غم نے آنکھ تم آ گئے امید شفا اور ہو گئی بنت عنب تو رندوں کو یوں ہی مباح تھی زاہد نظر پڑا تو روا اور ہو گئی شکل قبول ...

مزید پڑھیے

نور سے لاکھ اختلاف کرو

نور سے لاکھ اختلاف کرو عظمت مہ کا اعتراف کرو دیکھنا ہو جو حسن غیروں کا اپنی آنکھوں سے گرد صاف کرو دیر و مسجد میں کیا ملے گا تمہیں کوچۂ یار کا طواف کرو زندگی میں کسے ملا ہے سکوں غم سے ڈر کر نہ اعتکاف کرو سوز غم کا وقار ہے تم سے آنسوؤں سے نہ تر غلاف کرو سیکڑوں زخم ہیں مرے دل ...

مزید پڑھیے

آج پھر سر مقتل دے کے خود لہو ہم نے

آج پھر سر مقتل دے کے خود لہو ہم نے تیغ دست قاتل کی رکھ لی آبرو ہم نے جان غنچہ و لالہ روح رنگ و بو ہم نے آپ کو بنایا ہے کتنا خوبرو ہم نے جب بھی لطف ساقی میں فرق آتے دیکھا ہے بڑھ کے توڑ ڈالے ہیں ساغر و سبو ہم نے بارہا زبانوں پر لگ گئی ہے پابندی بارہا نگاہوں سے کی ہے گفتگو ہم نے راہ ...

مزید پڑھیے

گلوں کو رنگ ستاروں کو روشنی کے لئے

گلوں کو رنگ ستاروں کو روشنی کے لئے خدا نے حسن دیا تم کو دلبری کے لئے تمہارے روئے منور کی ضو میں ڈوب گیا فلک پہ چاند جو نکلا تھا ہمسری کے لئے صنم ہزاروں نئے پتھروں کے اندر ہی تڑپ رہے ہیں ابھی فن آذری کے لئے ارے او برق تپاں پھونک دے نشیمن کو ترس رہا ہوں گلستاں میں روشنی کے لئے رہ ...

مزید پڑھیے

جدھر نگاہ اٹھی کھنچ گئی نئی دیوار

جدھر نگاہ اٹھی کھنچ گئی نئی دیوار طلسم ہوش ربا میں ہے زندگی کا شمار ہر ایک سمت مسلط ہے گھور تاریکی بجھے بجھے نظر آئے تمام شہر و دیار یہ شہر جیسے چڑیلوں کا کوئی مسکن ہو زبانیں گنگ ہیں ترساں ہیں کوچہ و بازار خود اپنی ذات میں ہم اس طرح مقید ہیں نہ دل میں تاب و تواں ہے نہ جرأت ...

مزید پڑھیے

غم کے ہاتھوں شکر خدا ہے عشق کا چرچا عام نہیں

غم کے ہاتھوں شکر خدا ہے عشق کا چرچا عام نہیں گلی گلی پتھر پڑتے ہوں ہم ایسے بدنام نہیں وہ بھی کیا دن تھے جن روزوں بے فکری میں سوتے تھے اب کیسی افتاد پڑی ہے چین نہیں آرام نہیں دل کے اجڑتے ہی آنکھوں نے حیف یہ عالم دیکھ لیا جلوہ سر رہ کوئی نہیں ہے کوئی بروئے بام نہیں جس کے اثر سے بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 334 سے 4657