آنکھ سے نکلا تو اک سیل رواں ہو جائے گا
آنکھ سے نکلا تو اک سیل رواں ہو جائے گا ورنہ احساس محبت رائیگاں ہو جائے گا یہ مقید رہ سکا ہے کب کسی زندان میں عشق خوشبو ہے زمانے پر عیاں ہو جائے گا جسم کی دہلیز پر دستک سی ہے مہتاب کی کیا بدن اس رات میرا آسماں ہو جائے گا عمر کے اک دور میں یاد آئے گا صحرا کا ساتھ یہ سفر جو ہے حقیقت ...