آنکھ سے نکلا تو اک سیل رواں ہو جائے گا

آنکھ سے نکلا تو اک سیل رواں ہو جائے گا
ورنہ احساس محبت رائیگاں ہو جائے گا


یہ مقید رہ سکا ہے کب کسی زندان میں
عشق خوشبو ہے زمانے پر عیاں ہو جائے گا


جسم کی دہلیز پر دستک سی ہے مہتاب کی
کیا بدن اس رات میرا آسماں ہو جائے گا


عمر کے اک دور میں یاد آئے گا صحرا کا ساتھ
یہ سفر جو ہے حقیقت داستاں ہو جائے گا


کون جیتا کون ہارا ہے بلندی کس کے نام
تجھ پہ ظاہر ایک دن نوک سناں ہو جائے گا


عمر بھر خود کو جلایا ہم نے یہ ہی سوچ کر
ایک دن روشن ہمارا بھی مکاں ہو جائے گا


صاف کہہ دے گا حکایت چہرۂ عیار کی
آئنہ کیسے کسی کا ہم زباں ہو جائے گا