شاعری

لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹ

لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹ نہیں مجھ کو بھاتی تمہاری بناوٹ پڑا تھا اسے کام میری جبیں سے وہ ہنگامہ بھولی نہیں تیری چوکھٹ یہ تمکیں ہے اور لب ہوں جان تبسم نہ کھل جائے اے شوخ تیری بناوٹ میں دھوکے ہی کھایا کیا زندگی میں قیامت تھی اس آشنا کی لگاوٹ ٹھکانا ترا پھر کہیں بھی نہ ...

مزید پڑھیے

ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے

ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے رکھا ہے محروم جس نے ہم کو اسی کی ہم آرزو کریں گے گئے وہ دن جب کہ اس چمن میں ہوائے نشو و نما تھی ہم کو خزاں کو دیکھا نہیں ہے ہم نے کہ خواہش رنگ و بو کریں گے حکایت آرزو ہے نازک زبان کیا خاک کہہ سکے گی لب خموش و نگاہ حسرت سے دل کی ہم ...

مزید پڑھیے

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے کیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہے جس سے چاہو پوچھ لو تم میرے سوز دل کا حال شمع بھی محفل میں ہے پروانہ بھی محفل میں ہے عشق غارت گر نے شہہ دی حسن آفت خیز کو شوق بسمل ہی سے کس بل بازوئے قاتل میں ہے کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا ...

مزید پڑھیے

اے اہل وفا خاک بنے کام تمہارا

اے اہل وفا خاک بنے کام تمہارا آغاز بتا دیتا ہے انجام تمہارا جاتے ہو کہاں عشق کے بیداد کشو تم اس انجمن ناز میں کیا کام تمہارا اے دیدہ و دل کچھ تو کرو ضبط و تحمل لبریز مئے شوق سے ہے جام تمہارا اے کاش مرے قتل ہی کا مژدہ وہ ہوتا آتا کسی صورت سے تو پیغام تمہارا وحشتؔ ہو مبارک تمہیں ...

مزید پڑھیے

زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا

زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا ہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویا میں جب نکلا چمن سے شبنم آب گلستاں رویا اداسی چھا گئی ایسی خود آخر باغباں رویا نہ آیا رحم کچھ بھی آہ دل میں اس ستم گر کے ہماری جبہہ سائی کے اثر سے آستاں رویا ہر اک عضو بدن ماتم کناں ہے دل کے جانے سے ہوا ...

مزید پڑھیے

شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نے

شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نے اس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نے صد شکر کسی کا نہیں محتاج کرم میں احسان کیا ہے تری بیداد گری نے محتاج تھی آئینے کی تصویر سی صورت تصویر بنایا مجھے محفل میں کسی نے گل ہنستے ہیں غنچے بھی ہیں لبریز تبسم کیا ان سے کہا جا کے نسیم سحری نے مایوس نہ کر دے ...

مزید پڑھیے

وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی

وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی نہ پوچھا ہو کسی نے جس کو اس کی داستاں کیسی کچھ ایسا احترام درد الفت ہے مرے دل کو خموشی حکمراں ہے آہ و فریاد و فغاں کیسی کسی کو فکر آزادی نہیں اس قید رنگیں سے دل عالم پہ ہے چھائی ہوئی مہر بتاں کیسی بھلا ہی دیتے ہیں اس کو جو گزرا بزم عالم سے ہے ...

مزید پڑھیے

وحشتؔ مبتلا خدا کے لیے

وحشتؔ مبتلا خدا کے لیے جان دیتا ہے کیوں وفا کے لیے آشنا سب ہوئے ہیں بیگانے ایک بیگانہ آشنا کے لیے ہم نے عالم سے بے وفائی کی ایک معشوق بے وفا کے لیے تھا اسے ذوق عاشق آزاری خوب میں نے مزے جفا کے لیے غالب آئی فرامشی اس کی وعدہ تڑپا کیا وفا کے لیے یہ بھی تیری گدا نوازی تھی میں نے ...

مزید پڑھیے

اور عشرت کی تمنا کیا کریں

اور عشرت کی تمنا کیا کریں سامنے تو ہو تجھے دیکھا کریں محو ہو جائیں تصور میں ترے ہم بھی اپنے قطرے کو دریا کریں ہم کو ہے ہر روز ہر وقت انتظار بندہ پرور گاہ گاہ آیا کریں چارہ گر کا چاہیئے کرنا علاج اس کو بھی اپنا سا دیوانہ کریں ان کے آنے کا بھروسا ہو نہ ہو راہ ہم ان کی مگر دیکھا ...

مزید پڑھیے

کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے

کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے دیکھو ادھر نگاہ ملا کر نگاہ سے شرم جفا سے چھپتے ہو تم دادخواہ سے عذر گنہ تمہارا ہے بدتر گناہ سے ان کی حیا و شرم نے رکھی ہے دل کی شرم کیا ہوگا جب نگاہ ملے گی نگاہ سے انصاف بھی یہی ہے یہی شان حسن بھی ہاں ہاں نظر چراؤ قتیل نگاہ سے بیت الصنم سے دور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 327 سے 4657