شاعری

زندگی ہے مختصر آہستہ چل

زندگی ہے مختصر آہستہ چل کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ چل ایک اندھی دوڑ ہے کس کو خبر کون ہے کس راہ پر آہستہ چل دیدۂ حیراں کو اک منظر بہت یوں ہی نظارہ نہ کر آہستہ چل تیزگامی جس شکم کی آگ ہے اس سے بچنا ہے ہنر آہستہ چل جو تگ و دو سے تری حاصل ہوا رکھ کچھ اس کی بھی خبر آہستہ چل روز و شب یوں ...

مزید پڑھیے

چہروں میں نظر آئیں آنکھوں میں اتر جائیں

چہروں میں نظر آئیں آنکھوں میں اتر جائیں ہم تجھ سے جدا ہو کر ہر سمت بکھر جائیں دن بھر کی مشقت سے تھک ہار کے گھر جائیں اور اپنی ہی دستک کی آواز سے ڈر جائیں اچھا ہے کہ ہم اپنے ہونے سے مکر جائیں یا اپنی خبر دے کر چپکے سے گزر جائیں جس شہر بھی ہم جیسے برباد نظر جائیں اوراق مصور کے ...

مزید پڑھیے

دل جہاں بھی ڈوبا ہے ان کی یاد آئی ہے

دل جہاں بھی ڈوبا ہے ان کی یاد آئی ہے ہائے کیا سکوں پرور درد آشنائی ہے تم سراب بن بن کر اپنی چھب دکھاتے ہو تشنہ لب مسافر کی جان پر بن آئی ہے یہ کشاکش ہستی کتنی دور لے آئی دن کہاں گزارا ہے شب کہاں گنوائی ہے زندگی تری خاطر تیرے درد مندوں نے اک جہان کی تہمت اپنے سر اٹھائی ہے روز و ...

مزید پڑھیے

سفر ہے ختم مگر بے گھری نہ جائے گی

سفر ہے ختم مگر بے گھری نہ جائے گی ہمارے گھر سے یہ پیغمبری نہ جائے گی نظر گنوا بھی چکے تجھ کو دیکھنے والے افق افق تری جلوہ‌ گری نہ جائے گی میں اپنے خواب تراشوں انہیں بکھیروں بھی مری سرشت سے یہ آذری نہ جائے گی حسیں ہے شیشہ و آہن کا امتزاج مگر تری سیاست آہن گری نہ جائے گی میں سب ...

مزید پڑھیے

ہر آن یاس بڑھنی ہر دم امید گھٹنی

ہر آن یاس بڑھنی ہر دم امید گھٹنی دن حشر کا ہے اب تو فرقت کی رات کٹنی پو پھاٹنا نہیں یہ مجھ سینہ چاک کے ہے ہر صبح بار غم سے چھاتی فلک کی پھٹنی کوچے میں اس کے باقی مجھ خاکسار پر اب یا آسماں ہے گرنا یا ہے زمین پھٹنی مژگاں کی برچھیوں نے دل کو تو چھان مارا اب بوٹیاں ہیں باقی ان پر جگر ...

مزید پڑھیے

دیکھا جو کچھ جہاں میں کوئی دم یہ سب نہیں

دیکھا جو کچھ جہاں میں کوئی دم یہ سب نہیں ٹک آنکھ موندتے ہی تم اور ہم یہ سب نہیں تھوڑی سی زیست ہے جو خوشی سے نبھے تو خیر ورنہ نشاط و خرمی و غم یہ سب نہیں باغ و بہار و جوش گل و خندۂ صبوح صوت ہزار و گریۂ شبنم یہ سب نہیں دنیا و دین دیدۂ دل صبر اور قرار تو ہی اگر نہیں تو اک عالم یہ سب ...

مزید پڑھیے

اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑ

اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑ بس سلسلہ جنباں نہ ہو دیوانے کو مت چھیڑ جس رنگ سے ہے دل میں مرے عشق رخ یار ناصح نہ ہو دیوانہ پری خانے کو مت چھیڑ وہ شمع مجالس تو ہے فانوس میں روشن اے عشق تو مجھ سوختہ پروانے کو مت چھیڑ تو آپ ہے پیماں شکن اس دور میں ساقی کہتا ہے مجھے بزم میں ...

مزید پڑھیے

رائیگاں اوقات کھو کر حیف کھانا ہے عبث

رائیگاں اوقات کھو کر حیف کھانا ہے عبث خوب رویوں سے جہاں کے دل لگانا ہے عبث کارگر ہوگا ترا افسوں یہ باور ہے تجھے اس پری پر اے دل وحشی دوانا ہے عبث جیتے پھر آنے کی پہلے رکھ توقع دل سے دور ورنہ کوچے میں ستم گاروں کے جانا ہے عبث خاک ہو کر ایک صورت ہے گدا‌ و شاہ کی گر موافق تجھ سے اے ...

مزید پڑھیے

کسی میں تاب نہ تھی تہمتیں اٹھانے کی

کسی میں تاب نہ تھی تہمتیں اٹھانے کی جلے چراغ تو پلکیں جھکیں زمانے کی جسے بھی دیکھیے اپنی انا کا مارا ہے امید کس سے رکھے کوئی داد پانے کی تری گلی میں بھی دار و رسن کا چرچا ہے بدل گئی ہے ہوا کس قدر زمانے کی چراغ کشتہ کی مانند نوحہ خواں یہ لوگ بنے ہیں سرخئ آغاز کس فسانے کی لرزتے ...

مزید پڑھیے

اشک باری کا مری آنکھوں نے یہ باندھا ہے جھاڑ

اشک باری کا مری آنکھوں نے یہ باندھا ہے جھاڑ ڈوبتے دکھلائی دیں ہیں تا کمر سارے پہاڑ غیر کو تو نے اشارت کی چرا کر ہم سے آنکھ ہم بھی اک عیار ہیں پیارے گئے فی الفور تاڑ مجھ کو کیا بے خود کیا ساقی کی چشم مست نے اک نگاہ تند سے اس نے صفیں ڈالیں پچھاڑ ان کو پھر شور قیامت بھی اٹھا سکتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 315 سے 4657