شاعری

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا

سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا ہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتا کبھی لہو سے بھی تاریخ لکھنی پڑتی ہے ہر ایک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا میں اس کی آنکھ کا آنسو نہ بن سکا ورنہ مجھے بھی خاک میں ملنے کا ڈر نہیں ہوتا مجھے تلاش کروگے تو پھر نہ پاؤ گے میں اک صدا ہوں صداؤں کا گھر ...

مزید پڑھیے

اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے

اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے مجھ تک میرے حصے کی دھوپ آنے دے ایک نظر میں کئی زمانے دیکھے تو بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے بابا دنیا جیت کے میں دکھلا دوں گا اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے میں بھی تو اس باغ کا ایک پرندہ ہوں میری ہی آواز میں مجھ کو گانے دے پھر تو یہ اونچا ہی ...

مزید پڑھیے

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا رات مجرم تھی دامن بچا لے گئی دن گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا وہ مرے سامنے ہی گیا اور میں راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا آندھیوں کے ارادے تو اچھے نہ تھے یہ دیا ...

مزید پڑھیے

اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے

اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے عجیب دل ہے گروں تو سنبھال لیتا ہے یہ کیسا شخص ہے کتنی ہی اچھی بات کہو کوئی برائی کا پہلو نکال لیتا ہے ڈھلے تو ہوتی ہے کچھ اور احتیاط کی عمر کہ بہتے بہتے یہ دریا اچھال لیتا ہے بڑے بڑوں کی طرح داریاں نہیں چلتیں عروج تیری خبر جب زوال لیتا ہے جب ...

مزید پڑھیے

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں پھر وہی تلخئ حالات مقدر ٹھہری نشے کیسے بھی ہوں کچھ دن میں اتر جاتے ہیں اک جدائی کا وہ لمحہ کہ جو مرتا ہی نہیں لوگ کہتے تھے کہ سب وقت گزر جاتے ہیں گھر کی گرتی ہوئی دیواریں ہی مجھ سے اچھی راستہ چلتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تک کیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایا اس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا اس چھوٹے زمانے کے بڑے کیسے بنوگے لوگوں کو جب آپس میں لڑانا ...

مزید پڑھیے

میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا

میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا مگر یہ بات زمیں سے تو کہہ نہیں سکتا کسی کے چہرے کو کب تک نگاہ میں رکھوں سفر میں ایک ہی منظر تو رہ نہیں سکتا یہ آزمانے کی فرصت تجھے کبھی مل جائے میں آنکھوں آنکھوں میں کیا بات کہہ نہیں سکتا سہارا لینا ہی پڑتا ہے مجھ کو دریا کا میں ایک قطرہ ہوں ...

مزید پڑھیے

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہے ہنسنے والے تجھے آنسو نظر ...

مزید پڑھیے

یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے

یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے اس ایک بات پہ دنیا سے جنگ جاری ہے اڑان والو اڑانوں پہ وقت بھاری ہے پروں کی اب کے نہیں حوصلوں کی باری ہے میں قطرہ ہو کے بھی طوفاں سے جنگ لیتا ہوں مجھے بچانا سمندر کی ذمہ داری ہے اسی سے جلتے ہیں صحرائے آرزو میں چراغ یہ تشنگی تو مجھے زندگی سے ...

مزید پڑھیے

رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے

رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے میری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائے ہم نے جس راہ کو چھوڑا پھر اسے چھوڑ دیا اب نہ جائیں گے ادھر چاہے زمانہ جائے میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے میں گناہوں کا طرف دار نہیں ہوں پھر بھی رات کو دن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 311 سے 4657