سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا
سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا ہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتا کبھی لہو سے بھی تاریخ لکھنی پڑتی ہے ہر ایک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا میں اس کی آنکھ کا آنسو نہ بن سکا ورنہ مجھے بھی خاک میں ملنے کا ڈر نہیں ہوتا مجھے تلاش کروگے تو پھر نہ پاؤ گے میں اک صدا ہوں صداؤں کا گھر ...