شاعری

کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی

کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں پھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی بھول جائے گا یہ اک دن ترا یاد آنا بھی جانے کب شہر کے رشتوں کا بدل جائے مزاج اتنا آساں تو نہیں لوٹ کے ...

مزید پڑھیے

نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا

نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا ہمیں کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیا جلا کے رکھ لیا ہاتھوں کے ساتھ دامن تک تمہیں چراغ بجھانا بھی تو نہیں آیا نئے مکان بنائے تو فاصلوں کی طرح ہمیں یہ شہر بسانا بھی تو نہیں آیا وہ پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب مجھے بہانہ بنانا بھی تو نہیں ...

مزید پڑھیے

دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو

دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو وہ زندگی ہی نہیں ہے جو ناتمام نہ ہو جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے صدیوں سے کہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو کوئی چراغ نہ آنسو نہ آرزوئے سحر خدا کرے کہ کسی گھر میں ایسی شام نہ ہو عجیب شرط لگائی ہے احتیاطوں نے کہ تیرا ذکر کروں اور تیرا نام نہ ...

مزید پڑھیے

وہ مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے

وہ مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ میں اس کو ہی چاہوں جسے سارا زمانہ چاہتا ہے قلم کرنا کہاں ہے اس کا منشا وہ میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضہ وقت کا کچھ بھی ہو یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے

مزید پڑھیے

کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے

کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے محبتوں میں کب اتنا حساب ہوتا ہے بچھڑ کے مجھ سے تم اپنی کشش نہ کھو دینا اداس رہنے سے چہرا خراب ہوتا ہے اسے پتا ہی نہیں ہے کہ پیار کی بازی جو ہار جائے وہی کامیاب ہوتا ہے جب اس کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں ہوتا تو کوئی آج کا عزت مآب ہوتا ہے جسے میں ...

مزید پڑھیے

نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے

نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے یہاں منظر ہی ایسے ہیں کہ دل بھرنے نہیں دیتے یہ لوگ اوروں کے دکھ جینے نکل آئے ہیں سڑکوں پر اگر اپنا ہی غم ہوتا تو یوں دھرنے نہیں دیتے یہی قطرہ جو دم اپنا دکھانے پر اتر آتے سمندر ایسی من مانی تجھے کرنے نہیں دیتے قلم میں تو اٹھا کے جانے کب کا ...

مزید پڑھیے

جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے

جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے کوئی اٹھتا ہے اور طوفان کا رخ موڑ دیتا ہے مجھے بے دست و پا کر کے بھی خوف اس کا نہیں جاتا کہیں بھی حادثہ گزرے وہ مجھ سے جوڑ دیتا ہے بچھڑ کے تجھ سے کچھ جانا اگر تو اس قدر جانا وہ مٹی ہوں جسے دریا کنارے چھوڑ دیتا ہے محبت میں ذرا سی بے وفائی تو ...

مزید پڑھیے

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے ہم تو وہ ہیں ترے چہرے سے دکھائی دیں گے ہم کو محسوس کیا جائے ہے خوشبو کی طرح ہم کوئی شور نہیں ہیں جو سنائی دیں گے فیصلہ لکھا ہوا رکھا ہے پہلے سے خلاف آپ کیا صاحب عدالت میں صفائی دیں گے پچھلی صف میں ہی سہی ہے تو اسی محفل میں آپ دیکھیں گے تو ہم ...

مزید پڑھیے

تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے

تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے اسی لئے تو تمہیں ہم نظر نہیں آتے محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے یہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے جنہیں سلیقہ ہے تہذیب غم سمجھنے کا انہیں کے رونے میں آنسو نظر نہیں آتے خوشی کی آنکھ میں آنسو کی بھی جگہ رکھنا برے زمانے کبھی پوچھ کر نہیں ...

مزید پڑھیے

تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا

تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا اک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتا آنکھوں میں خیالات میں سانسوں میں بسا ہے چاہے بھی تو مجھ سے وہ جدا ہو نہیں سکتا جینا ہے تو یہ جبر بھی سہنا ہی پڑے گا قطرہ ہوں سمندر سے خفا ہو نہیں سکتا گمراہ کئے ہوں گے کئی پھول سے جذبے ایسے تو کوئی راہنما ...

مزید پڑھیے
صفحہ 309 سے 4657