رہ کہکشاں سے گزر گیا ہمہ این و آں سے گزر گیا
رہ کہکشاں سے گزر گیا ہمہ این و آں سے گزر گیا کوئی بزم ناز و نیاز میں میں حد و کماں سے گزر گیا نہ کوئی جہاں سے گزر سکے یہ وہاں وہاں سے گزر گیا ترے عشق میں دل مبتلا ہر اک امتحاں سے گزر گیا ترے عشق سینہ فگار کا یہ شعور قابل داد ہے وہی تیر دل سے لگا لیا جو تری کماں سے گزر گیا ترے حسن ...