شاعری

اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے

اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے بگھولے سا تو کر لے طوف دل پہلو میں مکا ہے چراغ گل کو روشن کر دیا آہوں کے شعلے سے ہزاروں درجے بلبل خام پروانوں سے پکا ہے جو ہے ہر سنگ میں پنہاں سو آتش لال سے چمکی سبھی میں حق ہے ہر عارف میں کیا سیوا جھمکا ہے گئی نیں بوئے شیر اس لب سے لیکن ...

مزید پڑھیے

گل رہے نہیں نام کو سرکش ہیں خاراں العیاذ

گل رہے نہیں نام کو سرکش ہیں خاراں العیاذ کھٹکے ہے آنکھوں میں یہ سونا گلستاں العیاذ خاک سر پر کر بگولے سے غم مجنوں میں ہائے پھاڑتا ہے دامن صحرا گریباں العیاذ بسکہ ہر کانٹے سے دل چھید ایک بلبل مر رہے ہو گیا گلشن خزاں میں بلبلستاں العیاذ ڈالتے ہیں اہل دنیا خیمے اب صحرا کے ...

مزید پڑھیے

شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کی

شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کی چھپی سحر میں شب کامرانی دو دن کی کسی کی ہات میں دل دے کے پاؤں لگ (سو) رہئے خوشی سے کیوں نہ کٹے زندگانی دو دن کی یہ دل کو لگتے ہی توڑا جو ان نے سو گئے بخت میرے نصیبوں کی رہ گئی کہانی دو دن کی اسے میں طوف کے حلقہ میں گھیرے رکھا تھا عجب تھی اس پہ مری ...

مزید پڑھیے

خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سے

خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سے تو مثل غنچۂ گل دل نہ جاتا رائیگاں ہم سے پھرے اس زلف و رو کے عشق میں دونوں جہاں ہم سے ادھر کفار پھر گئے سب ادھر ایمانیاں ہم سے عدو تھے مالی اور صیاد گلچیں نے قیامت کی خدا لعنت کرے تینوں پہ چھوٹا گلستاں ہم سے اجاڑا گریہ‌‌ و شور جنوں کے ...

مزید پڑھیے

جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت

جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت جز اپنی دھول اڑانا اور ویرانے سے کیا نسبت نہیں پہنچیں بلبلوں کی پختگی کو خام پروانے جو دائم سلگیں ان کو پل میں جل جانے سے کیا نسبت وہ زلفوں سے نہ گزرے بلکہ اپنے جی سے ٹل جاوے کہو میرے دل صد چاک کو شانے سے کیا نسبت

مزید پڑھیے

ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایا

ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایا نین میرے تھے پی کا گھر سو روئے ہجر دکھلایا چمن کا شہر فصل گل میں جب آباد تھا عزلتؔ صبا کے رنگ میں گلگشت کر حظ جنوں پایا جو دیکھوں جا خزاں میں ہائے خارستان و پت جھڑ تھا نہ غنچے تھے نہ گل نے بلبلیں نے بید کا سایا بہت سے زاغ و چغدوں کا تھا غل ...

مزید پڑھیے

خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرض

خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرض تب تو اب سنتا ہے ہنس کر مجھ سے دیوانے کی عرض شام غربت ہم سے مجروحوں کی ہے فریاد رس زلف کی چھاتی پھٹی ہے سنتے ہی شانے کی عرض بوسۂ لعل بتاں جو لے سو ہو بے آبرو اتنی ہی خدمت میں مستوں کی ہے پیمانے کی عرض گوش گل میں سب پھپھولے پڑ گئے شبنم کے ...

مزید پڑھیے

مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہوا

مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہوا کہ دل دہندہ جیو یا مرو ہوا سو ہوا جلا دیا جو پتنگ اب نہ رو ہوا سو ہوا اے شمع صبح کو جو ہو سو ہو ہوا سو ہوا دل اس کوں دے چکا دیوانگی نہ چھوڑوں گا اے طفلو پتھروں سے مارو ہنسو ہوا سو ہوا مجھے رلا کے خوں آنسو نہ پونچھ خوف یہ ہے تو ہاتھ میرے لہو سے نہ ...

مزید پڑھیے

اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دے

اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دے ارے بے درد رونے میں مجھے بے باک رہنے دے برس مت ابر مٹ جاگا بگھولا خاک مجنوں کا خدا کے واسطے دشت جنوں کی ناک رہنے دے دل زخمی ہے شائق بوئے گل اور شور بلبل کا رفو گر فصل گل میں یہ گریباں چاک رہنے دے یہ طاقت نذر ہے اے ناتوانی پر بہاروں میں مرے ...

مزید پڑھیے

ماہ کامل ہو مقابل یار کے رو سے چے خوش

ماہ کامل ہو مقابل یار کے رو سے چے خوش خم ہو دم مارے ہلال اس تیغ ابرو سے چے خوش اک جھلک بھی یار کی شوخی کی تجھ میں نہیں اے برق تسپہ ہم سر ہو تو اس کی تندئ خو سے چے خوش اس کی جولاں کی ہوا سے گئی ہے برباد اور اس پر مدعی ہے نکہت گل یار کی بو سے چے خوش آنکھ میں ہرنوں کی خاک افگن ہے اس کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 288 سے 4657