اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے
اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے بگھولے سا تو کر لے طوف دل پہلو میں مکا ہے چراغ گل کو روشن کر دیا آہوں کے شعلے سے ہزاروں درجے بلبل خام پروانوں سے پکا ہے جو ہے ہر سنگ میں پنہاں سو آتش لال سے چمکی سبھی میں حق ہے ہر عارف میں کیا سیوا جھمکا ہے گئی نیں بوئے شیر اس لب سے لیکن ...