شاعری

تیری آنکھوں سے ملی جنبش مری تحریر کو

تیری آنکھوں سے ملی جنبش مری تحریر کو کر دیا میں نے مکمل خواب کی تعبیر کو جب محبت کی کہانی لب پہ آتی ہے کبھی وہ برا کہتے ہیں مجھ کو اور میں تقدیر کو اف رے یہ شور سلاسل نیند سب کی اڑ گئی دو رہائی آ کے تم پا بستۂ زنجیر کو یہ عرق آلودہ پیشانی یہ رنج و اضطراب دیکھ جا آ کر شکست عشق کی ...

مزید پڑھیے

یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ

یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ پیارو پھر فصل بہاراں ہے قریب آ جاؤ دور ہو کر بھی سنیں تم نے حکایات وفا قرب میں بھی وہی عنواں ہے قریب آ جاؤ ہم محبت کے مسافر ہیں کہیں دیکھ نہ لیں دھات میں گردش دوراں ہے قریب آ جاؤ جان پیاری ہے کہ تم بھی ہو مری جان کے ساتھ غم جاں ہی غم جاناں ہے قریب ...

مزید پڑھیے

یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ

یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ پیارو پھر فصل بہاراں ہے قریب آ جاؤ دور ہو کر بھی سنیں تم نے حکایات وفا قرب میں بھی وہی عنواں ہے قریب آ جاؤ ہم محبت کے مسافر ہیں کہیں دیکھ نہ لے گھات میں گردش دوراں ہے قریب آ جاؤ جاؤ اب جاؤ کہ وہ عہد وفا ختم ہوا جب بھی دیکھو کہ پھر امکاں ہے ...

مزید پڑھیے

میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہ

میں ہوں تیرے لیے بے نام و نشاں آوارہ زندگی میرے لیے تو ہے کہاں آوارہ تجھ سے کٹ کر کوئی دیکھے تو کہاں پہنچا ہوں جیسے ندی میں کوئی سنگ رواں آوارہ تجھ کو دیکھا ہے کہیں تجھ کو کہاں دیکھا ہے وہم ہے سر بہ گریباں و گماں آوارہ دیر و کعبہ کی روایات سے انکار نہیں آؤ دو دن تو پھریں نعرہ ...

مزید پڑھیے

تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیا

تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیا تخریب کائنات کا ساماں کیا گیا گلشن کی شاخ شاخ کو ویراں کیا گیا یوں بھی علاج تنگیٔ داماں کیا گیا کھوئے ہوؤں پہ تیری نظر کی نوازشیں آئینہ دے کے اور بھی حیراں کیا گیا آوارگیٔ زلف سے آسودگی ملی آسودگی ملی کہ پریشاں کیا گیا وہ خوش نصیب ہوں کہ غم ...

مزید پڑھیے

ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیں

ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیں خوش ہیں کہ ترے غم کے سزا وار ہوئے ہیں اٹھے ہیں ترے در سے اگر صورت دیوار رخصت بھی تو جوں سایۂ دیوار ہوئے ہیں کیا کہئے نظر آتی ہے کیوں خواب یہ دنیا کیا جانیے کس خواب سے بیدار ہوئے ہیں آنکھوں میں ترے جلوے لیے پھرتے ہیں ہم لوگ ہم لوگ کہ رسوا سر ...

مزید پڑھیے

شہر لگتا ہے بیابان مجھے

شہر لگتا ہے بیابان مجھے کہیں ملتا نہیں انسان مجھے میں ترا نقش قدم ہوں اے دوست اپنے انداز سے پہچان مجھے میں تجھے جان سمجھ بیٹھا ہوں اپنے سائے کی طرح جان مجھے تو کہاں ہے کہ ترے پردے میں لیے پھرتا ہے ترا دھیان مجھے تیری خوشبو کو صبا لائی تھی کر گئی اور پریشان مجھے سر و سامان دو ...

مزید پڑھیے

اب جو مل جاؤ تو کمی نہ کروں

اب جو مل جاؤ تو کمی نہ کروں شکوہ کیسا کہ بات بھی نہ کروں کیا خبر کیسے نقش ابھر آئیں ابھی سینہ میں روشنی نہ کروں ہے وفا شرط ان کی بات رہے اپنے دل کی کہی سنی نہ کروں ذکر ان کا بھی چھڑ نہ جائے کہیں چپ رہوں اپنا ذکر بھی نہ کروں زندگی ہے تو ہے خیال ان کا خیر چاہوں تو یاد بھی نہ ...

مزید پڑھیے

ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی

ہے گلو گیر بہت رات کی پہنائی بھی تیرا غم بھی ہے مجھے اور غم تنہائی بھی دشت وحشت میں بہ جز ریگ رواں کوئی نہیں آج کل شہر میں ہے لالۂ صحرائی بھی میں زمانے میں ترا غم ہوں بہ عنوان وفا زندگی میری سہی ہے تری رسوائی بھی آج تو نے بھی مرے حال سے منہ پھیر لیا آج نم ناک ہوئی چشم تماشائی ...

مزید پڑھیے

میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سے

میں لپٹتا رہا ہوں خاروں سے تم نے پوچھا نہیں بہاروں سے چاندنی سے سحاب پاروں سے جی بہلتا ہے یاد گاروں سے آ مرے چاند رات سونی ہے بات بنتی نہیں ستاروں سے منزل زندگی ہے کتنی دور پوچھ لیتا ہوں رہ گزاروں سے بات جب بھی چھڑی محبت کی خامشی بول اٹھی مزاروں سے ایک بھی آفتاب بن نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 255 سے 4657