جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے
جس کا بدن ہے خوشبو جیسا جس کی چال صبا سی ہے اس کو دھیان میں لاؤں کیسے وہ سپنوں کا باسی ہے پھولوں کے گجرے توڑ گئی آکاش پہ شام سلونی شام وہ راجا خود کیسے ہوں گے جن کی یہ چنچل داسی ہے کالی بدریا سیپ سیپ تو بوند بوند سے بھر جائے گا دیکھ یہ بھوری مٹی تو بس میرے خون کی پیاسی ہے جنگل ...