شاعری

موت آئی آنے دیجیے پروا نہ کیجیے

موت آئی آنے دیجیے پروا نہ کیجیے منزل ہے ختم سجدۂ شکرانہ کیجیے زنہار ترک لذت ایذا نہ کیجیے ہرگز گناہ عشق سے توبہ نہ کیجیے نا آشنائے حسن کو کیا اعتبار عشق اندھوں کے آگے بیٹھ کے رویا نہ کیجیے تاکہ خبر بھی لائیے ساحل کے شوق میں کوشش بقدر ہمت مردانہ کیجیے وہ دن گئے کہ دل کو ہوس ...

مزید پڑھیے

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا

مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا دل بے حوصلہ ہے اک ذرا سی ٹھیس کا مہماں وہ آنسو ...

مزید پڑھیے

قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونا

قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونا فلک کا شام سے دست و گریبان سحر ہونا شب تاریک نے پہلو دبایا روز روشن کا زہے قسمت مرے بالیں پہ تیرا جلوہ گر ہونا ہوائے تند سے کب تک لڑے گا شعلۂ سرکش عبث ہے خود نمائی کی ہوس میں جلوہ گر ہونا دیار بے خودی ہے اپنے حق میں گوشۂ راحت غنیمت ہے گھڑی بھر ...

مزید پڑھیے

نہ چارہ گر نہ مسیحا نہ راہبر تھا میں

نہ چارہ گر نہ مسیحا نہ راہبر تھا میں نظر میں پھر بھی زمانے کی معتبر تھا میں انا پہ حرف نہ آ جائے حق پرستوں کی اٹھائے اپنے ہی نیزے پہ اپنا سر تھا میں سوال یہ نہیں کس نے کیا تھا قتل مجھے سوال یہ ہے کہ کیوں خود سے بے خبر تھا میں جو صبح نو کا اسیری میں دے رہا تھا پیام وہ انقلاب زمانہ ...

مزید پڑھیے

وہ راہبر تو نہیں تھا اعادہ کیا کرتا

وہ راہبر تو نہیں تھا اعادہ کیا کرتا بنا کے راہ میں وہ کوئی جادہ کیا کرتا نہا رہا ہو اجالوں کے جو سمندر میں وہ لے کے ظلمت شب کا لبادہ کیا کرتا ہر ایک شخص جہاں مصلحت سے ملتا ہو وہاں کسی سے کوئی استفادہ کیا کرتا نہ جس میں رنگ نہ خاکہ نہ کوئی عکس جمال بنا کے ایسی میں تصویر سادہ کیا ...

مزید پڑھیے

تھا اس کا جیسا عمل وہ ہی یار میں بھی کروں

تھا اس کا جیسا عمل وہ ہی یار میں بھی کروں ردائے وقت کو کیا داغدار میں بھی کروں معاف مجھ کو نہ کرنا کسی بھی صورت سے زمانے تجھ کو اگر اشک بار میں بھی کروں ملے جو مجھ کو بھی فرصت غم زمانہ سے کسی کے سامنے ذکر بہار میں بھی کروں جو ڈالے رہتے ہیں چہروں پہ مصلحت کی نقاب کیا ایسے لوگوں ...

مزید پڑھیے

کرم نہیں تو ستم ہی سہی روا رکھنا

کرم نہیں تو ستم ہی سہی روا رکھنا تعلقات وہ جیسے بھی ہوں سدا رکھنا کچھ اس طرح کی ہدایت ملی ہے اب کے مجھے کہ سر پہ قہر بھی ٹوٹیں تو دل بڑا رکھنا نہ آنسوؤں کی رواں نہر آنکھ سے کرنا اب اس کی یاد بھی آئے تو حوصلہ رکھنا کسے ملا ہے ملے گا کسے مراد کا پھل سو غائبانہ نوازش کی آس کیا ...

مزید پڑھیے

یہ جو احباب ہیں میرے سبھی کترانے لگتے ہیں

یہ جو احباب ہیں میرے سبھی کترانے لگتے ہیں نہ جانے اس غریبی سے یہ کیوں گھبرانے لگتے ہیں جو سچ کہتا ہوں میں تو کیوں برا لگتا ہے لوگوں کو ہر اک جانب سے جو پتھر مرے گھر آنے لگتے ہیں جو قاتل ہیں وہ پھرتے ہیں شریفوں کی طرح لیکن ستم کیوں بے گناہوں پر ستمگر ڈھانے لگتے ہیں امیر شہر جب ...

مزید پڑھیے

درد و غم رنج و الم آہ و فغاں

درد و غم رنج و الم آہ و فغاں سرگزشت عشق کی ہیں سرخیاں دل ہے میرا مائل فریاد آج دیکھ کر ان کے تغافل کا سماں اک ذرا رک جائیے سن لیجئے اس دل رنجور کی بھی داستاں آپ نے تو اک نظر دیکھا فقط جل گیا تاب و تواں کا آشیاں اے دل غمگیں نہ رو اس دور میں کون سنتا ہے کسی کی داستاں آتش الفت تو کب ...

مزید پڑھیے

آتی ہے فغاں لب پہ مرے قلب و جگر سے

آتی ہے فغاں لب پہ مرے قلب و جگر سے کھل جائے نہ یہ بھید کہیں تیری نظر سے رکھا ہے ترے غم کو ہمیشہ تر و تازہ ٹپکا لہو آنکھوں سے کبھی زخم جگر سے لے چھوڑ دیا شہر ترا کہنے پہ تیرے اب ہو گئے ہم دور بہت تیرے نگر سے دنیا پہ ہوا راز محبت کا یوں افشا تڑپایا بہت تو نے اٹھایا ہمیں در سے منسوب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 254 سے 4657