دل لگانے کی جگہ عالم ایجاد نہیں
دل لگانے کی جگہ عالم ایجاد نہیں خواب آنکھوں نے بہت دیکھے مگر یاد نہیں آج اسیروں میں وہ ہنگامۂ فریاد نہیں شاید اب کوئی گلستاں کا سبق یاد نہیں سر شوریدہ سلامت ہے مگر کیا کہئے دست فرہاد نہیں تیشۂ فرہاد نہیں توبہ بھی بھول گئے عشق میں وہ مار پڑی ایسے اوسان گئے ہیں کہ خدا یاد ...