شاعری

قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا

قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا مکان اپنا زمین اپنی آسماں اپنا ہوائے تند میں ٹھہرا نہ آشیاں اپنا چراغ جل نہ سکا زیر آسماں اپنا سنا ہے رنگ زمانہ کا اعتبار نہیں بدل نہ جائے یقیں سے کہیں گماں اپنا بس ایک سایۂ دیوار یار کیا کم ہے اٹھا لے سر سے مرے سایہ آسماں اپنا مزے کے ساتھ ہوں ...

مزید پڑھیے

رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کر

رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کر خوشا انجام اٹھے بھی تو محروم دعا ہو کر وطن کو چھوڑ کر جس سر زمیں کو میں نے عزت دی وہی اب خون کی پیاسی ہوئی ہے کربلا ہو کر بتاؤ ایسے بندے پر ہنسی آئے کہ غیظ آئے دعا مانگے مصیبت میں جو قصداً مبتلا ہو کر کھلا آخر فریب مے چلا جب درد کا ساغر بندھا ...

مزید پڑھیے

برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائے

برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائے الٹی کہیں دعاؤں کی تاثیر ہو نہ جائے دل جل کے خاک ہو تو پھر اکسیر ہو نہ جائے جاں سوز ہوں جو نالے تو تاثیر ہو نہ جائے کس سادگی سے مجرموں نے سر جھکا لیا محجوب کیوں وہ مالک تقدیر ہو نہ جائے دست دعا تک اٹھ نہ سکے فرط شرم سے یا رب کسی سے ایسی بھی تقصیر ...

مزید پڑھیے

کیوں کسی سے وفا کرے کوئی

کیوں کسی سے وفا کرے کوئی دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی نہ دوا چاہیے مجھے نہ دعا کاش اپنی دوا کرے کوئی مفلسی میں مزاج شاہانہ کس مرض کی دوا کرے کوئی درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے وہم کی کیا دوا کرے کوئی ہنس بھی لیتا ہوں اوپری دل سے جی نہ بہلے تو کیا کرے کوئی موت بھی آ سکی نہ منھ ...

مزید پڑھیے

حسن پر فرعون کی پھبتی کہی

حسن پر فرعون کی پھبتی کہی ہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہی دامن یوسف ہی بھڑکاتا رہا عشق اور ترک ادب اچھی کہی کون سمجھائے کہ دنیا گول ہے آپ نے جیسی سنی ویسی کہی کوئی ضد تھی یا سمجھ کا پھیر تھا من گئے وہ میں نے جب الٹی کہی درد سے پہلے کروں فکر دوا واہ یہ اچھی الٹوانسی کہی دوست سے ...

مزید پڑھیے

دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھے

دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھے شام سے یاسؔ سویرا نظر آتا ہے مجھے جلوۂ دار و رسن اپنے نصیبوں میں کہاں کون دنیا کی نگاہوں پہ چڑھاتا ہے مجھے دل کو لہراتا ہے ہنگامۂ زندان بلا شور ایذا طلبی وجد میں لاتا ہے مجھے پائے آزاد ہے زنداں کے چلن سے باہر بیڑیاں کیوں کوئی دیوانہ پہناتا ہے ...

مزید پڑھیے

خداؤں کی خدائی ہو چکی بس

خداؤں کی خدائی ہو چکی بس خدارا بس دہائی ہو چکی بس کسی ڈھب سے نپٹ لو جب مزا ہے بہت زور آزمائی ہو چکی بس بجھائے کون تو جس کو جلائے پتنگوں کی چڑھائی ہو چکی بس ہوا میں اڑ گیا ایک ایک پتا گلوں کی جگ ہنسائی ہو چکی بس بھلا اب کیا جچوں اپنی نظر میں نظر اپنی پرائی ہو چکی بس رہا کیا جب ...

مزید پڑھیے

خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میں

خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میں چلے جاتی ہیں اب تک چشمکیں شیخ و برہمن میں چھپیں گے کیا اسیران بلا صحرا کے دامن میں محبت دام کی پھر کھینچ کر لائے گی گلشن میں حجاب اٹھا زمیں سے آسماں تک چاندنی چھٹکی گہن میں چاند تھا جب تک چھپے بیٹھے تھے چلمن میں کنکھیوں سے جو ہم کو بزم ...

مزید پڑھیے

آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے

آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھے کہیں اب خاک نہ چھنوائے یہ انداز مجھے کیسے حیراں تھے تم آئینے میں جب آنکھ لڑی آج تک یاد ہے اس عشق کا آغاز مجھے سامنے آ نہیں سکتے کہ حجاب آتا ہے پردۂ دل سے سناتے ہیں وہ آواز مجھے تیلیاں توڑ کے نکلے سب اسیران قفس مگر اب تک نہ ملی رخصت پرواز ...

مزید پڑھیے

چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا

چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کا دلیل راہ محبت ہے فیصلہ دل کا ہوائے کوچۂ قاتل سے بس نہیں چلتا کشاں کشاں لیے جاتا ہے ولولہ دل کا گلہ کسے ہے کہ قاتل نے نیم جاں چھوڑا تڑپ تڑپ کے نکالوں گا حوصلہ دل کا خدا بچائے کہ نازک ہے ان میں ایک سے ایک تنک مزاجوں سے ٹھہرا معاملہ دل کا دکھا رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 252 سے 4657