قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا
قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنا مکان اپنا زمین اپنی آسماں اپنا ہوائے تند میں ٹھہرا نہ آشیاں اپنا چراغ جل نہ سکا زیر آسماں اپنا سنا ہے رنگ زمانہ کا اعتبار نہیں بدل نہ جائے یقیں سے کہیں گماں اپنا بس ایک سایۂ دیوار یار کیا کم ہے اٹھا لے سر سے مرے سایہ آسماں اپنا مزے کے ساتھ ہوں ...