زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے
زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہے دکھا وہ زور کہ دنیا میں یادگار رہے کہاں تلک دل غم ناک پردہ دار رہے زبان حال پہ جب کچھ نہ اختیار رہے نظام دہر نے کیا کیا نہ کروٹیں بدلیں مگر ہم ایک ہی پہلو سے بے قرار رہے ہنسی میں لغزش مستانہ اڑ گئی واللہ تو بے گناہوں سے اچھے گناہ گار رہے ابھارتی ...