شاعری

دل میں جب کبھی تیری یاد سو گئی ہوگی

دل میں جب کبھی تیری یاد سو گئی ہوگی چاند بجھ گیا ہوگا رات رو پڑی ہوگی کیا خبر کہ ایسے میں تم نے کیا کیا ہوگا مجھ سے ترک الفت کی بات جب چلی ہوگی بے قرار دنیا میں تیرے لوٹ آنے تک جاگتی تمنا بھی تھک کے سو چکی ہوگی کون ایسے قصوں کا اختتام چاہے گا جن میں تیری زلفوں کی بات آ گئی ...

مزید پڑھیے

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا شہر میں ڈھیر نہ لگ جائے گریبانوں کا یہ مرا ضبط ہے یا تیری ادا کی تہذیب رنگ آنکھوں میں جھلکتا نہیں ارمانوں کا میکدے کے یہی آداب ہیں رندو سن لو غم نہیں کرتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا سانس لینے کو کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈو شہر جنگل سا ہوا جاتا ہے ...

مزید پڑھیے

برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا

برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا جسم بھی تھوڑا پھیل گیا تھا رنگ بھی کچھ کچھ میلا تھا تم بھی جس کو دیکھ رہے تھے وہ جو ایک اکیلا تھا دبلا پتلا الجھا حیراں ارمانوں کا میلا تھا جھیل کا شیشہ نیلے بادل کے ہونٹوں سے بھیگا تھا دور تلک شاخوں کے نیچے سبز اندھیرا پھیلا تھا بن ...

مزید پڑھیے

اسی یقین اسی دست و پا کی حاجت ہے

اسی یقین اسی دست و پا کی حاجت ہے امام وقت کو پھر کربلا کی حاجت ہے کہیں نہ تجھ کو ترا شوق بے لباس کرے ترے جنوں کو جو میری قبا کی حاجت ہے کہاں سے آئے ابابیل ابرہہ کے لئے ترے بشر کو تو مال و غنا کی حاجت ہے عجیب طرز تکلم ہے اہل منصب کا بہت دنوں سے کسی خوش ادا کی حاجت ہے تمام حرب و جدل ...

مزید پڑھیے

ویسے تو تھے یار بہت پر کسی نے مجھے پہچانا تھا

ویسے تو تھے یار بہت پر کسی نے مجھے پہچانا تھا تم نے بس اک سمجھا مجھ کو تم نے بس اک جانا تھا تم بن سجنی جیون اپنا سونا آنگن ٹوٹا سپنا دل کو تم سے راہ تھی اتنی ہم نے کب یہ جانا تھا میں تو پاپی میری خاطر اپنا سب کچھ دان کیا کیوں دنیا جیسی پیاری بستی ایسے چھوڑ کے جانا تھا موت اور دل ...

مزید پڑھیے

اتنا کرم کہ عزم رہے حوصلہ رہے

اتنا کرم کہ عزم رہے حوصلہ رہے اس دل کے ساتھ درد کا رشتہ سدا رہے اپنی انا کے ساتھ جیے کج ادا رہے اب اس کا کیا ملال کہ بے دست و پا رہے خود ساختہ خداؤں کا مجھ کو نہیں ہے خوف تیری نوازشوں کا بس اک سلسلہ رہے آداب دوستی سے تو واقف کبھی نہ تھے تہذیب دشمنی سے بھی نا آشنا رہے یہ بھی ہمارے ...

مزید پڑھیے

قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار

قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار چھری سی دل پہ چلی جب چلی ہوائے بہار کوئی تو جرعہ کش جام ارغوانی ہو کسی کو ہجر کے غم میں لہو رلائے بہار ہوا میں آج کل اک دھیمی دھیمی وحشت ہے اسی زمانے سے شاید ہے ابتدائے بہار نسیم صحن چمن میں پچھاڑیں کھاتی ہے تو دل کو اور بھی تڑپاتی ہے ادائے ...

مزید پڑھیے

آہ بیمار کارگر نہ ہوئی

آہ بیمار کارگر نہ ہوئی چرخ کانپا مگر سحر نہ ہوئی صبح محشر ہوئی شب تاریک صورت یار جلوہ گر نہ ہوئی شب امید کٹ گئی لیکن زندگی اپنی مختصر نہ ہوئی دور سے آج ان کو دیکھ لیا دل کو تسکیں ہوئی مگر نہ ہوئی آنکھوں آنکھوں میں لے لیا وعدہ کانوں کان ایک کو خبر نہ ہوئی اف ری چشم عتاب اف رے ...

مزید پڑھیے

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں

یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں صدمے دیے تو صبر کی دولت بھی دے گا وہ کس چیز کی کمی ہے سخی کے خزانے میں غربت کی موت بھی سبب ذکر خیر ہے گر ہم نہیں تو نام رہے گا زمانے میں دم بھر میں اب مریض کا قصہ تمام ہے کیونکر کہوں یہ رات کٹے گی فسانے ...

مزید پڑھیے

پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں

پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیں پہنچے نہ اڑتے اڑتے کہیں سے خبر کہیں کیفیت حیات سے خالی ہوا ہے دل او ساقیٔ ازل مرا پیمانہ بھر کہیں مر جائیں گے تڑپ کے اسیران بدنصیب سن پائیں گے جو مژدۂ وحشت اثر کہیں پھڑکا کیے مرقع عالم کے حسن پر ٹھہری کبھی نہ اہل ہوس کی نظر کہیں آخر حجاب و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 250 سے 4657