خلش ہے خواب ہے آدھی کہانی ہے
خلش ہے خواب ہے آدھی کہانی ہے
ہماری بات تو بس آنی جانی ہے
سمندر سے تمہیں وحشت ہے کیوں اتنی
اسے چھو کر تو دیکھو صرف پانی ہے
میں کچھ بھی پوچھ لوں کیا فرق پڑتا ہے
تمہیں تو بات ہی کوئی بنانی ہے
ذرا بتلاؤ تم کس کس سے ملتے ہو
تمہارے شہر میں کتنی گرانی ہے
تمہیں دنیا سے مطلب ہے مجھے تم سے
تو پھر یہ کس طرح کی ہم زبانی ہے
ہم اس پہلو سے بھی تو سوچ سکتے ہیں
ستارہ رات کی پہلی نشانی ہے
زمیں کو آتے جاتے موسموں سے کیا
اسے تو آگ مٹی سے بجھانی ہے
سبھی ہیں سرخ رو اپنی عدالت میں
کسی نے کب کسی کی بات مانی ہے