کیا غضب ہے یہ بلبل اک قہر سا ڈھاتے ہیں
کیا غضب ہے یہ بلبل اک قہر سا ڈھاتے ہیں ہجر میں وصالوں کے گیت گنگناتے ہیں ہم نے تیرے بسنے کو دل محل بنایا تھا اب ویران گھر کے دیوار و در کو ڈھاتے ہیں بادباں ہمارا جو آندھیوں میں کھلتا ہے ناخدا سفینے میں غرق خود کو پاتے ہیں اب کہاں سے دلبر کا میرے دل پہ جلوہ ہو آئینہ یہ دھندلا ہے ...