کیا ہوا ہم سے جو دنیا بد گماں ہونے لگی
کیا ہوا ہم سے جو دنیا بد گماں ہونے لگی اپنی ہستی اور بھی نزدیک جاں ہونے لگی دھیرے دھیرے سر میں آ کر بھر گیا برسوں کا شور رفتہ رفتہ آرزوئے دل دھواں ہونے لگی باغ سے آئے ہو میرا گھر بھی چل کر دیکھ لو اب بہاروں کے دنوں میں بھی خزاں ہونے لگی چند لوگوں کی فراغت شہر کا چہرہ نہیں یہ ...