شاعری

اب مری یاد کو دامن کی ہوائیں دینا

اب مری یاد کو دامن کی ہوائیں دینا میں گیا وقت ہوں مجھ کو نہ صدائیں دینا سخت بے جلوہ و بے نور ہیں لمحات فراق دل بہل جائے گا چہرے کی ضیائیں دینا ہجر کی پیاس سے جلتے ہیں بگولوں کے دہن خشک صحراؤں کو زلفوں کی گھٹائیں دینا یاد آتے ہیں جوانی کے جنوں خیز ایام مضطرب ہو کے بیاباں کو ...

مزید پڑھیے

عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو

عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو خواب سے اب نہ جگائے کوئی دیوانوں کو ان کو معلوم ہے رندوں کی تمنا کیا ہے عکس رخ ڈال کے بھر دیتے ہیں پیمانوں کو اے دل زار ادھر چل یہ تذبذب کیا ہے وہ تو آنکھوں پہ اٹھا لیتے ہیں مہمانوں کو ہو گئے صاف عیاں روح و بدن کے ناسور روشنی مار گئی آج کے ...

مزید پڑھیے

ہر آدمی کہاں اوج کمال تک پہنچا

ہر آدمی کہاں اوج کمال تک پہنچا عروج حد سے بڑھا تو زوال تک پہنچا خود اپنے آپ میں جھنجھلا کے رہ گیا آخر مرا جواب جب اس کے سوال تک پہنچا غبار کذب سے دھندلا رہا ہمیشہ جو وہ آئنہ مرے کب خد و خال تک پہنچا چلو نہ سر کو اٹھا کر غرور سے اپنا گرا ہے جو بھی بلندی سے ڈھال تک پہنچا جسے ...

مزید پڑھیے

دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے

دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے پیاسا رہا میں کتنے ہی منظر گزر گئے اس جیسا دوسرا نہ سمایا نگاہ میں کتنے حسین آنکھوں سے پیکر گزر گئے کچھ تیر میرے سینے میں پیوست ہو گئے کچھ تیر میرے سینے سے باہر گزر گئے آنسو بیان کرنے سے قاصر رہے جنہیں کیا کیا نہ زخم ذات کے اندر گزر گئے اک چوٹ دل ...

مزید پڑھیے

ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیں

ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیں دھار پر رکھے سب کے چہرے ہیں ریت کا ہم لباس پہنے ہیں اور ہوا کے سفر پہ نکلے ہیں میں نے اپنی زباں تو رکھ دی ہے دیکھوں پتھر یہ نم بھی ہوتے ہیں ایسے لوگوں سے ملنا جلنا ہے سانپ جو آستیں میں پالے ہیں کوئی پرساں نہیں غموں کا ظفرؔ دیکھنے میں ہزار رشتے ہیں

مزید پڑھیے

لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہے

لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہے ہر اک جانب مگر اندھا کنواں ہے ہے کوئی عکس رنگیں آئنہ پر جب ہی تو آئنہ میں کہکشاں ہے جدائی کا نہ قصہ وصل کا ہے ادھوری کس قدر یہ داستاں ہے کسی سے کوئی بھی ملتا نہیں اب ہر اک انساں یہاں تو بد گماں ہے نہیں کچھ بولتے ہیں جبر سہہ کر لگے ترشی ہوئی سب کی ...

مزید پڑھیے

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہے

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہے نا شناسا ہے تو پھر محرم پنہاں کیوں ہے ہجر کے دور میں ہر دور کو شامل کر لیں اس میں شامل یہی اک عمر گریزاں کیوں ہے آج کی شب تو بجھا رکھے ہیں یادوں کے چراغ آج کی شب مری پلکوں پہ چراغاں کیوں ہے اور بھی لوگ ہیں موجود بیابانوں میں دست وحشت میں فقط ...

مزید پڑھیے

وہ نہیں اس کی مگر جادوگری موجود ہے

وہ نہیں اس کی مگر جادوگری موجود ہے اک سحر آلود مجھ میں بے خودی موجود ہے صف بہ صف دشمن ہی دشمن ہیں مرے چاروں طرف حوصلہ دیکھو کہ پھر بھی زندگی موجود ہے بجھ گئی ہے بستیوں کی آگ اک مدت ہوئی ذہن میں لیکن ابھی تک شعلگی موجود ہے باد صرصر چل رہی ہے اور اس کے باوجود پھر بھی شمعوں میں ...

مزید پڑھیے

دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نے

دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نے شکست خواب کا اعلان کر دیا میں نے جو تیر آئے تھے اس کی طرف سے سینے پر سجا کے زخموں کا گلدان کر دیا میں نے غموں کا تاج مرے سر پہ جب سے رکھا ہے خود اپنے آپ کو سلطان کر دیا میں نے نہ کوئی پھول ہی رکھا نہ آرزو نہ چراغ تمام گھر کو بیابان کر دیا میں نے وہ ...

مزید پڑھیے

جو بے گھر ہیں انہیں گھر کی دعا دیتی ہیں دیواریں

جو بے گھر ہیں انہیں گھر کی دعا دیتی ہیں دیواریں پھر اپنے سائے میں ان کو سلا دیتی ہیں دیواریں اسیری ہی مقدر ہے تو کوئی کیا کرے آخر مقید کر کے اپنے میں سزا دیتی ہیں دیواریں ہماری زیست میں ایسے بھی لمحے آتے ہیں اکثر دراروں کے توسط سے ہوا دیتی ہیں دیواریں مری چیخیں فصیلوں سے کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 213 سے 4657