شاعری

ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے

ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہے حوصلہ ہو تو ظفر یاب بھی ہو سکتا ہے بپھری موجوں سے الجھنے کا سلیقہ ہے اگر یہ سمندر کبھی پایاب بھی ہو سکتا ہے عمر تپتے ہوئے صحرا میں بسر کی جس نے تو سرابوں سے وہ سیراب بھی ہو سکتا ہے آپ دریا کی روانی سے نہ الجھیں ہرگز تہہ میں اس کے کوئی گرداب بھی ...

مزید پڑھیے

زندگی کو کر گیا جنگل کوئی

زندگی کو کر گیا جنگل کوئی لے گیا خوشیوں کا میری پل کوئی دھنس رہا ہے ہر قدم میرا یہاں راہ میں درپیش ہے دلدل کوئی کوئی کنکر پھینکنے والا نہیں کیسے پھر ہو جھیل میں ہلچل کوئی زندگی تھی ایک صحرا کی طرح زندگی کو کر گیا جل تھل کوئی ہوش بھی اپنا نہیں رہتا مجھے کر رہا کتنا ظفرؔ پاگل ...

مزید پڑھیے

پائی ہمیشہ ریت بھنور کاٹنے کے بعد

پائی ہمیشہ ریت بھنور کاٹنے کے بعد تشنہ لبی کا لمبا سفر کاٹنے کے بعد کچھ ایسے کم نظر بھی مسافر ہمیں ملے جو سایہ ڈھونڈتے ہیں شجر کاٹنے کے بعد فن کی ہمارے آج بھی شہرت ہے ہر طرف وہ مطمئن تھا دست ہنر کاٹنے کے بعد اتری ہوئی ہے دھوپ بدن کے حصار میں قربت کے فاصلوں کا سفر کاٹنے کے ...

مزید پڑھیے

سر بریدہ ہوا مقابل ہے

سر بریدہ ہوا مقابل ہے سب کی آنکھوں میں خوف شامل ہے تھا محافظ کبھی یہی انساں آج انسانیت کا قاتل ہے بستیاں پھونکنا جلانا گھر کیا یہی آدمی کا حامل ہے وقت کب اس کا ساتھ دیتا ہے روز فردا سے جو کہ غافل ہے جس نے بخشا تھا زندگی کو فروغ اب وہ دہشت گروں میں شامل ہے

مزید پڑھیے

چمکا جو تیرگی میں اجالا بکھر گیا

چمکا جو تیرگی میں اجالا بکھر گیا ننھا سا ایک جگنو بڑا کام کر گیا وہ نیند کے سفر میں تو مخمور تھا بہت آنکھیں کھلیں تو خواب کے منظر سے ڈر گیا آنسو تھے اس قدر مری چشم ملال میں ہر گوشہ گوشہ شہر کا اشکوں سے بھر گیا پھیلی ہوئی ہے چاندنی احساس میں مرے یہ کون میری ذات کے اندر اتر ...

مزید پڑھیے

رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے

رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے پیاس بجھتی ہے میری صحرا سے ہے مسائل سے اب وہی الجھا رشتہ جوڑا ہے جس نے دنیا سے خوشیاں امروز کی وہ پاتا ہے جو کہ غافل نہیں ہے فردا سے جس کو حاصل تھیں نعمتیں ساری اب ہے محروم آب و دانہ سے ہے خدا کی نظر میں عالی وہی خوش دلی سے جو ملتا ادنیٰ سے تھی جسے ...

مزید پڑھیے

زندگی کو شعبدہ سمجھا تھا میں

زندگی کو شعبدہ سمجھا تھا میں پتھروں کو آئنہ سمجھا تھا میں دھوپ کی یورش تھی ہر اک سمت سے سایۂ دیوار سے لپٹا تھا میں آئینے ہی آئینے تھے ہر طرف پھر بھی اپنے آپ میں تنہا تھا میں حادثوں سے کھیلنے کے باوجود آج بھی ویسا ہوں کل جیسا تھا میں روز زخمی ہوتا تھا میرا بدن پتھروں کے شہر میں ...

مزید پڑھیے

صحرا کا سفر تھا تو شجر کیوں نہیں آیا

صحرا کا سفر تھا تو شجر کیوں نہیں آیا مانگی تھیں دعائیں تو اثر کیوں نہیں آیا دیکھا تھا جسے ہم نے کبھی شوق طلب میں مہتاب سا وہ چہرہ نظر کیوں نہیں آیا ہم لوگ تو مرتے رہے قسطوں میں ہمیشہ پھر بھی ہمیں جینے کا ہنر کیوں نہیں آیا لگتا ہے مقدر میں مرے سایہ نہیں ہے مدت سے سفر میں ہوں تو ...

مزید پڑھیے

آئنہ دیکھیں نہ ہم عکس ہی اپنا دیکھیں

آئنہ دیکھیں نہ ہم عکس ہی اپنا دیکھیں جب بھی دیکھیں تو ہم اپنے کو اکیلا دیکھیں موم کے لوگ کڑی دھوپ میں آ بیٹھے ہیں آؤ اب ان کے پگھلنے کا تماشا دیکھیں تب یہ احساس ہمیں ہوگا کہ یہ خواب ہے سب بند آنکھوں کو کریں خواب کی دنیا دیکھیں بات کرتے ہیں تو نشتر سا اتر جاتا ہے اب وہ لہجے کی ...

مزید پڑھیے

جس روز سے اپنا مجھے ادراک ہوا ہے

جس روز سے اپنا مجھے ادراک ہوا ہے ہر لمحہ مری زیست کا سفاک ہوا ہے گھر سے تو نکل آئے ہو سوچا نہیں کچھ بھی اب سوچ رہے ہو جو بدن چاک ہوا ہے تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم و حیا کچھ کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے گزرا ہے کوئی سانحہ بستی میں ہماری ہر شخص کا چہرہ یہاں غم ناک ہوا ہے افتاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 214 سے 4657