شاعری

اہل دل ملتے نہیں اہل نظر ملتے نہیں

اہل دل ملتے نہیں اہل نظر ملتے نہیں ظلمت دوراں میں خورشید سحر ملتے نہیں منزلوں کی جستجو کا تذکرہ بے سود ہے ڈھونڈنے نکلو تو اب اپنے ہی گھر ملتے نہیں آدمی ٹکڑوں کی صورت میں ہوا ہے منتشر وحدت فکر و نظر والے بشر ملتے نہیں راستے روشن ہیں آثار سفر معدوم ہیں بستیاں موجود ہیں دیوار و ...

مزید پڑھیے

مرنا عذاب تھا کبھی جینا عذاب تھا

مرنا عذاب تھا کبھی جینا عذاب تھا میرا مشیر عشق سا خانہ خراب تھا دل مر مٹا تلاوت رخسار یار میں مرحوم طفلگی سے ہی اہل کتاب تھا سوچا تو اس حبیب کو پایا قریب جاں دیکھا تو آستیں میں چھپا آفتاب تھا وہ بارگاہ میری وفا کا جواز تھی اس آستاں کی خاک مرا ہی شباب تھا میری ہر ایک صبح تھی ...

مزید پڑھیے

آندھیاں اٹھیں فضائیں دور تک کجلا گئیں

آندھیاں اٹھیں فضائیں دور تک کجلا گئیں اتفاقاً دو چراغوں کی لویں ٹکرا گئیں آہ یہ مہکی ہوئی شامیں یہ لوگوں کے ہجوم دل کو کچھ بیتی ہوئی تنہائیاں یاد آ گئیں اس فضا میں سرسراتی ہیں ہزاروں بجلیاں اس فضا میں کیسی کیسی صورتیں سنولا گئیں اے خزاں والو! خزاں والو! کوئی سوچو علاج یہ ...

مزید پڑھیے

عشق اک حکایت ہے سرفروش دنیا کی

عشق اک حکایت ہے سرفروش دنیا کی ہجر اک مسافت ہے بے نگار صحرا کی ان کے روبرو نکلے نطق و لفظ بے معنی بات ہی عجب لیکن خامشی نے پیدا کی وقت کے تسلسل میں ہم بہ رنگ شعلہ تھے عمر یک نفس میں بھی روشنی تھے دنیا کی ہم کو سہل انگاری غرق کر چکی ہوتی ہمت آفریں نکلی لہر لہر دریا کی یوں تو وہ ...

مزید پڑھیے

فرض برسوں کی عبادت کا ادا ہو جیسے

فرض برسوں کی عبادت کا ادا ہو جیسے بت کو یوں پوج رہے ہیں کہ خدا ہو جیسے ایک پر پیچ غنا ایک حریری نغمہ ہائے وہ حسن کہ جنگل کی صدا ہو جیسے عشق یوں وادئ ہجراں میں ہوا محو خرام خارزاروں میں کوئی آبلہ پا ہو جیسے عارضوں پر وہ ترے تابش پیمان وفا چاندنی رات کے چہرے پہ حیا ہو جیسے اس طرح ...

مزید پڑھیے

کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے

کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے جھکنا ہی پڑا اس بت بدنام کے آگے اک اور بھی حسرت ہے پس حسرت دیدار اک اور بھی آغاز ہے انجام کے آگے آ اور ادھر کوئی تجلی کی کرن پھینک بیٹھے ہیں گدا تیرے در و بام کے آگے یہ عشق ہے بازیچۂ اطفال نہیں ہے کچھ اور بھی ہے کوچۂ اصنام کے آگے یوں ان کی جفاؤں ...

مزید پڑھیے

عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو

عارض شمع پہ نیند آ گئی پروانوں کو خواب سے اب نہ جگائے کوئی دیوانوں کو ان کو معلوم ہے رندوں کی تمنا کیا ہے عکس رخ ڈال کے بھر دیتے ہیں پیمانوں کو اے دل زار ادھر چل یہ تذبذب کیا ہے وہ تو آنکھوں پہ اٹھا لیتے ہیں مہمانوں کو وہ بھی متلاشیٔ یک جلوۂ گم گشتہ ہیں ہم نے نزدیک سے دیکھا ہے ...

مزید پڑھیے

موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے

موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے گل بوٹوں کے رنگ اور نقشے اب تو یوں ہی مٹ جائیں گے ہم کہ فروغ صبح چمن تھے پابند فتراک ہوئے مہر تغیر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا صدیوں کے افتادہ ذرے ہم دوش افلاک ہوئے دل کے غم نے درد جہاں سے مل کے ...

مزید پڑھیے

طلب آسودگی کی عرصۂ دنیا میں رکھتے ہیں

طلب آسودگی کی عرصۂ دنیا میں رکھتے ہیں امید فصل گل ہے اور قدم صحرا میں رکھتے ہیں ہوئے ہیں اس قدر مانوس ہم پیمان فردا سے کہ اب دل کا سفینہ ہجر کے دریا میں رکھتے ہیں بشر کو دیکھیے با ایں ہمہ ساحل پہ مرتا ہے حباب اپنا اثاثہ سیل بے پروا میں رکھتے ہیں ہمارے پاس کوئی گردش دوراں نہیں ...

مزید پڑھیے

ہم راہ لطف چشم گریزاں بھی آئے گی

ہم راہ لطف چشم گریزاں بھی آئے گی وہ آئیں گے تو گردش دوراں بھی آئے گی نکلے گی بوئے زلف ہماری تلاش میں صحرا میں اب ہوائے گلستاں بھی آئے گی وہ جن کو اپنے ترک تعلق پہ ناز تھا آج ان کو یاد صحبت یاراں بھی آئے گی ہم خود ہی بے لباس رہے اس خیال سے وحشت بڑھی تو سوئے گریباں بھی آئے گی طے ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 212 سے 4657