شاعری

میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا

میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا یوں راہ زندگی میں سہارا نہیں رہا فرقت میں اس کی صبر و تحمل تھا عشق میں وہ آ گیا تو ضبط کا یارا نہیں رہا ہر لحظہ شوق حسن میں یہ بیقرار ہے اب میرا دل کے ساتھ گزارا نہیں رہا میں اضطراب عشق میں حد سے گزر گیا ایسا مرض بڑھا ہے کہ چارہ نہیں رہا محفل سے ...

مزید پڑھیے

میرے قبضے میں لب کشائی ہے

میرے قبضے میں لب کشائی ہے اب اسیری نہیں رہائی ہے باب گلشن کھلا جو اس سے ملے گل صد برگ آشنائی ہے اک مسلسل سفر میں رہتا ہوں مجھ کو شوق شکستہ پائی ہے ذکر اس کا رہے گا محشر تک جس نے آواز حق سنائی ہے ان کا دامن بھی آج تر دیکھا وہ جنہیں زعم پارسائی ہے منزلوں پر پہنچ کے رک جانا وجہ ...

مزید پڑھیے

گو مبتلائے گردش شام و سحر ہوں میں

گو مبتلائے گردش شام و سحر ہوں میں پھر بھی دیار عشق میں چیز دگر ہوں میں میں چاہتا ہوں جس کو وہ دلبر تم ہی تو ہو تم ڈھونڈتے ہو جس کو وہ اہل نظر ہوں میں پیر حرم کا قول ہے میں شب گزیدہ ہوں پیر مغاں کی رائے میں نور سحر ہوں میں اہل چمن کی کشمکش روزگار کی تاریکیٔ حیات میں مثل قمر ہوں ...

مزید پڑھیے

تابش چشم تر میں رہتے ہیں

تابش چشم تر میں رہتے ہیں عکس دیوار و در میں رہتے ہیں دفن ہو کر بھی جان سے پیارے دل کے ویراں نگر میں رہتے ہیں منزلوں سے نکل کے آگے ہم یاد کی رہ گزر میں رہتے ہیں کارواں کب ہمارے ساتھ رہا ہم تو تنہا سفر میں رہتے ہیں ان سے بار دگر نہیں نسبت وہ جو بار دگر میں رہتے ہیں کیوں مسیحا کا ...

مزید پڑھیے

سیمیں بدن ہے وہ نہ گل نسترن ہے وہ

سیمیں بدن ہے وہ نہ گل نسترن ہے وہ پھر بھی ہمارے واسطے جان سخن ہے وہ جادو خیال آفریں دل دار و دل نشیں گلدستۂ بہار ہے سرو و سمن ہے وہ موسم سے ماورا ہے مرا پیکر خیال جس حال میں ہو اپنے لئے اک چمن ہے وہ روشن رکھا ہے مجھ کو اسی کے خیال نے تاریکیوں کے دشت میں لرزاں کرن ہے وہ چشم غزل سے ...

مزید پڑھیے

میں خود کو آزمانا چاہتا ہوں

میں خود کو آزمانا چاہتا ہوں ہوا پر آشیانہ چاہتا ہوں جو ہمت ہے تو میرے ساتھ آؤ افق کے پار جانا چاہتا ہوں جو منت کش نہیں ہیں بال و پر کے پرندے وہ اڑانا چاہتا ہوں نگوں کر دے جو طوفانوں کا سر بھی چراغ ایسا جلانا چاہتا ہوں سکوں بخشے جو ہر آشفتہ سر کو غزل ایسی سنانا چاہتا ہوں نظر آ ...

مزید پڑھیے

بہت ویرانیاں ہوتے ہوئے آباد ہو جانا

بہت ویرانیاں ہوتے ہوئے آباد ہو جانا کرشمہ ہے دل ناشاد کا یوں شاد ہو جانا کوئی حالت نہیں رہتی ہے یکساں دیدہ و دل میں کبھی زنجیر ہو جانا کبھی آزاد ہو جانا بڑی بے انت ہمت چاہئے راہ محبت میں یہ ظاہر یوں کوئی مشکل نہیں فریاد ہو جانا اگر بے سود ہو سب آہ و زاری سامنے اس کے تو پھر خاموش ...

مزید پڑھیے

فکر انگیز انتشار میں ہیں

فکر انگیز انتشار میں ہیں جب سے ہم میرؔ کے دیار میں ہیں خود سے بے باک گفتگو کر کے ایک اک لفظ کے حصار میں ہیں عکس کے ساتھ آئنے بولیں ایسے لمحے کے انتظار میں ہیں کون ان کا شمار جانے ہے کتنے دریا جو آبشار میں ہیں اب کوئی کس کا احتساب کرے جب سبھی ایک ہی قطار میں ہیں ان کو لطف خزاں ...

مزید پڑھیے

دل کی ہر بات نئی چاہتا ہے

دل کی ہر بات نئی چاہتا ہے یعنی تنہا سفری چاہتا ہے جس کو منزل کی تمنا ہی نہیں صرف بے راہروی چاہتا ہے اپنے ہمسائے کی خاطر یہ دل گھر کی دیوار گری چاہتا ہے تنگ اتنا ہوا آسائش سے پھر سے وہ در بدری چاہتا ہے جس کے قبضے میں ہے شہرت ساری بس وہی اپنی نفی چاہتا ہے بے خودی کا ہے یہ عالم کہ ...

مزید پڑھیے

انداز زمانے کا ویسا ہی رہا پھر بھی (ردیف .. ب)

انداز زمانے کا ویسا ہی رہا پھر بھی سو بار سنایا اور سو بار کہا صاحب دنیا سے شکایت کیا اور تم سے گلہ کیسا الزام ہی ملنا تھا انعام وفا صاحب افتاد پہ انساں کی خاموش ہوئے انساں ایسے میں تو یاد آیا بس اپنا خدا صاحب حالات کی دھوپ اپنا یوں رنگ اڑا دے گی مٹ جاتا ہے سب جیسے پانی پہ لکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 196 سے 4657