میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا
میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا یوں راہ زندگی میں سہارا نہیں رہا فرقت میں اس کی صبر و تحمل تھا عشق میں وہ آ گیا تو ضبط کا یارا نہیں رہا ہر لحظہ شوق حسن میں یہ بیقرار ہے اب میرا دل کے ساتھ گزارا نہیں رہا میں اضطراب عشق میں حد سے گزر گیا ایسا مرض بڑھا ہے کہ چارہ نہیں رہا محفل سے ...